دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یورپ میں ایسا کیا ہے جو ہم میں نہیں!
یاسر پیرزادہ
یاسر پیرزادہ
آج سے پندرہ بیس سال پہلے تک سفرنامہ لکھنا نسبتاً آسان کام تھا، ٹکٹ خریدنے سے لے کر ہوٹل میں کمرہ بک کروانے تک ہر کام ہی ایڈونچر ہوتا تھا، سفرنامہ نگار حضرات یورپ امریکہ کے بارے میں جو لکھ دیتے قارئین چوم چاٹ کر پڑھ لیتے کیونکہ انہیں پتا ہی نہیں ہوتا تھا کہ باہر کی دنیا کیسی ہے۔ آج کل حال یہ ہے کہ اگر آپ قطب شمالی کے کسی دور افتادہ گاؤں کا نام بھی یو ٹیوب پر لکھیں تو آپ کے سامنے دس ویڈیوز کھل جائیں گی جن میں اس گاؤں کے چپے چپے کا حال بیان کیا گیا ہو گا۔ ایسے میں کسی سفر کی روداد لکھنا خاصا مشکل ہو گیا ہے، خاص طور سے یورپ کا احوال لکھنا تو اور بھی مشکل ہے کیونکہ یورپ کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ اگر آپ نے ایک ملک دیکھ لیا تو سمجھیں پورا یورپ دیکھ لیا۔

سارا یورپ صاف ستھرا ہے، شہروں کے بیچوں بیچ دریا بہتے ہیں، کہیں کہیں برف پوش چوٹیاں ہیں، شہروں میں عجائب گھر ہیں، پر شکوہ گرجا گھر ہیں، تاریخی عمارتیں ہیں، سڑک کے کنارے خوبصورت ریستوران اور کیفے بنے ہوتے ہیں، ٹریفک کا نظام ایک جیسا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ ہر جگہ ملتی ہے، قانون کی عملداری یکساں ہے، معیشت مضبوط ہے، سوشل سیکورٹی کے تحت لوگوں کو وظیفہ اور پنشن ملتی ہے، مقامی حکومتوں کا نظام ایسا ہے کہ لوگ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، مرکزی حکومت کے اختیارات محدود ہیں، سربراہ مملکت اور وزرائے اعظم عام لوگوں کی طرح رہتے ہیں، کرو فر نہیں دکھاتے اور اگر کوئی وزیر اعظم کرپٹ نکل بھی آئے تو اس کو بنیاد بنا کر وہاں مارشل لا نہیں لگتا۔ لیکن ان تمام مشترک خصوصیات کے باوجود ہر ملک کچھ نہ کچھ مختلف ضرور ہے۔

جرمنی میں چند دن رہ کر احساس ہوا کہ یہ ملک یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ لبرل ہے۔ جرمنی ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے، دیگر ممالک میں سوئٹزر لینڈ، آسٹریا اور نیدر لینڈ شامل ہیں۔ ناروے نے اب اس پر پابندی لگادی ہے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اس کام کی دعوت دیتی ہوئی پائی جاتی ہے تو اسے گرفتار نہیں کیا جاتا البتہ مرد اگر دعوت قبول کر لے اور پکڑا جائے تو اس پر مقدمہ بن جاتا ہے۔ جرمنی میں نہ صرف جسم فروشی کے کلب موجود ہیں بلکہ برلن میں ایسے کلب بھی ہیں جو مخصوص لوگوں کے لیے ہیں، یہ Fetish قسم کے کلب ہیں، یہاں داخلے کے لیے مخصوص لباس ضروری ہے، کم از کم آپ نے سیاہ رنگ کا پینٹ کوٹ اور شرٹ پہنی ہو، آپ جینز یا ٹی شرٹ پہن کر نہیں جا سکتے۔ ان کلبوں میں عموماً LGBT سے تعلق رکھنے والے افراد جاتے ہیں اور ایسی weird حرکتیں کرتے ہیں کہ بندہ چکرا کر رہ جاتا ہے۔ کوئی اپنی محبوبہ کے گلے میں زنجیر باندھ کر اسے نچوا رہا ہے تو کوئی پورے جسم پر فقط نقش و نگار بنا کر گھوم رہا ہے۔ میں نے اسے عجیب تو کہہ دیا ہے مگر برلن میں اسے عجیب نہیں سمجھا جاتا، یہاں لوگوں کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ذات کا اظہار جس انداز میں چاہیں کریں مگر اس سے کسی دوسرے کی ذات متاثر نہ ہو۔ برلن کا مئیر Klaus Wowereit ہم جنس پرست تھا، اس نے برملا نہ صرف اس کا اظہار کیا بلکہ ایک بیان بھی دیا کہ I am gay and I am proud of it، یہ بیان اتنا مشہور ہوا کہ زبان زد عام ہو گیا اور ہزاروں لوگوں نے پھر اسی انداز میں اپنی ذات کا اظہار بھی کیا۔ اس کے علاوہ بھی برلن میں مخصوص نوعیت کے کچھ کلب ہیں جن کے بارے میں یہاں لکھا نہیں جا سکتا، خواہش مند خواتین و حضرات اس کے لیے علیحدگی میں وقت لیں، ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا!


