دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ساہیوال،بہاولنگر کا دورہ۔نصرت بھٹو کو دورے کی رپورٹ اور میری ایئر کموڈور کی پردہ پوشی قسط8
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
دوسرے روز اتوار 29 مئی 1977 صبح 7 بجکر 30 منٹ پر ہم سلور جوبلی میٹرنٹی اینڈ چلڈرن ہسپتال، ساہیوال کے معائینے کے لئے گے۔ اس ہسپتال کی تعمیر 1937 میں ہوئی تھی۔لیاقت روڈ ساہیوال پر واقع یہ ایک پریگنینسی کئیر سینٹر اور چائیلڈ کئیر سروس ہسپتال تھا۔دونوں شعبوں میں بہت اچھا انتظام تھا۔4 بجے کے قریب ہم بہاولنگر کے لئے روانہ ہوئے۔ پروگرام کے مطابق ہم 6 بجے شام بہاولنگر پہنچے۔ یہاں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور ریڈ کراس برانچ کے آنریری سیکریٹری ہمارا انتظار کر رہے تھے۔بہاولنگر کا پرانا نام روجن والی تھا اور یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 54 واں شہر ہے۔ علاقہ گندم کی روٹی اور لسی کے لئے مشہور ہے۔آزادی سے پہلے بہاولنگر، بہاولپور سٹیٹ کا حصہ رہا ہے۔ بہاولنگر کا نام 1904 میں بہاول خان پنجم کے نام پر رکھا گیا تھا۔ہم کافی تھک چکے تھے۔ اس لئے سیدھے ریسٹ ہائوس جاکر کھانا کھایا۔ صبح 7 بجے سے ڈسٹرکٹ برانچ اور اس کے تحت چلنے والے اداروں کا معائینہ کرنا تھا ۔ اس لئے سبھی اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ریسٹ ہاوس کا عملہ بہت ہی سادہ، خوش اخلاق اور خدمات گزاری کے لئے الرٹ تھا۔

30 مئی 1977 سوموار کا دن تھا۔ ہم نے بہاولنگر کی ڈسٹرکٹ ریڈ کراس اور اس کے تحت چلنے والے دوسرے انسٹیچیوشنز کا معائینہ کرنا تھا۔ پروگرام کے مطابق ہم ڈسٹرکٹ برانچ پر 7 بج کر 30 منٹ پر پہنچ گئے۔ پروگرام کے اوقات اور ہماری موومنٹ کو ایک فوجی مزاج میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پروگرام صوبہ پنجاب کے سیکریٹری میجر ریٹائرڈ افضل خان اور نیشنل ہیڈ کوارٹرز کے سیکریٹری جنرل ائیر کموڈور میر رفعت محمود نے مشترکہ طور تشکیل دیا تھا۔ بہاولنگر ڈسٹرکٹ برانچ کا ایک بڑا صحن تھا۔ تمام ملازمین اس میں جمع ہوئے اور ایک طرح کی کھلی کچہری لگ گئی۔ مجھے تھوڑی دیر میں احساس ہوا، کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ لوگ کھل کر بات نہیں کر رہے تھے۔ ہچکچاہٹ اور پریشانی تھی۔

میں سمجھا کہ شائید یہ لوگ پہلی بار برابری کی سطح پر، اکھٹے بیٹھ رہے تھے اور اسی لئے آزاد ماحول میں بات چیت اور اظہار رائے کی عادت نہیں تھی۔میں نے ایک گلاس پانی کی خواہش ظاہر کی اور ایک صاحب جلدی سے اندر گئے اور پانی کا گلاس چھوٹی پلیٹ پر رکھ کر لائے۔ گلاس کے نیچے، پلیٹ پر ایک فولڈ کیا ہوا کاغذ بھی تھا۔میں کاغذ کی موجودگی پر الرٹ ہوگیا، کہ شائید اس میں ضرور کوئی اشارہ یا پیغام ہے۔ بڑی احتیاط کے ساتھ پانی کا گلاس اٹھایا اور اضافی احتیاط کے ساتھ کاغذ کا ٹکڑا بھی اٹھایا۔ کاغذ کو جادوگر کی ہوشیاری کی طرح کھولا۔ اس پر لکھا تھا " سر اگر آپ ایک ایک کرکے ہمیں اندر کمرے میں بلائیں، ہمارے لئے آسانی ہوگی اور ہم آپ کے جانے کے بعد کی پریشانی سے بھی بچ جائیں گے"۔مجھے یہاں کی سخت ریجیم کا اشارہ مل گیا۔ اس اشارہ کی نزاکت برقرار رکھنے کے لئے، ہم نے یہ کھلی کچہری کچھ دیر نارمل انداز میں جاری رکھی۔ مجھے احساس ہوگیا، کہ ائیر کموڈور کے کان کافی لمبے ہیں۔ میں بھی نیشنل فیلڈ آفیسر اور پاکستان کی خاتون اول (چئیر پرسن ریڈ کراس) کے نمائندے کی حیثیت سے ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔کچھ دیر بعد، میں نے کہا کہ ہم بات چیت ون ٹو ون اندر کمرے میں کریں گے۔ کمرے کی ون ٹو ون بات چیت میں بہت سارے معاملات کا علم ہوا۔ یہ دفتر بھی ریٹائرڈ فوجیوں کے قبضے میں تھا۔انہیں سال میں ایک بار اینول جنرل میٹنگ میں بلایا جاتا تھا یا نیشنل اور پروونشل کسی پروگرام میں مدعو کیا جاتا تھا۔ عام ملازمین اور عوام کیساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا تھا۔ ریلیف کی تقسیم میں بخل کا اتنا عمل دخل تھا کہ ٹرکوں کے ٹرک اور بھرے گدام ضائع کئے جاتے تھے۔ لیکن ریلیف تقسیم نہیں ہوتا تھا۔

