دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
190ملین پائونڈ سیکنڈل
عمرفاروق۔آگہی
عمرفاروق۔آگہی
اس سیکنڈل کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جانناضروری ہے کہ عمران خان اورالقادریونیورسٹی کاکیاتعلق ہے،ملک ریاض اور سپریم کورٹ اف پاکستان میں کیاسٹیلمنٹ ہوئی ،ملک ریاض اور نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کاکیامعاملہ ہوا،عمران خان نے کابینہ سے بندلفافے میں کیامنظورکروایا،القادریونیورسٹی کی زمین کس طرح حاصل کی گئی ،60ارب روپے کی کیا کہانی ہے۔نومئی کے سانحہ اورالقادرٹرسٹ کیس کاآپس میں کیاتعلق ہے اورملک ریاض اوورعمران خان اس مقدمے سے کیوں فرارہورہے ہیں ؟ عمران خان اور القادر یونیورسٹی ، 2019 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا۔معروف روحانی بزرگ سید عبدالقادر جیلانی کے نام پریونیورسٹی کانام رکھا گیا، القادر یونیورسٹی کے انتظامات چلانے کے لیے القادر ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ عمران نیازی ،بشری بی بی،بابراعوان اور زلفی بخاری اس پراجیکٹ کے ٹرسٹیز میں شامل کیے گئے بعدازاں زلفی بخاری اوربابراعوان اس ٹرسٹ سے الگ ہوگئے یاالگ کردیئے گئے۔

یہ ٹرسٹ اس وقت قائم کیا گیا جب عمران خان نے کابینہ سے ایک بند لفافے کے اندر سمری کی منظوری لی تھی۔ اس بند لفافے میں کیا تھا وہ آگے جاکر بتاتا ہوں، لیکن یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کے لیے القادر ٹرسٹ کو 458 کنال کی زمین بحریہ ٹاون نے دی۔سوہاوہ میںاس اراضی کامعاہدہ بحریہ ٹاون اور عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے درمیان ہوا تھا۔اس زمین کی مالیت کاغذات میں 93کروڑ روپے جبکہ اصل قیمت پانچ سے 10گنا زیادہ تھی ۔جون2022 میں پی ڈی ایم کی حکومت نے انکشاف کیا کہ عمران خان اور بشری بی بی نے بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کے ساتھ ساز باز کر کے ان کو 60ارب روپے کی غیرقانونی رقم کو قانون شکل دی اور اس کے بدلے 450 کنال کی مذکورہ زمین حاصل کی۔

ملک ریاض اورسپریم کورٹ کے درمیان سٹیلمنٹ ، 2018میں بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک کیس لگا جس میں ان کے اوپر الزام تھا کہ بحریہ ٹاون کراچی نے ہزاروں کنال کی زمین غیر قانونی طور پر منتقل کی ہے۔جس میں سرکاری اورغیرسرکاری اراضی شامل تھی اورپولیس ودیگرقبضہ گروپوں کے ذریعے یہ زمین حاصل کی گئی تھی ۔چارمئی 2018کوجسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 1-2 کی اکثریت سے بحریہ ٹان اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب)کو بھیجنے اور 3ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔
مگرپھرجسٹس ثاقب نثارآگئے جسٹس ثاقب نثارنے عمران خان کی اے ٹی ایم مشین ملک ریاض کوریلیف دینے کافیصلہ کیا،2019مارچ میں بحریہ ٹاون کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کیس میںشیخ عظمت سعیدکی سربراہی میں بینچ بنایا،جس کے بعد بحریہ ٹاون کی انتظامیہ نے ان پر مقدمات ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی پیشکش کی۔جو سپریم کورٹ نے قبول کرلی اور نیب کو ملک ریاض کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا۔ اور کچھ شرائط کے ساتھ اس رقم کی ادائیگی کے لیے 7 سال کاطویل وقت بھی دے دیا۔

ملک ریاض اور نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ ، نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کا سب سے بڑا تحقیقاتی ادارہ ہے۔ اس ادارے کا بنیادی کام آرگنائزڈ کرائم کی روک تھام، منی لانڈرنگ اور دولت سے جڑے جرائم کی چھان بین اور کچھ دوسرے جرائم کو کنٹرول کرنا ہے۔نیشنل کرائم ایجنسی کا ایک خصوصی ڈیپارٹمنٹ انٹرنیشنل کرپشن یونٹ ہے۔ یہ صرف ان جرائم سے متعلق تحقیقات کرتا ہے جن میں دنیا کے مختلف ملکوں خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں سے غیر قانونی طور پر بنایا گیا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے مختلف کمپنیوں کو سامنے رکھ کر برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے اور مہنگی ترین جائیدادیں خریدنے اور کاروبار میں لگایا جاتا ہے۔دسمبر 2019 میں نیشنل کرائم ایجنسی کے انٹرنیشنل کرپشن یونٹ نے ملک ریاض کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیں۔ تحقیقات کے نتیجے میں این سی اے نے بتایا کہ برطانیہ میں مختلف بینک اکاونٹس میں موجود ملک ریاض کی 19کروڑ پاونڈ کی رقم منجمد کر دی گئی ہے۔ مقدمہ لڑنے کے بجائے ملک ریاض نے این سی اے کے ساتھ بھی سیٹلمنٹ کی اور کہا کہ یہ رقم پاکستان بھجوائی جائے۔ یہ کروڑوں پاونڈ کی رقم ریاست پاکستان کو منتقل کر دی گئی ۔ لیکن یہ رقم کس اکاونٹ میں منتقل کی گئی یہ جاننا اہم ہے۔

