دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے شاردہ پیٹھ کے لئے کوریڈور کھولنے کی بات کی اور آزاد کشمیر اسمبلی نے فوری طور پراس کے مطالبے کی قرار داد منظور کر لی۔بھارت میں متعین پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط کا خصوصی ' وی لاگ'
No image اسلام آباد(کشیر رپورٹ) پاکستان کے سابق سینئر سفار ت کار عبدالباسط جو ہندوستان میں پاکستان کے سفیر بھی متعین رہ چکے ہیں، نے کہا ہے کہ بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے چند ہی دن قبل ٹیٹوال میں ایک مندر کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی شاردہ مندر جانے کے لئے کرتار پورہ کی طرز پہ کوریڈور قائم کیا جائے گا اور اس کے فوری بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے پاکستان حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ لائین آف کنٹرول پہ کرتا رپورہ کی طرز پہ کوریڈور قائم کیا جائے۔

سینئر سفارت کار عبدالباسط نے جمعہ ،31مارچ کو اپنے یو ٹیوب چینل '' Kaleidoscope '' پہ اپنے نئے ' وی لاگ ' میں کہا کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں29مارچ کو ایک قرار داد منظور کی گئی، اس سے پہلے بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک بیان دیا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کرتار پور کوریڈور کی طرح شاردہ پیٹھ کے حوالے سے ایک کوریڈور بنائیں۔ عبدالباسط نے کہا کہ شاید اسی تجویز سے متاثر ہو کر آزاد جموں وکشمیر کی اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کر لی جس میں کہا گیا کہ ہاں کوریڈور تو ہونا چاہئے ، یہ بڑا ضروری ہے۔ یہ قرار داد شیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ کے رکن اسمبلی کی طرف سے پیش کی اور سب نے اسے متفقہ طور پر adoptبھی کر لیا۔

عبدالباسط نے کہا کہ یہ بات نہیں سوچتے کہ کرتار پور کوریڈور تو پاکستان اور بھارت کا انٹرنیشنل باڈر ہے، اس پہ تو ایک خاص ارینجمنٹ سے ایک میکنزم بنایا گیا اور وہ بن گیا جبکہ یہاں تو کوئی انٹرنیشنل باڈر نہیں ہے،ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ یہ لائین آف کنٹرول بھی نہ رہے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت ملے تاکہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر ایک ہو جائیں،اب آپ کوریڈور کی باتیں کر رہے ہیں اور امت شاہ نے جو بات کی ، آپ اس کو ' ری انفورس' کر رہے ہیں،میری سمجھ سے یہ بالا تر ہے۔کہنا تو آپ کو یہ چاہئے تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہے، ان کو نارمیلائیز کرنے میں،تو سب سے پہلے تو آپ یہ کام کریں کہ بھارت سے کہیں کہ کشمیر کے بارے میں2005کا ' سی بی ایم'، کہ ٹورازم ہو گا،مقبوضہ کشمیر سے لوگ ادھر آئیں گے، آزاد کشمیر سے لوگ ادھر جائیں گے،پہلے تو اس کو بحال کرے،پھر2007کا ٹریڈ کا معاملہ تھاآزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان،اس کو بحال کرے،اس پہ تو آپ بات نہیں کرتے اور آپ بات کر رہے ہیں کوریڈور کی۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیوں اس طرح کے آئیڈیاز ہمارے ذہنوں میں آتے ہیں،میں اب اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ بہت سے لوگ ہمارے جو اسمبلی میں بیٹھے ہیں، انہیں کشمیر کے تنازعے کا علم ہی نہیں ہے اور وہ اس کی تاریخ کو جانتے ہی نہیں ہیں، تو میرا مشورہ یہ ہے آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری اور وزیر اعظم صاحب کہ خدارا ان ممبران کے لئے دو تین روز کی کشمیر ڈسپیوٹ پہ کوئی ورکشاپ ہی کروا ئیں، ان کو بتائیںکہ کشمیر کا تنازعہ ہے کیا، اس کا ' یو این' کا ٹیمپلیٹ کیا ہے،کس طرح یہ ہوا، کیا سارے معاملات ہیں اور کس طرح ہم نے اس کو حل کرنا ہے۔ عبدالباسط نے کہا کہ مجھے خوش ہوئی کہ آزاد کشمیر کے سابق سپیکر اور پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس روز میں اس اجلاس میں تھا نہیں، اگر میں ہوتا تو اسے کبھی منظور نہ ہونے دیتا،لیکن بہر حال اب تو وہ قرار داد تو منظور ہو گئی،بھارت میں اس پر بات چیت بھی ہو رہی ہے کہ دیکھیں انہوں نے امت شاہ کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔

