دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کراچی کا سیلاب ، لندن کانفرنس ، مارشل لاء کا نفاذ ۔ قسط 9
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
میں آزاد کشمیر کی ملازمت سے 5 مئی 1977 کو Resign کر چکا تھا۔ صدر آزاد کشمیر میرا استعفی منظور نہیں کر رہے تھے۔آزاد کشمیر حکومت کے جریدے ماہنامہ جائیزہ کی ادارتی نگرانی ختم ہو گئی۔ آزاد کشمیر حج وفد کے لئے لٹریچر کی تیاری بھی رک گئی۔ اچانک محکمہ اطلاعات کے پبلیکیشنز کے شعبے میں ایک مشکل صورتحال پیدا ہوئی۔مجھے لالچ دی گئی کہ واپس آئیں اور مجھے فوری طور گریڈ 18 میں ترقیاب کیا جائے گا۔ میں پہلے ہی 4 مئی 1977 سے گریڈ 18 میں تعینات ہوچکا تھا۔ آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ استعفی کی منظوری کا جھگڑا چلتا رہا۔

مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ائیر کموڈور رفعت محمود کے کانوں کی ایکسٹینشن تھی اور فوجی ہونے کے ناطے اس کے ہاتھ بھی لمبے تھے۔ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دفتروں میں بات چیت ریکارڈ کرنے کے امکانات اور انتظامات ہوتے ہیں۔میں یہ سمجھ رہا تھا کہ پرنٹر کے بل میں ہیرا پھیری کی پردہ داری اور صدر برانچ سے 15 لاکھ روپے کی ٹنچ بھاٹہ برانچ میں منتقلی اور اس کے بیٹے کے منیجر بننے میں معاونت کی وجہ رفعت محمود پر میرا احسان ہے۔ لیکن میں بھول گیا کہ یہ دوستی ایک فوجی اور ایک سویلین کے درمیان تھی۔ یہ ریچھ اور گجر والی یاری تھی۔ایئر کموڈور ریٹائر منٹ کی بعد ریڈ کراس میں آئے تھے اور دو مرتبہ ایکسٹینشن لے چکے تھے۔ تیسری بار ایکسٹینشن ناممکن تھی۔ ان کو ایکسٹینشن لینے کی لت پڑ گئی تھی۔ اس بار یہ اس لئے ناممکن تھا، کہ میں ایک سویلین بھی تھا اور ریگولر بنیادوں پر تعینات ہوا تھا۔ سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لئے میں ، ہر زاویہ سے کوالیفائی کر رہا تھا۔ حالات میرے حق میں تھے۔بشیر نائیک اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل بھی ریٹائر منٹ کے بعد ریڈ کراس میں تعینات ہوئے تھے۔ وہ بھی ایک ایکسٹینشن لے چکے تھے۔ ہم دونوں کا ایک ہی گریڈ تھا۔

بیگم بھٹو مجھے اپنے بیٹے کی طرح ٹریٹ کرنے لگیں۔ دو تین بار میں انہیں ملنے پرائم منسٹر ہائوس بھی گیا۔ پنجاب کے دورے کے بعد بیگم صاحبہ نے مجھے پرائم منسٹر ہائوس بلایا ۔ میرے ہوتے ہوئے وہاں کمرے سے بینظیر گزریں۔ بیگم صاحبہ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، بینظیر یہ نذیر ہے اور ریڈ کراس میں نیشنل فیلڈ آفیسر ہے۔ بینظیر نے ہیلو کہا اور چلی گئیں۔

