دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جنرل اسمبلی تھرڈ کمیٹی میں حق خودارادیت پر بحث،کشمیر کا براہ راست کوئی ذکر نہیں
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی قرار داد پر ریکارڈ ووٹ پڑے۔جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں حق خودارادیت پر قرار داد کو پاکستان کے مندوب نے متعارف کرایا۔ یہ قرار داد Generic تھی۔ اس میں کشمیر کا کوئی براہ راست ذکر نہیں تھا۔ البتہ اشاروں اشاروں میں بات ہوئی۔ درج ذیل پیراگراف میں کشمیر کی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ لیکن اس قرار داد پر جبرالٹر کے حوالے سے برطانیہ اور سپین میں تکرار ہوا۔ ریزولیوشن L.48 میں کہا گیا؛
"That peoples still struggling to realise the right are subjected to military action, arbitrary detentions, intimidation, curfews and demographic changes by the occupying power."
اس تذکرے میں ہندوستان اور کشمیر کا کوئی براہ راست ریفرنس موجود نہیں۔ سب اشارے ہی ہیں۔ کشمیری میں کہاوت ہے " کئیل سند بول بوش زانہ، کئیل سند مول موج" ۔ یعنی گونگے کی بات چیت، گونگے کے ماں باپ ہی جانتے ہیں"۔ جنرل اسمبلی میں یہ دلیل کام نہیں آتی۔سپین نے اس ریزولیوشن کے تحت جبرالٹر کا براہ راست ذکر کیا۔ سپین نے کہا :
In Gibraltar, "an administering Power of a colonised territory attempts to create the illusion that the colonial tie has disappeared."
قرار داد L.48 پر کوئی ووٹ نہیں ہوا اور اسے بغیر ووٹ کے منظور کیا گیا۔ اس کے برعکس مصر نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت پر قرارداد 50.L متعارف کرائی۔ اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں تھا۔اس قرارداد کی خاص باتیں :
1۔ قرار داد Exclusive فلسطینی عوام کے حق خودارادیت پر تھی۔ یہاں اشاروں اشاروں میں بات نہیں ہوئی۔
2۔ فلسطین کے آبزرور نے اس قرار داد پر کی گئی بحث میں حصہ لیا۔
3۔ اس قرارداد کو ریکارڈ ووٹ سے منظور کیا گیا۔
4۔ قرار داد کے حق میں 167 ووٹ پڑے۔ 5 ووٹ خلاف پڑے اور مخالف ووٹ میں
Nauru, Marshall Islands, United States, Israel and Micronesia
کے ممالک شامل تھے۔
سات ممالک نے Abstain کیا۔ ان 7 ممالک میں:
Cameroon, Kiribati, Guatemala, Palau, Rowanda, Solomon Islands and Togo
کے ممالک شامل تھے۔فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ریزولیوشن پر ریکارڈ حمایتی ووٹ، اصل میں امریکہ اور اسرائیل کی بھاری شکست تھی۔ ہندوستان کا سیاسی قد کاٹھ اور اثر کسی بھی طرح امریکہ اور اسرائیل کے مجموعی سیاسی قدکاٹھ اور اثر سے زیادہ نہیں۔ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ریزولیوشن میں کہا گیا :
"Assembly would stress the urgency of ending the Israeli occupation that began in 1967 as well as a just, lasting peace settlement between the Palestinian and Israeli sides based on relevant Resolutions of the United Nations and the Madrid terms of reference, including the Arab Peace Initiative and Quatret Road Map to a permanent two-State solution to the Israeli-Palestinian conflict....."
پاکستانی مندوب کو اشاروں اشاروں میں بات کرنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا ذکر OHCHR کی جون 2018 اور جولائی 2019 کی رپورٹس میں موجود ہے اور اقوام متحدہ کی ٹمپلیٹ بھی موجود ہے۔ یہاں: "مغل ڈیشتھ فارسی پھورن" والا معاملہ درپیش تھا۔ اللہ ہمیں حوصلہ اور ہدائیت دے۔
واپس کریں