دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ریڈ کراس ۔لائلپور میں کوڑھ ، کمالیہ میں ٹی بی ، ساہیوال میں عارضی معذور کلینک میں ڈیوٹی قسط7
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
4 مئی 1977کو میری تعیناتی بطور فیلڈ آفیسر گریڈ 18 میں ہوئی اور میں نے حکومت آزاد کشمیر کو اپنا استعفی 5 مئی 1977 کو پیش کیا۔ گریڈ 18 کے عہدے پر میری پروبیشن 5 اکتوبر 1977 کو مکمل ہوئی۔ہر بدھ کو بیگم نصرت بھٹو، نیشنل ہیڈ کوارٹرز میں آکر ریگولر میٹنگ کرتی تھیں۔ ان کی دو سیکریٹریز مس نگار شفیع اور رخسانہ بنگش،یہ میٹنگز کوآرڈینیٹ کرتی تھیں۔ رخسانہ بنگش کا دفتر میرے دفتر کے سامنے والے کمرے میں تھا۔رخسانہ بنگش بعد میں آصف زرداری کے دور حکومت میں ان کے ساتھ رہیں۔ شائید وہ آج بھی ان کے سٹاف میں شامل ہیں۔بدھ 25 مئی 1977 کی میٹنگ میں بیگم صاحبہ نے مجھے کہا، "نذیر" کل 26 مئی سے آپ کا 6 دن کا،لائلپور، ساہیوال اور بہاولنگر ڈسٹرکٹ برانچز کا دورہ طے کیا گیا ہے۔ یہ دورہ میری تعیناتی کے بعد پہلا دورہ تھا۔بیگم صاحبہ نے کہا ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ برانچز کے چئیرمینز کو آپ کے وزٹ کا پروگرام ارسال کردیا گیا ہے، اور ہدائیت کی گئی ہے کہ وہ آپ کے قیام کا انتظام مقامی ریسٹ ہاوس میں کریں اور مناسب ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کریں۔

بیگم صاحبہ کا لہجہ ماں جیسا تھا۔ مجھے کہا کہ آپ لائلپور ٹرین میں جائیں گے۔ آپ کا جو پاس ہے، اس پر آپ فرسٹ کلاس ائیر کنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ میں، پاکستان میں اور دنیا بھر میں سفر کر سکتے ہیں۔ لاہور کے لئے آپ کا ائیر ٹکٹ تیار ہے۔آپ کے ہمراہ پنجاب سے نواز خان اسسٹنٹ سیکرٹری اور فیلڈ آفیسر پنجاب محمد سعید ہونگے۔ وہ آپ کو لاہور سے جوائین کریں گے۔25 مئی شام کو میں اسلام آباد سے لاہور By Air چلا گیا اور رات لاہور ہوٹل میں قیام کیا ۔جمعرات 26 مئی کو ہم تینوں صبح 6 بجکر 35 منٹ پر لائلپور کے لئے روانہ ہوئے۔پروگرام کے مطابق ہم نے 9 بجکر 5 منٹ پر لائلپور پہنچنا تھا۔ ہم پروگرام کے مطابق 9 بجکر 30 منٹ پر District Red Crescent Branch Office پہنچے۔ اور معائینہ شروع کیا۔یہاں سے 8-9 میل دور جھنگ روڈ پر Red Crescent Leper Home تھا۔ اس ہوم میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے کوڑھ کے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا اور ان کے رہنے کابھی انتظام تھا۔ اس لئے اسے Leper Home کہا جاتا تھا۔ ہم پروگرام کے مطابق لیپر ہوم پر 4 بجکر 30 منٹ پر پہنچے۔ ہمارا استقبال لیپر ہوم کی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر نے کیا۔ تھوڑی دیر بعد کوڑ ھ کے مریضوں سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا۔

میں کچھ ہچکچایا اور ہاتھ ملانے سے احتیاط کرنے لگا۔ اتنے میں اس لیپر ہوم کی ریزیڈنٹ آسٹریلوی ڈاکٹر آئی اور سب کو گلے لگایا اور سب کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ یہ ہمیں سمجھا نے کا ایک عملی مظاہرہ تھا۔مجھے آسٹریلوی ڈاکٹر کی ان مریضوں کے ساتھ محبت اور اپنائیت دیکھ کر اپنی ہچکچاہٹ اور رویے پر شرمندگی ہوئی۔ اور میں نے بھی ہاتھ ملانا شروع کیا۔ آسٹریلوی ڈاکٹر نے بتایا کہ کوڑھ کا مرض چھونے سے نہیں لگتا۔لیپر ہوم (Leper Home) میں یہ خبر پہلے ہی پھیل گئی تھی، کہ معائینہ کرنے آنے والا افسر کشمیری ہے۔ لیپر ہوم کا وزٹ، ہمارے دن کی مصروفیات کا آخری معائینہ تھا۔