27 سال بعد جب ہم نے انسٹیٹیوٹ آف کامن ویلتھ لندن میں 27 اور 28 اپریل 2004 کو آر پار کے کشمیریوں اور انڈیا پاکستان کی اہم شخصیات کی ایک کانفرنس بلائی، بے نظیر بھٹو اور فاروق عبداللہ اس میں مدعو تھے۔ یہ ایک انہونی اور دھماکہ خیز کانفرنس تھی۔اسلام آباد کے کچھ حلقے نہیں چاہتے تھے کہ یہ کانفرنس ان کی مرضی اور تائید کے بغیر ہو۔ کشمیر سے متعلق سبھی معاملات کے وہ مختار کل تھے۔ لیکن ہم اپنی چند سانسوں کا اختیار اپنے پاس رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ان بااختیار حلقوں نے لارڈ نذیر احمد کو بینظیر کے پاس بھیجا کہ نذیر گیلانی کی کانفرنس(انٹرنیشنل کشمیر الائنس کے زیر اہتمام) میں شمولیت نہ کریں۔ میں اس الائنس کا چئیرمین تھا۔لارڈ نذیر احمد میرے بھی دوست تھے۔ لیکن میں سویلین دوست تھا۔ بینظیر نے لارڈ احمد کو کہا "لارڈ صاحب میری ماں نے مجھے نذیر گیلانی سے 1977 میں ملایا تھا۔ میں اسے 27 سال سے جانتی ہوں۔ یہ شخص سپریم کورٹ میں میری ماں کے ساتھ مشکل حالات میں رہا ہے۔ اس کے خلاف بھی مارشل لا کے تحت دو مقدمات درج ہوئے،یہ ثابت قدم رہا۔ میں اس کانفرنس میں جائوں گی۔ آپ بھی کشمیر پر اس سے بہتر کانفرنس کرائیں، میں وہاں بھی آئوں گی"۔مقتدر حلقوں کو لارڈ نذیر احمد کی درمیان داری کام نہ آئی۔ ہم نے اسے اس کانفرنس میں نہیں بلایا۔

یہ جون 1977 کا مہینہ تھا۔ اگلی میٹنگ میں بیگم صاحبہ نے پوچھا، نذیر تمہارے پاس اپنی ٹرانسپورٹ ہے۔ میں نے جواب دیا کہ بیگم صاحبہ ابھی تو مجھے ایک ہی تنخواہ ملی ہے۔ میں اپنی گاڑی افورڈ نہیں کر سکتا۔بیگم صاحبہ نے فنانس آفیسر کو بلوایا اور ہدائیت دی کہ نذیر کو کار کی خریداری کے لئے Loan ریلیز کرو۔ یہ کار خرید کی invoice دے گا اور وہ رقم ریلیز کر دینا۔میرا کار کی خریداری کے لئے Loan کا استحقاق پروبیشن مکمل ہونے کے بعد بنتا تھا۔ پروبیشن اکتوبر 1977 کو مکمل ہوتا۔ لیکن بیگم صاحبہ کی ہدائیت سے یہ رکاوٹ override ہوگء اور Loan بھی invoice کو fully طور cover کرتا۔میں نے اگلے ہی روز Fiat Super S کار خرید لی اور دفتر اپنی کار میں آیا۔ کار سے اترتے ہی میں نے رک کر مالی سے سلام دعا لی اور ہاتھ بھی ملایا۔ مالی سابق فوجی تھا اور کافی بزرگ بھی۔ ان کا ایک ہاتھ فوج میں بارود میں دھماکہ کی وجہ متاثر ہوا تھا۔سارا عملہ مجھ سے محبت کرتا تھا کیونکہ میں ان کی انا اور خودداری کا احترام کرتا تھا۔ ابھی میں کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اکانٹس آفیسر، جو عیسائی تھے اور ائیر فورس سے ریٹائرڈ تھے، میرے کمرے میں آیا اور کہا کہ ایس جی صاحب بلا رہے ہیں۔ میں رفعت محمود کے کمرے میں گیا تو پہلے اس نے زبردست کڑاکے کی Liptons چائے پلائی۔ پھر کار کی مبارکباد دی اور کہنے لگے، دیکھیں گیلانی میں آپ کے والد کی جگہ ہوں اور میں نے لمبی سروس کی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ آپ مالی، چوکیدار اور ہر ایک نتھو خیرے کے ساتھ صبح آتے ہاتھ ملاتے ہو۔ اس سے ڈسپلن خراب ہوجائے گا۔ ان میں سے کوئی آپ کی غیر حاضری میں، آپ کی کرسی پربھی بیٹھنے کی جرت کرے گا۔ ایسا نہ کرو۔ دفتر کا ماحول خراب ہو جائے گا۔میں بہت ہی کم عمر تھا اور یونیورسٹی کے بعد یہ سینئر کلاس ون گیزیٹڈ پوزیشن تھی۔ تجربہ بہت کم تھا۔ پنگے بازی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

