دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آپ بھی ۔۔۔ !
ظفر محمود وانی� ۔ فلسفہ کالعدم
ظفر محمود وانی ۔ فلسفہ کالعدم
حکومتی اتحاد کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محترم عطا بندیال کے منتخب شدہ متنازعہ ججز کی نامزدگی کی حمایت ایک ایسا واضع اقدام ہے جس کی توقع انصاف قانون اور آئین کی بات کرنے والی سیاسی جماعتوں سے نہیں کی جا سکتی تھی ، لیکن پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے ، وہ تک بھی جو کبھی سوچا تک نہ جا سکے ، لیکن ایک زندہ ضمیر نے اپنی زندگی کا ثبوت اس طرح دیا کہ خبر ہے کہ وفاقی وزیرقانون اعظم نزیر تارڑ نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے ۔ یہاں کوئی آزاد منش چیف جسٹس کسی پارٹی یا فریق کو کسی طرح سے بھی قبول نہیں ،لہذا قبل از وقت اس کو بیاثر بنانے کا مضبوط اور موثر انتظام پیشگی طور پر ہی کر لیا گیا ہے۔موجودہ جسٹس عطا بندیال کے نامزد جونئیر ججز کو منتخب ہونے میں مدد دے کر انہوں نے اپنے تابوت میں خود کیل ٹھوک دی ہے ۔ ابھی یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ یہ سب پارٹیاں بشمول تحریک انصاف محترمی باجوہ صاحب کو ہی پہلے ہی کی طرح مکمل اتفاق سے تین سال کی مزید ایکسٹینشن منت کر کے دے دیں گے ۔
لیکن اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن دکھائی دی ہے ، لیکن اس کے ساتھ ایک اور بات بھی واضع ہوتی ہے کہ پاکستان میں درپردہ حکمرانی اور میوزیکل چیرز کا یہ کھیل ابھی طویل عرصہ تک جاری رہیگا اور یہ خلاف میرٹ تقرریاں اسی انتظام کی تیاری کے سلسے کی ایک کڑی سمجھی جانی چاہیے ۔
دوسری طرف پاکستان میں کم از کم پچھلے دس سال میں کہیں سچ بولا گیا تو وہ مرحومہ عاصمہ جہانگیر کے تعزیتی ریفرنس کے اجلاس میں بولا گیا ، جہاں منظور پشتین نے انتہائی وقار سے اور مدلل طریقے سے پاکستان میں قانون اور آئین کی حکمرانی ، اطلاق اور بالا دستی کی بات کی ، اس کے ساتھ ان مظالم اور زیادتیوں کا بھی بھرپور اور موثر انداز میں ذکر کیا جن کا ان کے علاقوں میں بالخصوص اور پورے پاکستان میں بالعموم عوام کو سامنا ہے ۔ جہاں تک حاضرین میں سے دس بارہ افراد کے قابل اعتراض نعرے لگانے کی بات ہے، یہ حربہ اب پرانا ہو چکا ہے ، کہ اپنے ہی کچھ لوگ منصوبہ بندی سے ہجوم میں شامل کر کے منفی نعرے لگوا کر ان نعروں کو ہی چارج شیٹ بنا کر کاروائی کی جائے ، تقریب کی وڈیو میں بار بار ایک ہی جگہ اکھٹے بیٹھے ان تقریبا ایک درجن افراد کو منظور پشتین کے بار بار منع کرنے کے باوجود کھڑے ہو کرنعرے لگاتے واضع طور پر دیکھا اور سنا جا سکتا ہے ،کیونکہ منظور پشتین کے اٹھاے گئے کسی سوال یا دلیل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ، لہذا یہ ان فرسودہ اور روایتی حرکتوں اور حربوں سے ان کو منتشر اور بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
اختر مینگل کی تقریر بھی قابل غور تھی, یہاں یہ بات مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ لوگ بندوق اٹھا کرپہاڑوں پر نہیں بیٹھے ہوئے بلکہ پاکستان کی پارلیمنٹ اورسول سوساٹی کے سامنے مہذب اورمدلل طریقے سے اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے باعزت حصول کی بات کر رہے ہیں۔کچھ حلقوں کی شروع سے کوشش رہی ہے کہ کسی بھی طرح ان کو بھڑکا کر اشتعال دلا کر مسلسل توہین کرکے ،الزامات لگا کر ان کو بندوق اٹھانے پرمجبور کر دیاجائے تاکہ ان کے خلاف اس کوجوازبنا کر بھر پور کاروای کرنے کا اور ان کوکچل ڈالنے کا موقع مل جائے۔ لیکن یہ باشعور نوجوان ان کے اس جال میں نہیں آئے اور پرامن اور مدلل طریقے سے اپنا کیس پاکستان کے باشعور عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ پر ان کا مکمل بلیک آئوٹ ہے تاکہ ان کا موقف براہ راست عوام تک نہ پہنچ سکے۔یہ توسوشل میڈیا کی وجہ سے کسی حد تک ان افراد کا موقف قوم کے سامنے آ رہا ہے۔