آسٹریلوی ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ ایک مریض کشمیری ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں یہ سن کر حیران ہوا، کہ آخر مریض کشمیر کی نسبت سے ملنا چاہتا ہے۔جب مریض سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ وہ گلگت سے ہے اور 6 سال سے لیپر ہوم میں رہ رہا ہے۔ کوڑ ھ کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد وہ گلگت اور معاشرے سے دور بھاگ نکلا تھا ۔ 6 سال سے گھر والوں سے الگ ہو گیا تھا۔ اس کے گھر والوں کو بھی اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ وہ بھی گمنام رہنا چاہتا تھا۔لیکن میری آمد پر اس میں علاقے کی نسبت کا احساس بیدار ہوا تھا۔ یہ سن کر میں بھی آبدیدہ ہوگیا۔ مجھے احساس ہوا، کی اگر آزاد کشمیر میں میجر اورنگ زیب میرے پیچھے نہ پڑتا، تو مجھے گلگت کے اس ہم وطن کی خدمت کا موقع نہ ملتا۔ میرے اندر علاقے کی نسبت کا تعصب اور احساس نہ جاگتا۔میرے پاس کچھ پیسے تھے، جو میں نے اسے لفافے میں بند کرکے دے دئے۔ ڈپٹی کمشنر جو ڈسٹرکٹ برانچ کا چئیرمین بھی تھا، اسے ہدائیت کی کہ جنرل فنڈ سے اسے ایک خاص رقم بھی دی جائے، تاکہ وہ گلگت اپنی فیملی کو بھیج سکے۔

لیپر ہوم میں زیر علاج دوسرے مریضوں کے لئے بھی مالی امداد کی منظوری دی۔لیکن گلگت والے مریض کے لئے، ایک سپیشل کیس کے طور خاص انتظام کرایا، جس میں ایک ماہانہ امداد بھی شامل تھی۔میں نے آسٹریلوی ڈاکٹر سے کہا کہ اگر اس گلگتی مریض کو آئیندہ میری مدد کی ضرورت پڑے، تو مجھ سے رابطہ کرائیں۔ یہاں ائیر کموڈور میر رفعت محمود نے فوجی طرز کا ڈسپلن رائج کیا تھا۔ میرے وزٹ کے بعد رائج Regime میں ایک نیا پن آیا اور سویلین ماحول بحال ہوا۔اگلے دن ہم نے کمالیہ جانا تھا ۔ ڈپٹی کمشنر نے ہمارے رات کے قیام کا بندوبست ریسٹ ہاوس میں کرایا تھا۔

رات ریسٹ ہاوس میں گزارنے کے بعد ہم تین اور ڈپٹی کمشنر جمعہ 27 مئی پروگرام کے مطابق صبح 7 بجکر 30 منٹ پر ٹی بی کلینک ،(TB Clinic) کمالیہ کے معائنے کے لئے روانہ ہوئے۔کمالیہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 67 واں شہر سمجھا جاتا تھا۔ کمالیہ ہاتھ سے اور چرخے پر بنی "کھدر" کے لئے مشہور تھا اور چھوٹے بچوں سے کھدر کی فیکٹریوں میں کام کرایا جاتا تھا۔ یہ شہر چائلڈ لیبر کے لئے بدنام تھا۔کھدر کی بنائی سے نکلی گرد ،(Dust) کی وجہ یہاں بچے اور بڑے اکثر TB کے مریض تھے۔ پھیپھڑوں کی بیماری عام تھی۔ اس لئے یہاں خصوصی طور ٹی بی کلینک کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ یہاں کھدر کی بنائی کی گرد سے TB کا مرض تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کلینک کا معائینہ میرے دورے کے پروگرام میں شامل کیا گیا تھا۔بہت اچھا اور بڑا کلینک تھا۔ میں نے مریضوں اور کلینک پر کام کرنے والے میڈیکل سٹاف کے الگ الگ انٹرویو کئے۔ ان کی مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔

انٹرویو کے دوران مجھے یہ جان کر تعجب ہوا کہ کلینک کا سینئر میڈیکل اسسٹنٹ خود 4 ماہ سے TB کے مرض میں مبتلا تھا اور4 ماہ سے نیشنل ہیڈ کوارٹرز میں اس کی میڈیکل Leave کی درخواست پڑی تھی اور سیکرٹری جنرل ائیر کموڈور میر رفعت محمود چھٹی کی منظوری نہیں دے رہے تھے۔ میڈیکل اسسٹنٹ ڈر کے مارے ائیر کموڈور میر رفعت محمود کا نام نہیں لینا چاہتا تھا۔ کلینک میں ایک فوجی ریجیم کا خوف اور بے اختیاری عیاں تھے۔مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا، کہ جس کلینک میں مقامی لوگوں کے TB کا علاج کیا جاتا تھا، وہاں کا سینئر میڈیکل اسسٹنٹ اس علاج سے محروم ہی نہیں تھا بلکہ اس کی 4 ماہ سے چھٹی کی درخواست بھی منظوری کے لئے پڑی تھی۔میں نے اسے کہا کہ وہ فوری طور تازہ درخواست لکھے۔ جب ڈپٹی کمشنر سے پوچھا کہ وہ کمالیہ برانچ آفس کا چئیرمین ہے، اس نے سینئر میڈیکل اسسٹنٹ کی میڈیکل Leave پر مزید کاروائی کیوں نہیں کی۔جواب وہی فوجی ریجیم کا ڈر تھا۔ ائیر کموڈور رفعت محمود ائیر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ریڈ کراس میں تعینات کئے گے تھے۔ یہاں سے بھی ریٹائر منٹ کے بعد دو بار ایکسٹینشن لے چکے تھے۔

گریڈ 19 کی تنخواہ کے ساتھ، پروٹوکول اور مراعات کی فہرست نے انہیں بے تاج بادشاہ بنا دیا تھا۔ یہ بادشاہت اس نے ماتحت کے اہم عہدوں پر ریٹائرڈ فوجی تعینات کرکے قائم کی تھی۔ رفعت محمود بہت ہی با اثر شخصیت تھے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر عثمان علی اور تین سرونگ جرنیل ان کے قریبی عزیز تھے۔ ایک ایلیٹ کلاس سے ان کا تعلق تھا۔ریڈ کراس کی گورننگ باڈی کے ممبران میں جنرل سی کے حسن اور جنرل کے ایم عارف بھی شامل تھے۔ 5 جرنیل اس کی پشت پر تھے۔ اس لئے رفعت محمود سے کوئی پنگا نہیں لیتا تھا۔رفعت محمود ان لوگوں کو عالمی کانفرنسز میں بھیجتا تھا اور ان لوگوں کے ہوائی جہاز کے سفر، بڑے ہوٹلوں میں لمبے قیام کا انتظام کرتا تھا۔

اندرون پاکستان بھی منیجنگ باڈی اور ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگز میں شرکت کے لئے ممبران کو ہوائی سفر، ہوٹل میں قیام اور دوسری سہولیات میسر کی جاتی تھیں۔سینئر میڈیکل اسسٹنٹ نے میڈیکل Leave کی نئی درخواست لکھ کر لائئ۔ میں نے اسے Full Pay کے ساتھ منظور کرنے کے علاوہ اسے دو ماہ کی ایڈوانس تنخواہ دینے کی منظوری بھی دے دی۔ایڈوانس تنخواہ کی واپسی کو مکمل علاج کے بعد آسان قسطوں میں ادائیگی سے مشروط کیا۔ ریڈ کراس گودام سے اس کے لئے چاول، آٹا، گھی، چینی اور دوسرا سامان ریلیز کرانے کی ہدائیت بھی دی۔مجھے Wordsworth کی نظم "Lines Written in Early Spring" کے آخری دو مصرعے یاد آئے :
"Have I not reason to lament
What Man has made of Man"

