دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مسئلہ کشمیر پر عالمی ملٹری ایکسپرٹس اور پاکستانی ملٹری ایکسپرٹس کا معیار
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
مسئلہ کشمیر کا خیال، آزاد کشمیر اور پاکستان میں، اقوام متحدہ کی ٹمپلیٹ کے مطابق نہیں رکھا گیا۔ نہ ہی آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بنیاد میں اس ٹمپلیٹ کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے، آزاد کشمیر حکومت نے 74 سال میں کوئی قابل قدر اقدام اٹھایا۔کشمیر سبجیکٹ کی نگرانی پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں رہی ہے ۔ اس انتظام میں وہ نیک نیتی اور equity سامنے نہ آ سکی، جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے متوقع ہوتی ہے۔یہ انتظام بری طرح ناکام ہوا ہے۔ اس میں شامل لوگ، پاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کو ایک Quid Pro Quo کے تحت ڈیل کرتے چلے آئے ہیں۔ ایک quid pro quo کی سنت شروع ہوئی ہے۔ یہ ریاست کے عوام کے لئے نہیں بلکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور مقامی سیاست دانوں کے درمیان، مفادات باہمی کا ایک وسیلہ بن گیا ہے۔

اس کے مقابلے میں عالمی سطح کی پولیٹیکل اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کے نمائندے ہمیشہ کشمیری عوام کیلئے زیادہ باعمل، سنجیدہ اور ہمدرد رہے ہیں۔برطانیہ نے کشمیر پر بحث کے لئے Philip Noel Baker کو بھیجا۔ یہ شخص اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحریر کرنے کی ٹیم میں ایک اہم رکن کی حیثیت سے شامل تھا۔ اتنا ہی نہیں، برطانیہ نے سیکورٹی کونسل کی 235 ویں میٹنگ کی بحث کے لئے Baker کی معاونت کے کل لئے WWII جنگ عظیم دوئیم میں چرچل کے ملٹری ایڈوائزر General Ismay اور WWII کے دوران Burma محاذ کے کمانڈر General Schemes کو بھیجا۔بحث کے دوران برطانوی ڈیلیگیش کے سربراہ Baker نے کشمیریوں کا درد بیان کرتے ہوئے 24 جنوری 1948 کو کہا :
"Kashmir has a population of 4 millions. They are now suffering the anguish and destruction which fighting always brings. If the conflict spreads and continues, it will take a generation for them to recover. "
برطانوی مندوب کا کشمیریوں کے دکھ اور جنگ کی صورت میں ممکنہ تباہی کا احساس تھا۔ وہ یہ پیشگوئی بھی کر گئے کہ اگر مسئلہ طول پکڑ جائے یا جنگ ہو تو، کشمیریوں کو ریکوری کے لئے ایک جنریشن کی ضرورت ہوگی۔برطانیہ کی مسئلہ کشمیر میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے Noel Baker نے کہا :
"I have here with me to act as advisors two great military men, Lord Ismay (General Ismay), who was on Mr. Churchill's staff during the war, and General Schemes, who commanded in Burma in our desperate campaign. They tell me that in their view, after studying military history, wars very rarely produce the results for which they were begun."
آج تک، آزاد کشمیر اور پاکستان میں سیاست دانوں کو اس سطح کی اعلی اور معیاری ملٹری مشاورت میسر نہیں رہی۔ نہ ہی کشمیر سبجیکٹ پر مامور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے انتظام کے ان ارکان کے دلوں میں کشمیریوں کے درد کا کوئی احساس موجود رہا ہے۔ یہ لوگ اس ذمہ داری کو نوکری، مراعات اور اختیار کی عینک سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔

کشمیر کے سبجیکٹ کو پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ، کنٹرول کے لئے جس سطح اور معیار کا انتخاب کرتی چلی آئی ہے،اس کا معیار وہ نہیں، جو معیار ہم اقوام متحدہ میں کشمیر پر بحث کے دوران ملٹری قیادت کا دیکھتے ہیں۔کشمیر اور آزاد کشمیر کے سبجیکٹ پر مامور پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا وہ معیار نہیں، جو ہمیں General Ismay ,General Schemes ,General McNaughton جیسی بڑی ملٹری شخصیات کی شکل میں موجود نظر آتا ہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ کی طرف سے کشمیر میں رائے شماری کے لئے تعینات کئے گئے منتظم بھی Admiral Nimitz تھے جنہوں نے الائیڈ فورسز کی قیادت کی تھی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مارچ 1959 کے سری نگر (کشمیر) کے دو روزہ دورے کے دوران بھی اعلی صلاحیتوں کے مالک ملٹری مشیر اپنے ساتھ رکھے۔ اقوام متحدہ کے مبصرین UNMOGIP کے سر براہ 1949 سے اب تک اعلی شہرت کے جرنیل تعینات ہوئے ہیں۔
کشمیر سبجیکٹ کے انچارج پاکستان ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ دار، کشمیریات میں کم علم لوگ ہیں۔ ان کا کشمیر کیس کی Jurisprudence کا علم سطحی اور unreliable رہا ہے۔ یہ زیادہ تر فائل ورک کے لوگ ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی اور بد بختی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کا عمل misdirected رہا ہے اور ہم نے کشمیر پر اپنے عمل کی compass کو درست ایڈجسٹ نہیں کیا۔

سب سے بڑا مسئلہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول کی کشمیریات کی کم فہمی اور ناقص سطح ہے۔ اس کم فہمی کے ساتھ ساتھ ایک quid pro quo کو دوام بخشنے کے لئے ایک ایسی ہی conformist کانسٹیچونسی کا قیام عمل میں آیا ہے۔ جو کشمیر سے Lock Stock and Barrel ہجرت کر چکے ہیں۔اس انتظام کا کشمیریوں اور کشمیر کیس کی Jurisprudence کو کوئی فائدہ نہیں۔
واپس کریں