جون کے آخری ہفتے میں کراچی میں بہت سیلاب آگیا۔ بیگم صاحبہ نے مجھے کراچی امدادی کیمپ قائم کرنے اور متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے بھیج دیا ۔ شائید میں جولائی کی 3 تاریخ کو کراچی پہنچا۔ میرے قیام کا انتظام ریڈ کراس بلڈنگ میں رکھا گیا تھا۔سندھ ریڈ کراس کے سیکریٹری امین قریشی اور گودام انچارج رمضان مجھے لینے ائیر پورٹ آئے تھے۔ 4 جولائی کو ہم نے بلال کالونی، قیوم آباد، اختر کالونی، ٹھٹھول نگر اور بنگالی کالونی میں ریلیف کیمپ اور میڈیکل کیمپ قائم کئے۔میڈیکل کیمپ میں وبائی امراض سے بچا ئوکے ٹیکے لگانے کے ساتھ ساتھ پانی صاف کرنے کی دوائی تقسیم ہوتی رہی۔رات تھک ہار کر جب ریلیف کے کام سے لوٹے، کھانا کھانے کے تھوڑی دیر بعد گہری نیند سو گیا۔

صبح 5 جولائی کو ناشتے کے بعد جب میں نے راولپنڈی دفتر اور گھر فون کرنا چاہا، فون لائن ڈیڈ تھی۔ کافی کوشش کی مگر فون لائین کام نہیں کر رہی تھی۔اسی بلڈنگ میں پاکستان سٹیل مل کے ایک اعلی افسر ایک کرنل صاحب کا دفتر بھی تھا۔ میں نے رمضان کو کہا کہ وہ جاکر کرنل صاحب سے کہے کہ ہمارا فون خراب ہے اور کیا وہ مجھے راولپنڈی فون کرنے کی سہولت دے سکتے ہیں۔رمضان کو اس بلڈنگ میں ہر کوئی جانتا تھا۔ وہ جب گیا اور کرنل صاحب سے کہا کہ ہماری لائین ڈیڈ ہے اور کیا وہ مجھے ایک فون کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔کرنل صاحب نے رمضان سے پوچھا تمہارے صاحب رات کتنے بجے سوئے تھے۔ رمضان نے کہدیا کہ دن بھر ریلیف کے کام کی وجہ تھک گئے تھے اور جلدی سو گئے تھے۔ کرنل نے رمضان کو کہا کہ صاحب کو کہہ د و ملک میں مارشل لا لگ گیا ہے، اسی لئے سویلین فون ڈیڈ ہیں۔ صاحب کو کہو وہ آکر یہاں سے فون کر سکتے ہیں۔رمضان جب واپس آیا اور مجھے حالات سے آگاہ کیا۔مجھے جیمز بیری کے ڈرامے Admirable Crichton کے مرکزی مفہوم کی مشہور لائین "Circumstances Alter Cases"یاد آئی۔ ملک میں حالات بدل چکے تھے۔ یہ 4 جولائی کا پاکستان نہیں تھا۔ ایک نیا پاکستان شروع ہوا تھا۔