عبدالباسط نے کہا کہ یہ سارے معاملات، گلگت بلتستان سے لے کر آزاد کشمیر تک، جو کوریڈور کی بات ہوئی ہے، یہ سب ایک ہی اس کاشاخسانہ ہے وہ یہی ہے کہ سٹیٹس کو کی بنیاد پہ ہی کشمیر کے معاملے کو حل کریں۔ کون سی قوتیں اس کے پیچھے ہیں، وہ بھی ہم جانتے ہیں، حتی کہ امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ یہ معاملہ اسی طرح سیٹل ہو جائے،کیونکہ امریکہ کی خواہش یہی ہے کہ پاکستان اور چائنا کے درمیان جو تعلقات ہیں، اس میںدراڑیں پڑیں،اور پاکستان اور بھارت ایک ساتھ مل کر کام کریں۔ مثال کے طور پر ہمارے وزیر خارجہ نے کل ایک افطار پارٹی کر دی، اس میں بھارت کے ناظم العمور بھی آ گئے،اس کو بھی ایک اتنی بڑی چیز کر کے پیش کر دیا گیا کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے کہ بھارت نے کیا زبردست کام کیا کہ ناظم العمور تشریف لے آئے اور ہمارے وزیر خارجہ نے انوائٹ کیا۔ عبدالباسط نے کہا کہ آگے شنگھائی کوآپریشن آر گنائیزیشن کی میٹنگز بھی آ رہی ہیں،امید کرتا ہوں کہ جو اب تک فیصلے کئے ہیں اسی کی روشنی میںفیصلے ہوں گے۔ بڑا اچھا ہواکہ ہم نے نیشنل سیکورٹی ایڈوائیزرز کی ورچوئل میٹنگ اٹینڈ کی۔ عبدالباسط نے کہا کہ ہماری طر ف سے بھارت کو یہ باور کرائے جانے کی ضرورت ہے کہ آپ نے2019کو جو کیا ،و ہ ہمیں قبول نہیں ہے اور اس پہ ہماری سٹرانگ اپوزیشن ہے اور ساتھہ ہماری شنگھائی کو آپریشن آرگنائیزیشن کے ساتھ ایک سٹرانگ کمٹمنٹ ہے، ہم اس کے لئے ایک اہم ' کی ممبر ' ہیں،وہ بھی ہم نے ایک توازن کے ساتھ چلنا ہے۔

عبدالباسط نے کہا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر میں ہمارے جو بہن بھائی ہیں جو اسمبلی میں بیٹھے ہیں خاص طور پر،خدارا جو بھی کام کریں تھوڑاسوچ سمجھ کر کریں کہ اس کی 'امپلیکیشنز' کیا ہیں،آ پ کا جو کشمیر پہ ایک اصولی موقف ہے اس کو یہ قرار داد کمزور کرتی ہے، آپ کو کوریڈور کی ضرورت نہیں ہے، پہلے اگر بات کرنی تو یہ کشمیر سے متعلق جو ' سی بی ایمز' ہیں، ان کی بات کریں، اور دیکھیں کہ بھارت آپ کو کیا جواب دیتا ہے، تو پھر ہم راستہ بنائیں گے کہ کیاہو سکتا ہے۔اس قسم کی قرار دادوں سے اجتناب کریں، ان سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ آپ کے لئے بھی اور پاکستان کے لئے بھی مزید پرابلمز بڑہیں گے، اور پھر مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں وہ کیا دیکھتے ہوں گے، سوچتے ہوں گے ہمارے بارے میں کہ یہ کیا لوگ ہیں، یہ شعر بھی یاد آتا ہے کہ
تیز ہوائوں میں بکھر کیوں نہیں جاتے ، ہم لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے۔

عبدالباسط کے ' وی لاگ ' کا لنک
https://www.youtube.com/watch?v=y9ARXwEwc7g
واپس کریں