دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مشرق وسطی میں جنگ کے بلند ہوتے شعلے
سید مجاہد علی
سید مجاہد علی
علی الصبح اسرائیل پر حماس کے اچانک حملے میں ایک سو کے لگ بھگ اسرائیلی فوجی اور شہری مارے گئے ہیں۔ جوابی کارروائی میں اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر بمباری کی ہے جس میں 200 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ دونوں طرف سے سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ حماس کا حملہ اچانک اور شدید تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی کی تاریخ میں اس سے پہلے فلسطینیوں کی جانب سے ایسا خوفناک حملہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ طرفین طویل اور سنگین جنگ کی وارننگ دے رہے ہیں۔

حماس نے اسرائیل پر ہر طرف سے حملہ کیا۔ صبح کئی ہزار راکٹ اسرائیل کے مختلف شہروں پر داغے گئے۔ اسرائیلی فوج اور حکام اس صورت حال سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے تھے تو بری، بحری اور فضائی راستوں سے نامعلوم تعداد میں فلسطینی جنگجو اسرائیل کے مختلف شہروں میں داخل ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ کم از کم تین فوجی ٹھکانوں پر فلسطینیوں نے حملہ کیا ہے اور انہیں پسپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حملے کے آغاز میں ہی حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوجی ساز و سامان پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان میں بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک بھی شامل ہیں۔ غزہ کی گلیوں میں اسرائیلی ٹینکوں کی نمائش کے دوران شہریوں نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ ابھی تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس نے نامعلوم تعداد میں اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو بھی حراست میں لیا ہے اور انہیں غزہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم کسی طرف سے ابھی تک یرغمال بنائے گئے افراد کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

حماس کے فوجی ونگ کے رہنما محمد دیف نے ریڈیو پر ایک بیان میں اعلان کیا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب بہت ہو چکا ہے۔ ہم آپریشن طوفان الاقصی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی حملے میں دشمن کی پوزیشنوں، ہوائی اڈوں اور تنصیبات پر پانچ ہزار راکٹ فائر کیے ہیں۔ اب بہت ہو چکا۔ ہم سب کو اس جنگ میں شامل ہوجانا چاہیے اور ہر فلسطینی دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو جائے‘ ۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’ہم حالتِ جنگ میں ہیں‘ ۔ اسرائیل کے وزیر دفاع یواؤ گیلنٹ نے کہا ہے کہ ’حماس نے ایک سنگین غلطی کی ہے۔ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اسرائیلی ریاست یہ جنگ جیتے گی اور دشمن کو ناقابل یقین نقصان اٹھانا پڑے گا‘ ۔

اسرائیلی حکومت نے حملہ کے فوری بعد اعلیٰ سکیورٹی اداروں اور عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا اور حماس کے حملے کا فوری اور سخت جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق اسرائیل نے ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کر لیا ہے اور غزہ پر زمینی حملہ کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیلی حکومت کے لیے یرغمال بنائے گئے فوجیوں اور شہریوں کی واپسی اہم ترین معاملہ ہے۔ وہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ البتہ کوئی ماہر بھی یہ اندازہ کرنے سے قاصر تھا کہ یہ جنگ کیا شکل اختیار کرے گی اور کیا اسرائیل اس جنگ کو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی تک توسیع دے سکتا ہے۔ ایران اور حزب اللہ کھل کر حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اپنی بدحواسی میں ایران پر فضائی حملہ بھی کر سکتا ہے۔ ایسی کوئی کارروائی جنگ میں غیر متوقع طوالت اور شدت کا سبب بن سکتی ہے۔

فی الوقت اسرائیلی حکومت اور فوجی لیڈر اس حیرت پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حماس کے حملہ کے بارے میں انہیں انٹیلی جنس معلومات کیوں حاصل نہیں ہو سکیں۔ یہی سوال امریکی خفیہ اداروں سے پوچھا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے علاوہ امریکہ بھی فلسطینیوں کی نگرانی کے لئے جاسوسی کے متعدد ذرائع استعمال کرتا ہے جن میں فلسطینی علاقوں میں ایجنٹوں کی موجودگی بھی شامل ہے۔ اس لئے ایک طرف حماس کے حملہ کی شدت اور اس سے ہونے والے نقصان پر برہمی اور غم و غصہ سامنے آیا ہے تو دوسری طرف اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کی ناکامی پر سنجیدہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ رات گئے تک اسرائیلی سرزمین پر لڑائی ہو رہی تھی اور اسرائیلی فوج فلسطینی حملہ آوروں کو پسپا کرنے یا اپنے متاثرہ شہریوں کو مکمل حفاظتی حصار میں لینے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ اسرائیلی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔

کسی کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ جنگ کیا رخ اختیار کرے گی تاہم کسی کو اس بارے میں بھی شبہ نہیں ہے کہ یہ جنگ طویل اور خوں ریز ہوگی۔ اسرائیل اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے اور اپنی بھاری بھر کم فوجی طاقت کو فلسطینی شہریوں کو ہلاک و ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ تاہم حماس کی طرف سے حتمی اور بڑی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ فلسطینی شہری اسرائیل کے مسلسل قبضے، جبر اور فوجی دہشت گردی سے عاجز آچکے ہیں۔ اور وہ اب اپنی آزادی کے لئے کوئی بھی قربانی دینے پر تیار ہیں۔ اسرائیل نے مسلسل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسانے کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے اور یہودی آباد کار موقع بے موقع فلسطینیوں پر حملے کر کے انہیں ہلاک کرتے رہتے ہیں۔ ایک روز پہلے ہی ایک 19 سالہ فلسطینی نوجوان ایسے ہی ایک حملے میں جان بحق ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ اسرائیل تمام تر عالمی کوششوں کے باوجود دو ریاستی حل کی طرف پیش قدمی پر آمادہ نہیں ہے۔ اس نے 2005 سے غزہ کا سمندری بلاکیڈ کیا ہوا ہے اور زمینی سرحد پر سخت کنٹرول کے ذریعے وہاں رہنے والے فلسطینیوں کو عملی طور سے قید کیا ہوا ہے۔


غزہ کا رقبہ 365 مربع کلو میٹر پر محیط ہے اور 2017 کی مردم شماری کے مطابق وہاں 6 لاکھ فلسطینی رہتے تھے۔ اسرائیلی بلاکیڈ کی وجہ سے یہ لوگ عام طور سے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور انہیں روزمرہ زندگی میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ اسرائیل فلسطین تنازعہ کی وجہ سے پچاس لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی پناہ گزین دنیا بھر میں دربدر ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی کے قریب اقوام متحدہ کے قائم کیے ہوئے 58 کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ کیمپ اردن، لبنان اور شام کے علاقوں میں قائم ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام مغربی کنارے پر تیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ البتہ انہیں بھی اسرائیل جبر و زیادتی کا سامنا رہتا ہے۔ فلسطینی لیڈروں کی مسلسل کوششوں اور امریکہ و دیگر عالمی طاقتوں کے اصرار کے باوجود اسرائیل خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ بلکہ مقبوضہ علاقوں پر یہودی آبادیوں کے ذریعے تنازعہ اور تصادم میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔

یہ سوال متعدد ماہرین کے لیے حیرت کا سبب ہے کہ حماس اس وقت اسرائیل پر شدید حملہ سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا ایک جواب تو خود حماس کی جانب سے حملہ کرتے ہوئے دیا گیا ہے کہ اب اسرائیلی جبر برداشت سے باہر ہو چکا ہے اور فلسطینی نوجوان مرنے یا مار دینے پر اتر آئے ہیں۔ البتہ جذباتی اور جنگی جذبات کو انگیختہ کرنے والے اس بیان کی روشنی میں اگر حماس کی حکمت عملی کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو وہ کم از کم ایک بار پھر فلسطین کو عالمی ایجنڈے پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آٹھ نو لاکھ فلسطینی باشندوں کی مشکل اور بے وطنی کے باوجود گزشتہ سات دہائیوں میں اقوام عالم اس مسئلہ کو کوئی منصفانہ اور پرامن حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ بلکہ فلسطین کا سوال اہم عالمی مشاورت میں بھی ثانوی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ البتہ حماس کے حملہ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اگر دنیا کی بڑی طاقتیں اس معاملہ پر مسلسل خاموش رہیں اور اسرائیل کی سرپرستی کرتے ہوئے محض طفل تسلی کے لیے فلسطین کا ذکر کیا جاتا رہا تو فلسطینی باشندوں کے دلوں میں لگی آگ دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

حالیہ برسوں میں متعدد عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور اس کے ساتھ سفارتی و تجارتی مراسم استوار کیے ہیں۔ اس کے عوض اسرائیل سے کوئی خاص رعایت بھی حاصل نہیں کی گئی اور فلسطین کا مسئلہ بھی جوں کا توں رہا ہے۔ حتی کہ کوئی عرب ملک اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ بند کرنے کا وعدہ لینے میں بھی ناکام رہا ہے۔ اب امریکہ کی سرپرستی میں سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے امریکی ضمانت ملنے کی صورت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے پر راضی ہے۔ ان معلومات میں کہیں یہ اشارہ نہیں دیا گیا کہ سعودی عرب، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے سے پہلے فلسطینی ریاست کے قیام کا حتمی معاہدہ بھی یقینی بنائے گا۔

حماس کو ایران کی مکمل اعانت و حمایت حاصل ہے لیکن فلسطینی لیڈر یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تو فلسطین کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ ان کی آنے والی نسلیں مسلسل اسرائیل کی غلامی میں پروان چڑھیں گی۔ حماس کے حملہ اور اسرائیل کے شدید رد عمل کے بعد سعودی عرب کے لیے شاید اسرائیل کے ساتھ کسی سفارتی معاہدے کی طرف بڑھنا آسان نہیں رہے گا۔ اس حملہ کو اگر سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلق میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کے طور پر سمجھا جائے تو علاقائی اور عالمی سفارت کاری کے کئی پہلو سامنے آسکتے ہیں۔

(بشکریہ کاروان ناروے)
واپس کریں