یہ دن پورے کا پورا ہم نے بہاولنگر میں ہی گزارنا تھا۔ریلیف سے بھرے گودام دیکھ کر، میں نے لوکل مساجد کے دو امام صاحب اور چرچ کے ایک پادری کو بلاوا بھیجا۔ دوامام صاحب اور ایک پادری تشریف لائے۔انہیں ریڈ کراس،اور اس کے تحت چلنے والے انسٹیچیوشنز کا کوئی علم نہیں تھا۔ ان کا ریڈ کراس موومنٹ کے ساتھ یہ پہلا رابطہ تھا۔ریلیف کے دو ٹرک دو مساجد اور دو ٹرک شیلوم چرچ ساہیوال کو دینے کا فوری انتظام کیا۔ امام صاحبان اور پادری کے ساتھ طے پایا کہ وہ یہ امداد مسجد اور چرچ کی نگرانی میں ضرورت مندوں میں تقسیم کریں گے۔ریلیف میں، آٹا، چاول، تیل، گھی، چینی، چائے، بسکٹ، خشک دودھ، ڈرائی فروٹ، کپڑے، کمبل، مچھردانیاں جوتے، اور دوسری اشیا تھیں۔ ادویات کا بھرا ایک ٹرک سلور جوبلی میٹرنٹی اینڈ چلڈرن ہسپتال ساہیوال کے لئے روانہ کیا۔ ریڈ کراس کو گفٹ کی گء تین ایمبولینسز اور دو ٹرک استعمال میں نہ لانے کی وجہ زنگ آلود بے کار کھڑے پڑے تھے۔

اس خرابی کو درست کرنے کا مطلب بڑے پنگے میں ہاتھ ڈالنا تھا۔ میرے ساتھ جو دوسرے ساتھی تھے، انہوں نے بھی اس اضافی پنگے میں ہاتھ ڈالنے سے منع کیا۔قریب قریب ایک درجن کے قریب واٹر کولر گودام میں بے کار پڑے تھے۔ دو واٹر کولر دو مساجداور تیسرا شالوم چرچ کو دیا۔دفتر میں ملازم، ایک بزرگ نے واٹر کولر مانگا۔ اسے واٹر کولر اور فیملی کے لئے کچھ کمبل بھی دئے۔ باقی ملازمین میں بھی دو دو کمبل، دو دو مچھر دانیاں ، خشک دودھ اور دوسرے آئیٹم تقسیم کئے۔ان ملازمین کو کبھی بھی اس طرح کی امداد نہیں دی گئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں ریڈ کراس موومنٹ کا گلا ہی دبا دیا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ فوجی ریجیم تھی۔ یس سر، نو سر، یہاں کا رواج تھا۔میں سول اور ریلیکسڈ بیک گرانڈ سے آیا تھا۔ برف کے پہاڑ سر کئے تھے، شناخت کے امتحان سے گزرا تھا، عام قیدی کی دشواریاں دیکھی تھیں، جیل میں بی کلاس کا مزہ بھی چکھا تھا، پبلک سروسز کمیشن کا امتحان بھی پاس کیا تھا، میجر اورنگ زیب کا مقابلہ بھی کیا تھا، پش بیک ہونے کی سازش ناکام بنانے کے علاوہ، مجھے احساس تھا، کہ دنیاوی فرعونوں سے اوپر بھی ایک بڑی طاقت موجود ہے۔