قارئین کوخود اس سیمینار میں کی گئی تقاریر اور ان کے موقف کو سننا چاہیے تاکہ آزادانہ طور پر یہ جان سکیں کہ ان کے مطالبات میں کون سی بات غیر آینی وغیر قانونی ہے ۔منظور پشتین نے بجا طور پر سوال اٹھایا کہ مجھ پر بیرونی ممالک سے پیسے لینے کا جو الزام لگایا جاتا ہے اس الزام کو ثابت کریں، اور اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے , تو مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جائے، میرا کئی سال سے شناختی کارڈ منسوخ ہے ، پاسپورٹ ضبط ہے حتی کہ میرے پاس فون کی سِم تک نہیں ،میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے ان اعلی سرکاری ملازمین کا ان کے اربوں کے ثابت شدہ اثاثوں اور بیرون ملک جائیدادوں اور کاروباروں کا ذکر کرتے ہوئے بجا طور پر پوچھا کہ یہ اثاثے اور خطیر رقومات ایک سرکاری ملازم کو کس ملک سے اور کن خدمات کے عوض دئیے گئے، کیونکہ یہ اثاثے ان کی زندگی بھر کی کمائی سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں ۔
دوسرے اس نے علی وزیر کی ضمانت کے ہر بار منسوخ کرنے کو پاکستان کی عدلیہ کی اصل حالت کی واضع علامت بتایا کہ ججز فیصلہ سنانے کے لئیے بھی اشارے کے منتظر ہیں کہ اشارہ یا حکم آئے گا تو فیصلہ لکھیں گے۔ پارلیمنٹ علی وزیر کے قومی اسمبلی کے منتخب ممبر ہونے کے باوجود پروڈکشن آرڈر تک دینے کی ہمت نہیں کر رہی ، اور ''بنانا سٹیٹ'' کیا ہوتی ہے؟ یہ تو شاید اس سے بھی بدتر کوئی حالت ہے جس کا شکار ہمارے وطن کو بنا ڈالا گیا ہے ۔
سوات کے عوامی خودرو اجتماع جس کو اسٹیبلشمنٹ کی دیرینہ آلہ کار جماعت اسلامی نے حسب معمول ہائی جیک اور استعمال کر کے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کی، جیسے اس نے کامیابی کے ساتھ گوادر کے عوام کے احتجاج کو ہای جیک کرکے منتشر وناکام کر دیا تھا ۔لیکن سوات میں اس مقصد میں بھی ان کو کوئی کامیابی نہیں ملی ,اس عوامی اجتماع کے شرکا ء کے موڈ نے بہت سے حلقوں کو خوفزدہ کر دیا کہ صورت حال ماضی جیسی نہیں رہی، اب دہشت گردوں کے ذریعے ان علاقوں کو یرغمال بنانا اتنا آسان نہیں رہا ،بلکہ اس عوامی اجتماع کا فوری فائدہ یہ ہوا کہ یہاں لائے گئے' ٹی ٹی پی' کے دہشت گرد اپنے خیمے اکھاڑ کر اپنے بھاری اسلحہ سمیت فوری طور پر بحفاظت دو سو کلومیٹر دور افغانستان کی طرف اپنی گاڑیوں میں فرار ہو گئے۔ اس بارے میں مراد سعید نے موثر سوال اٹھایا کہ یہ دہشت گرد کس طرح آسانی سے اتنی دور افغان سرحد سے آ بھی جاتے ہیں اور واپس بھی چلے جاتے ہیں۔ان کو وہاں روکنا اور ان کا سدباب کرنا آخر کس کی ذمہ داری ہے ؟
نہ جانے وہ کون پتھر دل لوگ ہیں جو قومی مفاد ہی کے نام پرپاکستان اور اس کے عوام کے جاز مطالبات تک سننے کو تیار نہیں ۔حالانکہ ان کے اسی خودغرضی پر منبی رویوں اوراقدامات نے ہمارے پیارے وطن پاکستان کو اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ ماضی میں بار بارناکام ہونے والے اور ملک و قوم کو شدید نقصان کاباعث فیصلوں اور تجربات کو پھر سے ان ہی سابقہ طریقوں اور اجزا کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے ۔بدقسمتی اور افسوس کی بات ہے کہ کسی کو اس وطن اور اس کے عوام پر اب بھی ترس نہیں آتا ۔اب تو یہاں لٹانے یا لوٹنے کو بھی کچھ نہیں رہا ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سب ایک نے عزم کے ساتھ متحد ہو کراپنے اس پیارے وطن کوبچاسکتے ہیں متحد رکھ سکتے ہیں ،متحد ہوکرمشکلات سے نکال سکتے ہیں اور اس وطن کو قوم کے خوابوں کی عملی تعبیر بناسکتے ہیں ۔
وہ جو خواب تھے میرے زھن میں ,نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا ، جو زباں ملی تو کٹی ہوی , وہ جو قلم ملا بِکا ہوا ، وہ خوشبووں کی رفاقتیں نہ تجھے ملیں نہ مجھے ملیں ، وہ چمن کہ جس پر غرور تھا , نہ تیرا ہوا نہ میرا ہوا ۔
واپس کریں