میں نے کرنل صاحب کے دفتر سے، نیشنل ہیڈ کوارٹرز فون کیا اور فون کے ڈیڈ ہونے کی اطلاع کی۔ بیرونی ممالک سے ایڈ آنے والی تھی اور ان میں ایک جہاز لیبیا سے بھی آرہا تھا۔ائیر کموڈور کی ٹون ہی بدلی بدلی تھی ۔ وہ فاتحانہ موڈ میں تھا۔ اور کہ رہا تھا، Don't worry, the phone would be restored in next few minutes.ساتھ ہی ہدائیت دی کہ لیبیا سے ریلیف سے بھرا ایک جہاز آرہا ہے۔ اور اس جہاز کے آنے کی اطلاع پریس کو ہر گز، ہر گز نہیں ہونی چاہئے۔میں نے کہا سر میں پریس کو کیسے روک سکتا ہوں۔ میں کراچی میں نیا ہوں اور پریس کو روکنا بہت مشکل ہے۔ یہ لوگ بعد میں ہمارے گلے پڑ جائیں گے۔اب اگر آپ مجھ سے ایسا ہی کرانا چاہتے ہیں،تو ایڈوائس رائیٹنگ میں دیں۔ اس زمانے میں Telex ہوتا تھا۔

میں نے پریس کو لیبیا سے ریلیف لیکر آنے والے جہاز سے دور رکھنے سے معذرت کردی تھی ۔ رفعت محمود خود بھی تحریری ایڈوائس دینے کے لئے تیار نہیں تھا ۔ لیکن رفعت محمود بضد تھے کہ سیلاب زدگان کے لئے لیبیا کی امداد کی خبر پریس میں نہ آئے۔اگلے روز میر رفعت محمود خود ہی کراچی چلے آئے ۔ اتنے میں ہمیں لیبیا کی اسلام آباد میں ایمبیسی سے پتہ چلا کہ ان کا ریلیف لیکر آنے والا جہاز غلطی سے بمبئی چلا گیا تھا اور اب اگلے روز کراچی پہنچنے والا تھا۔رفعت محمود نے ریلیف کیمپس کا دورہ کیا اور ہم دونوں پورا دن نگرانی کرتے رہے ۔ نیوی اور پاک فوج بھی اپنا اپنا ریلیف تقسیم کر رہی تھی۔ ایک جگہ پاک فوج نے راستہ بند کیا تھا اور ہمیں اسی راستے سے آگے جانا تھا۔ جب سپاہی نے ہمیں روکنا چاہا، رفعت محمود نے اپنا تعارف "بریگیڈیئر رفعت محمود " کرایا اور ہمیں آگے جانے دیا گیا۔ میرے لئے رفعت محمود کی ٹیکٹیکل حاضر دماغی ایک سبق تھا۔ اگر وہ اپنا تعارف ایک ائیر کموڈور کی حیثیت میں کرتے، تو شائید فوج کی رکاوٹ دور نہ کی جاتی۔رفعت محمود رات کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر سید عثمان علی کے ہاں چلے گئے۔ وہ ان کا قریبی رشتہ تھا۔عثمان علی انڈین سول سروس سے تھے۔ وہ پاکستان میں فیڈرل سیکریٹری، پاکستان کے بیلجیئم اور لکسمبرگ میں سفیر اور ورلڈ بینک کے واشنگٹن میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر رہ چکے تھے۔ یہ پاکستان کی ایک بااثر فیملی تھی۔رفعت محمود کی دو سرونگ جنرلز کے ساتھ رشتہ داری بھی تھی۔ اس لئے جب اسے خلیج کی ایک ریاست سے نا پسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا تھا، اسے پاکستان ریڈ کراس میں اکوموڈیٹ کیا گیا تھا۔اس کی درخواست کو بیک ڈور سے entertain کیا گیا تھا ۔ اس کے لئے رولز کی خلاف ورزی معمولی بات تھی۔