ٹی بی کلینک کے سینئر میڈیکل اسسٹنٹ کے ساتھ یہ سلوک فوجی ریجیم کی پتھر دلی کی ایک دل دکھانے والی مثال تھی۔ بیرونی ممالک اور دنیا کی مختلف ریڈ کراس سوسائٹیز کی طرف سے آئی امداد سے گودام بھرا پڑا تھا۔ کھانے پینے کے سامان اور ادویات کی Expiry Date بھی قریب آچکی تھی۔ گودام میں پڑی اشیا کی Expiry Date کی فہرست تیار کرنے کی ہدائیت دی ۔ یہ بھی ہدائیت دی کہ جہاں Expiry Date میں 3 ماہ رہ گئے ہوں وہ سارا سامان کلینک کے سٹاف اور زیر علاج مریضوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس تقسیم میں ڈپٹی کمشنر کے آفس سے ایک اہلکار کی شمولیت کی بھی ہدائیت دی۔ڈپٹی کمشنر میری کاروائی سے بہت خوش ہوئے اور ریلیف بانٹنے کی نگرانی کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ سینئر میڈیکل اسسٹنٹ کی چھٹی اور اس کا ایڈوانس منظور کرنے اور ریلیف تقسیم کرنے کی ہدائیت کیبعد ہم دو پہر 2 بجے، کمالیہ سے لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔کلینک کے سٹاف، مریضوں اور ڈپٹی کمشنر نے جس پیار اور محبت کے ساتھ ہمیں کمالیہ سے رخصت کیا،وہ احساس صرف محسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ بیان نہیں کیا جاسکتا۔

رات لاہور قیام کرنے کے بعد ہفتہ 28 مئی کی صبح ہم 6 بجکر 15 منٹ پر ٹرین کے ذریعے ساہیوال کے لئے روانہ ہوئے۔ اور ہم نے ساہیوال 9 بجکر 30 منٹ پر پہنچنا تھا۔ساہیوال کو پہلے مونٹگمری Montgomery کہتے تھے۔ آبادی کے لحاظ سے ساہیوال پاکستان کا 21 واں بڑا شہر ہے۔ یہ علاقہ پانی،بھینسوں کے دودھ اور آثار قدیمہ کے لئے مشہور ہے۔ لوگ پنجابی، رانگری اور اردو بولتے ہیں۔ہم نے ٹھیک 10 بجے ریڈ کراس کی TD کلینک یعنی Temporary Disability Clinic پہنچنا تھا۔ جونہی ہم پہنچے تو استقبالیہ (Reception) پورا بھرا ہوا تھا اور 50 سے زائد لوگ باہر انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔یہاں پہنچ کر مجھے احساس ہوا کہ 28 مئی کا پورا دن اس کلینک کے کام کے معائینے اور کلینک سے متعلقہ معاملات کے لئے کیوں رکھا گیا تھا۔یہ کلینک سول اور ملٹری کے معذور لوگوں کے علاج اور ان کی Rehabilitation کے لئے تھا۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی اس کلینک کو زبردست سپورٹ حاصل تھی۔

جن مریضوں کا علاج ہو رہا تھا، ان کی Rehabilitation کے معاملات پر اقدامات کرنے تھے۔نئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد استقبالیہ میں اور باہر اپنی اپنی عرضی لے کر بیٹھی تھی۔ جوان بھی تھے، ادھیڑ عمر کے بھی تھے اور بزرگ بھی۔ خواتین بھی تھیں۔ مگر خواتین کی تعداد بہت کم تھی۔میں نے زندگی میں اس سے قبل معذور اور مجبور لوگوں کے ٹیمپریری ڈس ایبیلیٹی Temporary Disability کے مسائل نہیں سنے تھے۔اس دن ہر طرح اور ہر مزاج کے لوگ آئے تھے۔کلینک والوں نے ان لوگوں کی پہلے سے تیار کی گئی فہرست اور معذوری کی نوعیت کی سمری مجھے دی۔ کلینک میں واش رومز کا اچھا انتظام تھا۔ میں نے وہ چیک کئے۔ جرمن ریڈ کراس کی طرف سے عطیہ کئے گئے بہت سارے واٹر کولرز سے، دو واٹر کولر ایک استقبالیہ میں اور ایک باہر لگوائے اور آئے ہوئے لوگوں کے لئے اعلان کرایا کہ باتھ روم اور پانی کا مکمل انتظام ہے، اور اگر کوئیدقت ہو تو استقبالیہ سے رجوع کریں۔ اس طرح اس اعلان کے بعد لوگ اطمینان کیساتھ بیٹھ گئے۔ ورنہ اتنے لوگوں کو باتھ روم جانے اور پیاس کی پریشانی رہتی۔ ان لوگوں کو یہ اعلان اور یہ انتظام ایک نئی بات لگی۔ ایسا یہاں پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔اس دوران میں نے ڈپٹی کمشنر کو کہا کہ وہ دوپہر کے ہلکے سے کھانے کا بندوبست سب لوگوں کے لئے کرائے اور اس کی ادائیگی کلینک کے سوشل فنڈ سے ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا "سر کیا بات کر رہے ہیں۔یہ ادائیگی تو میرا فرض ہے۔ میں آپ سے بہت کچھ سیکھ رہا ہوں"۔ہم نے اعلان کیا کہ پہلے ہم سب مل کر کچھ کھائیں گے اور اس کے بعد ہرایک کی درخواست دیکھیں گے۔