مجھے انصاف اور نا انصافی کی اچھی تمیز تھی۔اس کام میں ایک روحانی سکون تھا۔میں آزاد کشمیر کے 50 ہزار اور 25 ہزار روپے والے ماحول سے آزاد ہوا تھا۔ اس آزادی کو میں اللہ کی طرف سے ایک نعمت سمجھ رہا تھا۔امام صاحبان نے بہت دعائیں دیں۔ چرچ کیپادری نے بھی شکریہ ادا کیا۔ ڈسٹرکٹ برانچ میں ایک عید جیسا ماحول تھا۔ میں بھی مطمئن تھا۔ہمارے کام سے انٹرفیتھ کی شروعات بھی ہوئیں۔ویسے بھی میرا گاں، میرا شہر، میرا سکول، میرا کالج اور میری یونیورسٹی inclusivity کی مثال تھے۔ میں ایک پلورل ماحول سے آیا تھا۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے ادویات کے عطئے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ چونکہ یہ ماوں اور بچوں کا ہسپتال تھا، انتظامیہ نے خشک دودھ، کمبل اور مچھر دانیاں مانگیں ۔ گودام میں کافی سٹاک پڑا تھا۔ میں نے یہ آئیٹم دینے کی منظوری دے دی۔ میرے ساتھ جو دو لوگ شریک دورہ تھے، یوں تو بہت تابعدار اور ہمدرد نظر آتے تھے۔ مگر کچھ کچھ گمان ہوتا تھا، کہ یہ ائیر کموڈور رفعت محمود کے کانوں کی ایکسٹینشن ہیں۔ دن بہت مصروف گزرا۔ جلدی ریسٹ ہاوس لوٹ آئے۔ اگلے روز صبح 8 بجے براستہ عارف والہ لاہور کے لئے روانہ ہونا تھا۔

منگل 31 مئی 1977 صبح 8 بجے ہم تینوں براستہ عارف والہ لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔ پروگرام کے مطابق ہم نے لاہور دو پہر 2 بجے پہنچنا تھا۔یہاں پنجاب ریڈ کراس کے سیکریٹری میجر ریٹائرڈ افضل خان اور دوسرے لوگ ہمارے انتظار میں موجود تھے۔ میں نے جہاز کے ذریعے اسلام آباد جانا تھا اور اگلے روز بدھ یکم جون کو ہفتہ وار میٹنگ میں شریک ہونا تھا۔ہر بدھ کو بیگم نصرت بھٹو کی زیر صدارت ہفتہ وار میٹنگ ہوا کرتی تھی۔شام کی فلائٹ میں کچھ وقت تھا۔ اس دوران ہم نے چائے پی۔ دوپہر کا کھانا ہم نے دوران سفر ہی کھایا تھا۔پنجاب ریڈ کراس کے سیکریٹری کی کوشش تھی کہ میں اپنے دورے کے بارے میں کچھ کہوں۔ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی اسے ، اپنے مشاہدات کے بارے میں کسی قسم کا اندازہ ہونے دیا۔ان لوگوں نے مجھے ائیر پورٹ پر ڈراپ کیا۔ اسلام آباد ائئر پورٹ پر میرے پک اپ کے لئے ریڈ کراس کی گاڑی موجود تھی۔ میں سیدھا گھر چلا گیا۔

صبح یکم جون کو ٹھیک 11 بجے میٹنگ شروع ہوئی۔ میں نے دورے کی موٹی موٹی باتوں کا ذکر کیا۔ بیگم بھٹو نے کہا نذیر کوئی جلدی نہیں، لیکن تحریری رپورٹ بھی جونہی ممکن ہو submitکریں۔بیگم صاحبہ نے جب سنا کہ کمالیہ کے TB کلینک کے سینئر میڈیکل اسسٹنٹ کو TB ہوئی تھی اور اس کی چھٹی کے درخواست کو میں نے منظور کیا تھا، وہ کافی ناراض ہوئیں۔ انہوں نے ائیر کموڈور کو مخاطب ہوکر کہا "رفعت" "Why there was a delay of many months in sanctioning the leave?"۔میر رفعت محمود کے پاس کوئی مناسب جواب نہیں تھا۔ میری طرف مخاطب ہوکر بیگم صاحبہ نے کہا:
"Nazir, you did the right thing in sanctioning his leave and granting him advance salary. Check if he needs any further help. You can appoint someone temporarily to cover his leave period. May be the treatment takes longer."