مجھے بیگم صاحبہ کا فون آیا، کہ میں کل کراچی آرہی ہوں۔ یہ خبر میں نے رفعت محمود کو دی اور پوچھا کہ ہم کل کتنے بجے ائیر پورٹ، بیگم صاحبہ کو لینے جائیں گے۔ اسلام آباد سے شائید فلائیٹ دو پہر میں آرہی تھی۔رفعت محمود نے کہا، کس لئے۔ Are you mad۔ ملک میں مارشل لا لگ گیا ہے۔مجھے رفعت محمود کے اس منہ پھیر طرز عمل پر افسوس ہوا۔ البتہ میں نے اسے کہا کہ مارشل لا اپنی جگہ مگر بیگم صاحبہ ابھی بھی ریڈ کراس کی چیئرپرسن ہیں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے ریسیو کرنے جائیں۔میر رفعت محمود نے ائئر پورٹ جانے سے قطعی انکار کر دیا ۔ میری نیت دیکھ کر بولے If you wish, you may go to receive her. It is up to you. ہم نے ریڈ کراس کی گاڑی میں جانیکا فیصلہ کیا۔ دوپہر میں اور رمضان گاڑی لیکر ائیر پورٹ پہنچے۔بیگم صاحبہ باہر نکلیں۔ وہ اکیلی تھیں اور ہاتھ میں جیکٹ تھا۔تھکی اور افسردہ لگ رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔ اور آہستہ سے منع کیا۔ آپ کو نہیں آنا چاہئے تھا۔ میں ٹیکسی میں چلی جائوں گی۔ اور کہا :You save your skin. بیگم صاحبہ کا انگریزی کا جملہ سن کر، میں بھی سوچ میں پڑ گیا۔ اتنی پاورفل اور بہادر لیڈی کا یہ جملہ تیر کی طرح مجھے چبھ گیا۔جو رفعت محمود 4 جولائی 1977 تک اس کے قدموں کی دھول بننے کے لئے تیار رہتا تھا، 7 جولائی کو اپنی چئیر پرسن کو Receive کرنے سے مکر گیا۔بیگم صاحبہ، ہمارے ساتھ نہیں بیٹھیں اور ایک پرائیویٹ گاڑی میں چلی گئیں۔ جاتے جاتے آہستہ آہستہ کہا، میں فون کروں گی۔ آپ کو شائید مسز نون ( بہو فیروز خان نون) سیکریٹری سندھ ریڈ کراس اور ایک اور جگہ جانا پڑے۔

شہر میں جماعت اسلامی کا ریلیف کام زوروں پر تھا ، جب کہ پیپلزپارٹی کی کوئی visibility شہر میں کہیں بھی نہیں تھی۔ بیگم صاحبہ کو اس کا بہت دکھ ہوا۔میں بیگم صاحبہ کا پیغام لے کر فیروز خان نون کی بہو کے پاس گیا۔ اسے بیگم صاحبہ کا پیغام دیا، کہ ریلیف میں پیپلزپارٹی کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ سندھ ریڈ کراس کی سیکریٹری بھی تھیں۔دوسرا پیغام پیپلزپارٹی کی ایک بڑی اہم شخصیت کے لئے تھا۔ میں ایک حویلی کے باہر پہنچا۔ گیٹ کے باہر گارڈ تھے اور ان کے پاس خطرناک قسم کے کتے بھی تھے۔مجھے گیٹ پر روک دیا گیا۔ اور کہا گیا کہ آپ اندر نہیں جا سکتے۔ بارش بہت زور سے ہو رہی تھی۔ میں نے گارڈ کو کہا، کہ "سائیں" کو کہیں کہ کوئی نصرت بھٹو کا پیغام لے کر آیا ہے۔بیگم صاحبہ کا نام سنتے ہی گارڈ بھاگتا اندر گیا۔ سائیں خود گیٹ پر آئے اور مجھے ساتھ اندر لے گئے۔اندر تین چار ٹولیاں جوا کھیل رہی تھیں اور جوئے کی ایک بھاری رقم دائو پر لگی نظر آئی۔ میں نے بیگم صاحبہ کا پیغام دے دیا، کہ پیپلزپارٹی کو اپنے ریلیف کا کام شروع کرنا چاہیے۔ یہ بھی کہدیا کہ بیگم صاحبہ کراچی آئی ہیں. در اصل اس حویلی میں سائیں کی سر پرستی میں جوا ہو رہا تھا۔ (جاری ہے)



واپس کریں