دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
منگلا پاور سٹیشن کی تقریب میں وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کا انوکھا واقعہ
اطہرمسعود وانی
اطہرمسعود وانی
1967میں بجلی کی پیداوار شروع کرنے والے منگلا ڈیم کے بجلی گھر میں نصب پچاس سال پرانی مشینری تبدیل کر کے نئی مشینری نصب کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔۔مجموعی طور پر 483 ملین ڈالر کی لاگت سے جاری اس منصوبے میں یو ایس ایڈ کی طرف سے 150 ملین ڈالر کی گرانٹ، 90 ملین یورو کا اے ایف ڈی لون اور واپڈا کی طرف سے 178 ملین ڈالر فراہم کئے جا رہے ہیں۔ منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی 10 میں سے 6 یونٹس کی ریفربشمنٹ پر تقریبا 90 فیصد کام مکمل ہو چکاہے ۔یفربشمنٹ منصوبے کی مکمل تکمیل کے بعد منگلا بجلی گھر کی استعداد 1000 میگاواٹ سے بڑھ کر 1310 میگاواٹ ہو جائے گی جس کے نتیجے میں سالانہ 5.6 بلین یونٹ صاف، ماحول دوست اور کم لاگت بجلی پیدا کی جائے گی۔منگلاپاور سٹیشن کے دس یونٹ ہیں اور ہر یونٹ کی گنجائش100mwہے۔ساتوں ،آٹھواں یونٹ1981اور نواں و دسواں یونٹ 1992میں لگایا گیا۔حکومت نے2004 میں ڈیم کی گنجائش494فٹ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تا کہ ڈیم میں پانی کی گنجائش میں18فیصد اضافہ ہو اور 120 میگا واٹ اضافی بجلی پیدا ہو سکے۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے منگلا پاور سٹیشن کے یونٹ 5اور 6 کے ریفریشمنٹ منصوبے کا افتتاح کیا اور اس موقع پر ایک تقریب سے خطاب کیا۔واپڈا کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب سے امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم ،جنرل الیکٹرک ہائیڈرو فرانس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ،چیئرمین واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ،واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سجاد غنی نے بھی خطاب کیا۔تقریب سے وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریر کے دوران اس وقت عجیب صورتحال پیدا ہو گئی کہ جب تقریب کے شرکاء کی پہلی صف میں بیٹھے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم تنویر الیاس اپنی نشست پہ کھڑے ہو گئے اور کچھ بولنا شروع کر دیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بیٹھنے کو کہا لیکن وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس مسلسل بولتے رہے۔اس پر وز یر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہاں اس پہ ہم بیٹھ کر بات کریں گے لیکن تنویر الیاس مسلسل بولتے رہے۔ اس پہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ذرا سخت لہجے میں انہیں بیٹھنے کو کہا۔یہ مناظر نجی ٹی وی چینلز سے بھی دکھائے گئے۔

تقریب کے بعد وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس نے میر پور میں ہنگامی پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہیں واپڈا کی اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا تھا ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ مدعو نہ کئے جانے کی وجہ سے انہیں تقریب میں شرکت نہیں کرنا چاہئے لیکن اس کے باوجود انہوں نے تقریب میں شرکت کا فیصلہ کیا۔انہو ں نے بتایا کہانہیں واپڈا کے افراد نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کرنے کے لئے ہیلی پیڈ جانے سے روک دیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ پاور سٹیشن چلے جائیں۔وزیر اعظم تنویر الیاس نے مزید کہا کہ جب وہ قطار میں کھڑے ہوئے تو وزیر اعظم پاکستان کے سیکورٹی عملے نے دھکے دیئے۔وزیر اعظم تنویر الیاس نے کہا کہ وہ بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیوں کی وجہ سے تھکے ہوئے تھے اور انہوں نے مدعو نہ کئے جانے کے باوجود تقریب میں شرکت کا فیصلہ کیا کہ شاید اس سے علاقے کے عوام کا کچھ بھلا ہو جائے۔وزیر اعظم تنویر الیاس نے تقریب میں مدعو نہ کرنے، تقریر کرنے کا موقع نہ دیئے جانے اور ناروا سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف سخت جملوں کا استعمال کیا۔

حکومت پاکستان کی طرف سے وزیر اعظم شہباز شریف کی منصوبے کے افتتاح کی جاری تصویر میں وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے ساتھ کھڑے تھے۔ اسی طرح وزیر اعظم آزادکشمیر اور ان کے پرنسپل سیکرٹری تقریب میں پہلی صف میں بیٹھے تھے۔وزیر اعظم تنویر الیاس تحریک انصاف کی آزاد کشمیر شاخ کے صدر ہیں اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ایک بڑے فنانسر بھی ہیں۔آزاد کشمیر میں اتحادی اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف حکومت کے وزیر اعظم تنویر الیاس کے خلا ف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاری میں ہیں۔

آزاد کشمیر حکومت اور واپڈ اکے درمیان طویل عرصے سے منگلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کے نیٹ پرافٹ کی رائیلٹی کا تنازعہ چلا آ رہاہے۔واپڈا کے بقول منگلا کا پاور سٹیشن پاکستان کی حدود میں ہے جس کی وجہ سے آزاد کشمیر حکومت کا اس پہ حق نہیں بنتا جبکہ کوئی بھی آسانی سے یہ دیکھ سکتا ہے کہ منگلا پاور سٹیشن آزاد کشمیر کی حدود میں قائم ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی دیگر امور آزاد کشمیر حکومت اور واپڈا کے درمیان تنازعہ کی صورت حل طلب ہیں۔اس امور کے علاوہ واپڈا حکام ، افسران کا آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ توہین آمیز روئیہ بھی ایک عمومی درپیش صورتحال ہے۔

آزاد کشمیر کے ریاستی امور و حقوق سے متعلق امور میں آزاد کشمیر کے سیاسی رہنمائوں کی کمزوری بھی ایک مسئلے کے طور پر درپیش معاملہ ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کی سیاسی قیادتیں ، پاکستا ن میں موجود اپنی حمایت والی حکومتوں کے باوجود خطے کے امور و مسائل ، کشمیر کاز سے متعلق مضبوط وکالت کرنے، سٹینڈ لینے کے بجائے مدح سرائی اور خوشامدی روئیہ اپناتے نظر آتے ہیں۔آزاد کشمیر کے سیاسی رہنما اپنے مفادات پہ تو پورا پورا پہرہ دیتے ہیں لیکن خطے کے امور پر ان کی کمزوری کھل کر سامنے آ چکی ہے۔عشروں پہلے ایک وقت وہ تھا کہ جب آزاد کشمیر کے سیاسی رہنمائوں کا پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میںو سیع پیمانے پہ احترام پایا جاتا تھا کیونکہ آزاد کشمیر کی سیاست پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی باہمی اختلافی سیاست میں فریق نہیں تھیں۔لیکن اب وہ بات نہیں رہی، مخالف تو مخالف اتحادی جماعتوں میں بھی آزاد کشمیر سیاسی رہنمائوں کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو کشمیر کاز کی موثر وکالت کی صورت ان کو حاصل ہو سکتا تھا۔ یہاں اس بات کی ضرورت ایک بار پھر شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر کے سیاسی رہنما اپنی کمزور حیثیت سے خطے اور اس کے لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات اور بے توقیری کی صورتحال کا احساس کرتے ہوئے اپنی مفاداتی ترجیحات تبدیل کر یں۔


اطہر مسعود وانی
03335176429




واپس کریں