بیگم صاحبہ نے کہا نذیر ایک قاضی پرنٹرز نے ہماری سالانہ رپورٹ شائع کی ہے۔ پہلے اس نے اڑھائی لاکھ کا بل دیا تھا۔ میں نے اسپر ایک query ڈالی تھی اور اب اس نے 2 لاکھ کا ریوائیزد بل دیا ہے۔ کل آپ خود جاکر چیک کریں کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ میں نہیں سمجھتی کہ بل مناسب ہے۔اگلے دن میں قاضی پرنٹرز گوالمنڈی انکوائری کے لئے چلا گیا۔ قاضی صاحب بہت ہی نیک اور صاحب اخلاق تھے۔ میں نے اسے معاملات کی حساسیت سے آگاہ کیا۔ اور بل میں کم زیادہ والی بات کے نتائج سمجھا دئے۔میں نے اسے سمجھا دیا، کہ بیگم صاحبہ کا مجھے انکوائری کے لئے بھیجنے کا، مطلب یہی تھا، کہ وہ بل کو غلط سمجھ رہی تھیں۔قاضی پرنٹرز کے مالک نے صاف صاف کہدیا کہ اڑھائی لاکھ کا بل بنانے کی ہدائیت اسے ائیر کموڈور میر رفعت محمود نے دی تھی۔ بعد میں اسی کی کہنے پر بل 2 لاکھ کر دیا گیا۔میں نے قاضی صاحب کو بتا دیا کہ وہ جائز بل بنائے اور بیشک اپنا منافع شامل رکھے۔ تیسری بار کی ہیرا پھیری اس کے لئے سنگین مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

میرے تعجب کی انتہا تھی، جب نیا بل 75 ہزار روپے کا بنا۔ میں یہ بل لے کر جب آیا تو ائیر کموڈور بہت پریشان ہوئے۔ اب وہ جان گئے کہ پریس والے نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہوگا۔ لیکن میں نے اسے محسوس نہیں ہونے دیا۔وہ پریشان تھا کہ میں راز اگل دوں گا۔ آنے والے بدھ کو جب بیگم صاحبہ نے دریافت کیا کہ نذیر پریس والے کے بل کا کیا ہوا۔ میں نے ہمت کرکے کہا بیگم صاحبہ اس میں کوئی غلط فہمی تھی، جس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔ یہ سن کر بیگم صاحبہ نے کہا، اچھا پھر ادائیگی کرا دیں۔میٹنگ کے بعد بیگم صاحبہ کی پرائیویٹ سیکریٹری رخسانہ بنگش میرے کمرے میں آئیں اور کمرہ بند کرکے کہا کہ میٹنگ ختم ہوتے ہی بیگم صاحبہ نے فائینل بل دیکھنے کے لئے منگوایا تھا۔ وہ سمجھ گئی تھیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ چونکہ تم نے انہیں کہا، غلط فہمی تھی اور اس کی تصحیح کر دی گئی ہے، اس لئے بیگم صاحبہ نے تمہارا بھی بھرم رکھا۔

یہ پہلا واقعہ تھا، کہ میں سمجھ گیا کہ بڑے عہدے اور اختیار کے لوگ بہت چھوٹے بھی ہوتے ہیں۔ میں نے ائئر کموڈور کے عیب پر پردہ ہی رکھا۔ پردہ داری میرے اختیار میں تھی اور میں نے اس اختیار کا استعمال کیا۔دو تین دن بعد ایک نوٹ سرکولیٹ ہوتا ہوا میرے پاس پہنچا۔ اسے ائیر کموڈور نے انیشئیٹ کیا تھا۔ اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل بشیر نائیک نے اس نوٹ کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔ اس نوٹ کے مطابق ہمارے بینک کی صدر برانچ سے 15 لاکھ روپے اس بینک کی ٹنچ بھاٹہ برانچ میں رکھنے تھے۔ عجیب سا فیصلہ تھا۔ میں نے اس نوٹ پر اعتراض لکھا کہ صدر برانچ سے یہ رقم ٹنچ بھاٹہ برانچ میں منتقل کرنا، دشواریاں پیدا کرے گا۔ اس لئے یہ فیصلہ منسوخ کیا جائے۔ ایڈمن آفیسر یہ نوٹ میرے اعتراض کے بعد واپس لے گیا۔