یورپی ممالک میں ایک مشترک بات جو میں نے دیکھی وہ عورت کا تحفظ ہے، بظاہر یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ ایک طرف تو یہاں جسم فروشی کے کلب موجود ہیں جہاں عورت کی تذلیل کی جاتی ہے اور دوسری طرف عورت کے تحفظ اور اس کی تکریم کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ان کلبوں کی بات ہے تو پولیس گاہے بگاہے ان کلبوں میں کام کرنے والی عورتوں سے پوچھتی رہتی ہے کہ کہیں انہیں زبردستی اس کام کے لیے مجبور تو نہیں کیا جا رہا، اگر وہ اشارتاً بھی کہہ دیں کہ ایسا ہے تو پھر کلب کے مالک کی خیر نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے برلن کے ایسے ہی ایک کلب میں فائرنگ کا واقعہ ہوا، پولیس نے تفتیش کے لیے وہاں کام کرنے والی عورت کو گواہی کے لیے بلایا، اس نے گواہی دی اور پھر اسے مکمل تحفظ دے کر اس کی رہائش گاہ تبدیل کر دی گئی، کسی کی جرات نہیں ہوئی کہ اسے ہاتھ لگا دے۔ اسی طرح اگر کوئی عورت پولیس کو فون کر کے فقط یہ کہہ دے کہ فلاں شخص نے اس سے زبردستی کی کوشش کی ہے تو وہ شخص پہلے گرفتار ہو گا، باقی بات بعد میں ہوگی۔

جرمنی، مہاجرین کے لیے جنت سے کم نہیں، یوکرین کی جنگ کے بعد یہاں پندرہ لاکھ یوکرینی آئے ہیں، جرمنی نے ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا ہے اور کہیں تو انہیں ہوٹلوں میں بھی ٹھہرایا ہے، انہیں ماہوار وظیفہ ملتا ہے، مختلف کاموں کے لیے واؤچر ملتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں بہت سی جگہوں پر رعایت مل جاتی ہے جیسے بال کٹوانے ہوں یا کوئی خریداری کرنی ہو، اس کے علاوہ وہ یہاں ملازمت بھی کر سکتے ہیں۔ برلن کی سب سے مشہور بار چڑیا گھر کے پاس ہے اور چونکہ بار کی بالکونی سے چڑیا گھر کے بندر نظر آتے ہیں اس لیے اسے منکی بار کہتے ہیں۔ یہاں کی بار ٹینڈر ایک یوکرینی لڑکی تھی، اس نے ہمیں بتایا کہ وہ چند ہفتے پہلے سڑک کے راستے یوکرین گئی تھی، جنگ کی وجہ سے چونکہ ہوائی سفر بند ہے اس لیے اکثر یوکرینی یہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس سے پہلے شامی مہاجرین کے لیے بھی جرمنی نے اپنی سرحدیں ایسی ہی کھولی تھیں، عام تاثر کے برعکس شامی لوگ بے حد پڑھے لکھے، نفیس، شائستہ اور خود دار ہیں، بد قسمتی سے خانہ جنگی نے انہیں دربدر کر دیا ہے۔

بار کی بات ہوئی ہے تو کچھ حسن جاناں کا ذکر بھی ہو جائے۔ اللہ کو جان دینی ہے، جو حسن پاکستان میں ہے وہ میں نے جرمنی میں نہیں دیکھا۔ جرمن خواتین میں نسوانیت نہیں ہے، کچھ کرختگی سی پائی جاتی ہے، چہرے کے خدو خال بھی سپاٹ سے لگتے ہیں، البتہ انہوں نے خود کو کافی فٹ رکھا ہوا ہے، موٹاپا کم ہی نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی عورتیں بے حد پرکشش ہیں، خاص طور سے جب وہ کسی شادی میں جانے کے لیے تیار ہوں یا پھر منکی بار جیسے کسی اعلیٰ اور پر تعیش ریستوران میں کھانے پر مدعو ہوں، اس وقت ان کا حسن اور دلکشی عروج پر ہوتی ہے۔

یورپ کی ترقی، خوشحالی اور خوبصورتی میں بظاہر مماثلت نظر آتی ہے اور ایسا ہے بھی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ خوشحالی دوسری جنگ عظیم کے بعد ہر ملک کو خود بخود مل گئی۔ تیس چالیس سال پہلے تک ان ممالک میں یہ چکاچوند نظر نہیں آتی تھی، 1999 میں جب پاکستان میں موٹر وے بن چکی تھی اس وقت سویڈن سے ڈنمارک کے ایک جزیرے تک جانے کے لیے لوگ کشتی کا سفر کرتے تھے۔ اسی طرح مشرقی یورپ کے دیگر ملکوں کی طرح چیک ری پبلک بھی سویت یونین کے زیر تسلط رہا، پھر 1989 وہاں انقلاب آیا، 1992 میں ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے، لیکن آج چیک ری پبلک یورپین یونین کا حصہ ہے، ترقی یافتہ اور خوشحال ملک ہے۔ مدعا یہ ہے کہ یورپی ممالک کو ترقی اور خوشحالی کسی نے تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کی کہ یہ لیجیے جناب یہ ترقی ہے، آج سے یہ آپ کی ہوئی، بلکہ ہر ملک نے اس کے لیے علیحدہ جد و جہد کی اور کامیاب ہوا، اور بہت سے ممالک کا حال تو ہم سے بھی برا تھا مگر چونکہ وہ صراط مستقیم پر چلتے رہے سو انہوں نے فلاح پا لی، یہی دنیا کا اصول ہے۔

بشکریہ ہم سب
واپس کریں