شائید اس طرح کا برتاو ان لوگوں نے پہلی بار دیکھا۔ کلینک والے بھی کچھ عجیب عجیب سا،محسوس کر رہے تھے۔ مگر وہ بھی احترام آدمیت سیکھ رہے تھے۔میرا محکمہ اطلاعات حکومت آزاد کشمیر اور پاکستان ریڈ کراس کی نوکری کا پہلا عملی تجربہ تھا۔ آئیڈیاز کا علم سکول، کالج اور یونیورسٹی میں تھیوری کے طور ہوا تھا۔ اب میں اپنا گائوں، اپنے لوگ، اپنے دوست، اپنے ماں باپ، قبیلہ اور اپنی تاریخ چھوڑ کر، ایک نئی دنیا میں آیا تھا۔ شائید مجھے بھی کسی چیز کی تلاش تھی۔ مجھے زمین پر قدم آہستگی کے ساتھ رکھنے کی تعلیم اپنے گھر سے ملی تھی۔ میں نے یہ احساس آج تک کبھی کمزور ہونے نہیں دیا۔ کھانا کھانے کے بعد ہم نے ایک ایک کرکے درخواست گذاروں سے بات چیت شروع کی۔پہلے ان لوگوں کو دیکھا جو زیر علاج تھے۔ کم و بیش ہر ضرورت مند کو ویل چیئر یا یا ہیرنگ ایڈ دلائی۔ ویل چئیرز کے انبار لگے تھے۔ لیکن کلینک کے لوگ دینے میں بخل کرتے تھے۔پہلی بار ویل چیئر میں بیٹھے لوگوں کی ایک لائین لگ گی۔ کچھ کے Rehabilitation اور Social Integration کے مسائل تھے وہ حل کئے اور کچھ ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری لگائی۔

ویل چیئر کے ضرورت مندوں میں ایک بزرگ خاتون ڈپٹی کمشنر کی دور پار کی رشتہ دار بھی تھی۔ فارغ ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے کہا سر مجھے اس لئے بھی خوشی ہوئی کہ ضرورت مندوں میں میری ایک رشتہ دار بھی تھی اور شروع سے آخر تک جس طرح ہم نے ان کی خدمت کی ہے، آج تک ایسا اس کلینک میں کبھی نہیں ہوا۔لوگ مطمئن تھے۔ دعائیں دے رہے تھے۔ کچھ نے میری ماں کے لئے اچھے الفاظ بولے۔ مجھے بہت اچھا لگا اور اچھا محسوس ہوا۔اپنی ماں کے لئے اچھے الفاظ سن کر میری آنکھوں میں آنسوں آئے مگر میں نے وہ چھپا لئے۔ قدرت مہربان تھی، مگر رونے کی گنجائش نہیں تھی۔ میں نے ماں کو 4 سال سے نہیں دیکھا تھا اور نہ کھبی مستقبل قریب میں ملاقات کی کوئی امید تھی۔اس کے بعد میں نے ICRC Geneva کے لئے ایک ریکویسٹ تیار کی کہ ہمیں اس کلینک کے لئے Prosthetic Transplantation کے لئے سپئیر پارٹس اور Cochealer implants کے لئے سپئیر پارٹس اور معذوری سے متعلق دوسری چیزوں کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی مزید ویل چیئرز اور ہیرنگ ایڈز کی ریکویسٹ بھیجی۔ ICRC والے یہ ریکویسٹ ایک پروٹوکول کے تحت دنیا کی سبھی ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کو سرکولیٹ کرتی ہے۔ اور امداد کے انبار لگ جاتے ہیں ۔دن بہت مصروف گزرا اور شام ہم ریسٹ ہاوس چلے گئے ۔ اگلے دنSilver Jubilee Maternity Hospital Sahiwal کا معائینہ کرنا تھا۔ (جاری ہے)

واپس کریں