اگلے دن ائیر کموڈور میرے کمرے میں آیا اور سلام دعا کے بعد مجھے ساتھ چلنے کو کہا۔ رفعت محمود کسی کے کمرے میں نہیں جاتا تھا بلکہ ہر ایک کو،اپنے آفس میں بلاتا تھا۔ باہر اس کی برینڈ نیو VOLVO گاڑی کھڑی تھی۔ سویڈش ریڈ کراس نے ہمیں تین VOLVO کاریں گفٹ کی تھیں اور رفعت محمود نے ایک اپنے لئے رکھ دی تھی۔اس کے دفتر آتے ہی ایک چپراسی اس کار کو کپڑا مارنا شروع کرتا تھا اور ہیڈ کوارٹرز کا میکینک اس کا چیک اپ شروع کر تا تھا۔ اگر کوئی معمولی خرابی ہوتی تو سویڈش ریڈ کراس کے ذریعے یہ پارٹ ایک دودن میں ڈپلومیٹک consignment کی حیثیت سے ائیر کارگو کی شکل میں سویڈن کی ایمبیسی اسلام آباد کے ذریعے ڈلیور ہوتا تھا۔ رفعت محمود بادشاہ تھا۔میں اس کار میں بیٹھ کر اس کے ساتھ چلدیا۔ زندگی میں پہلی بار ایک آرام دہ کار میں بیٹھا۔ یوں تو ائیر کموڈور کی گاڑی کے پاس سے پرندے بھی نہیں گزرتے تھے۔تھوڑی ڈرائیو رکے بعد ایک محل نما کوٹھی آئی۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا اور ہم اندر داخل ہوئے۔

یہ کوٹھی ان کو ریڈ کراس کی طرف سے رہائش کے لئے ملی تھی۔ ان کی ایک زبردست ٹور تھی۔ دنیا بھر میں اس کا ایک بہت بڑا پروٹوکول تھا۔ ملکی سطح پر بھی ان کا بڑا رعب تھا۔ کیونکہ وہ مراعات شئیر کرنے کے خزانے پر بیٹھے تھے۔اندر سٹنگ روم میں بیٹھنے کے بعد اس نے فرج کھولا اور پہلے سے بنی چائے گرم کرائی۔ میں پہلی چسکی لگاتے ہی حیران اور پریشان ہوا۔ رفعت محمود نے میرا اضطراب بھا نپ لیا۔ اور بولے، کیا تم ہی نمکین چائے پی سکتے ہو؟ میرا بھی تو حق اور کلچر ہے۔ میں بھی تو "میر" ہوں۔میں دنیا داری میں اناڑی اور جذباتی تھا۔ میر رفعت محمود کی یہ ایموشنل چال اور بلیک میلنگ نہ سمجھ سکا۔میرے اندر کی کشمیریت جاگ اٹھی اور میں خوش ہوا کہ وہ بھی کشمیری تھا۔ لیکن وہ فوجی تھا اور میں سویلین۔ مجھے سویلین ہونے کی کمزوری کا زیادہ تجربہ بھی نہیں تھا۔ نہ ہی میں نے کسی فوجی کے ساتھ اس سے پہلے کوئی پنگا لیا تھا۔

چائے پیتے پیتے رفعت محمود بولے نذیر میں بھی کشمیری ہوں۔ اب اللہ ہی جانے کہ کیا وہ نمکین چائے باضابطہ سے پیتے تھے یا اس دن ایک مقصد کے لئے ایموشنل ٹریپ کے طور تیار رکھی تھی۔ جو بھی تھا، وہ داو لگانے کے علم سے واقف تھے۔رفعت محمود نے کہا کہ تم نے صدر برانچ سے 15 لاکھ روپے کی ٹنچ بھاٹہ برانچ میں منتقلی پر اعتراض کیوں کیا؟ میں نے سیکیورٹی اور accessibilityکی وجوہات بتائیں۔ائیر کموڈور نے میرے اعتراض سے اتفاق کیا ۔ مگر بولے نذیر اس برانچ میں میرا بیٹا ہے۔ یہ 15 لاکھ کا بزنس لانے سے وہ اس برانچ کا منیجر ہو جائے گا۔ تم اس نوٹ کے ساتھ اتفاق کرو۔میرے اتفاق سے ایک شخص کی ترقی ممکن تھی اور یہ اختیار میرے پاس تھا۔ یہ کوئی بد دیانتی بھی نہیں تھی بلکہ ایک تکنیکی عمل تھا۔ فائدہ ایک کشمیری کا تھا اور نقصان کسی کا نہیں۔کشمیری ہونے کی وجہ میں دل کے سامنے ہار گیا، اور اتفاق کرنے کی حامی بھر لی۔ ہم واپس دفتر آئے اور ایک نئے سرکیولر پر میں نے بھی اتفاق کیا۔ (جاری ہے)

واپس کریں