عمران خان کی کابینہ کی خفیہ منظوری ، 3 دسمبر 2019کو عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کے اراکین سے ایک بند لفافے کے اندرسمری پڑھے بغیر منظور کرائی(کابینہ کے کسی رکن کویہ جرات نہ ہوئی کہ وہ پوچھے کہ اس سمری میں کیاہے ) اس سمری کے تحت برطانیہ سے پاکستان کو موصول ہونے والے 19کروڑ پاونڈ کی رقم کو سپریم کورٹ کے اس اکاونٹ میں منتقل کردی گئی جس میں ملک ریاض نے 460ارب روپے جمع کرانے تھے۔ اور حکومت نے اس کی تفصیلات بھی نہیں بتائیں کہ ریاست پاکستان کا پیسہ دوبارہ سے کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا۔

القادرٹرسٹ کیس ، یوں یہ وہ کیس ہے جسے القادر ٹرسٹ کانام دیاگیا ،یکم دسمبر2023کوقومی احتساب بیورو (نیب)نے 8افراد کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں ریفرنس دائر کر دیا۔ریفرنس میں نامزد ملزمان میں عمران خان ان کی اہلیہ بشری بی بی ،ملک ریاض ،بشری بی کی کی قریبی دوست فرحت شہزادی، مرزا شہزاد اکبر، زلفی بخاری اور پی ٹی آئی حکومت کے اثاثہ جات کے وصولی یونٹ کے قانونی ماہر ضیا المصطفی نسیم اورعلی ریاض ملک شامل ہیں۔قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں کنال اراضی سے متعلق انکوائری کو باقاعدہ تحقیقات میں تبدیل کیا ،نیب اس سے قبل اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور برطانیہ سے موصول ہونے والی رقم کی وصولی کے عمل کی انکوائری کر رہا تھا۔

اس کیس میں رواں برس نو جنوری کو احتساب عدالت نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض سمیت کیس کے پانچ دیگر شریک ملزمان کو مقدمے کی تفتیش میں شامل نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے پاکستان میں موجود ان کی جائیدادیں منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے ۔عدالت نے ملک ریاض اوران کے بیٹے کوبارہاطلب کیا مگروہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ اس پس منظرمیں دودن قبل نیب کی ٹیم نے بحریہ ٹاون راولپنڈی کے آفس میں القادررٹرسٹ یونیورسٹی کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے چھاپہ مارا۔جس پرملک ریاض جھوٹ کاسہارہ لیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ وعدہ معاف گواہ نہیں بنیں گے( حالانکہ وہ اس کیس میں پہلے دن سے پیش ہی نہیں ہوئے )انھوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ یہ چھاپے ریاستی اداروں کی جانب سے سیاسی ایجنڈے کے تحت بحریہ ٹان پر دبا ڈالنے کے لیے مارے جا رہے ہیں(سوال یہ ہے کہ ملک ریاض کوتمام غیرقانونی اورناجائزکاموں پراستثنی حاصل ہے )

نومئی کاسانحہ اورالقادرٹرسٹ کیس ، دوسری طرف اسی القادرٹرسٹ کیس میںنیب کی طرف سے عمران خان اوران کی اہلیہ کومتعددبارطلب کیاگیا مگرہرباروہ بہانہ بناکرچھپتے رہے ،کبھی عدالتوں کے پیچھے توکبھی ٹانگ پرپلسٹرکاڈرامہ رچاکر،کبھی دہشت گردی کے خطرے کامفروضہ بناکر توکبھی سرپربالٹی نماخول رکھ کرگرفتاری سے بچنے کی کوشش کرتے رہے ۔نومئی 2023کونیب نے عمران خان کو سلام آباد ہائی کورٹ سے رینجرزکے ذریعے گرفتار کرلیا مگرپھرایک طے شدہ منصوبے کے بعدملک میں ہنگامے کیے گئے اورجلائوگھیرائوکیاگیامگردودن بعدعدلیہ کی ایک کالی بھیڑعمرعطابندیال نے عمران نیازی کی سہولت کاری کرتے ہوئے رہاکردیا۔

مئی 2023میں نے نیب نے القادر ٹرسٹ کیس کے ریفرنس کا نام تبدیل کر کے "نیشنل کرائم ایجنسی 190ملین پائونڈ سیکنڈل" رکھ دیا۔27فروری 2024کواحتساب عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی پر 190 ملین پانڈ ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی۔15مئی 2024کواسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس مقدمے میں ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔190 ملین پائونڈکیس سے متعلق قومی احتساب بیورو کی پراسیکوشن ٹیم کے مطابق اب تک اس مقدمے میں 30گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں جبکہ 21گواہان پر جرح کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ احتساب عدالت اس مقدمے کوسن رہی ہے مگر عمران خان نے مقدمے میں تیزی سے سماعت روکنے کے لیے عدالت میں درخواست دائرکی ہے جس پرعدالت نے فیصلہ محفوظ کیاہواہے۔


واپس کریں