دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
برسلز کشمیر کانفرنس،بھارتی لابی کے الزامات، امان اللہ خان کی گرفتاری ۔ قسط23
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
یورپی پارلیمنٹ میں سوشلسٹ گروپ کی طرف سے 18 اور 19 اکتوبر 1993 کو منعقدہ کانفرنس سے پہلے ہی سردار قیوم خان اور مجھ پر الزامات کی بارش شروع ہوئی ۔ الزامات سے بھرا لٹریچر 20 ستمبر 1993 سے، یورپی پارلیمنٹ میں تقسیم ہونا شروع ہوا۔ میں نے 15 اکتوبر 1993 کے پاکستان آبزرور میں ایک فل پیج مضمون بعنوان
"Indian malicious propaganda against SARDAR ABDUL QAYYUM" تحریر کیا اور سردار صاحب کا بھر پور دفاع کیا۔ سردار صاحب کا دفاع کرتے ہوئے میں نے مضمون میں ایک جگہ لکھا :
"The allegation that he (Sardar Abdul Quayyum) spends more time in the night clubs of the West, is as far fetched an invective, as saying that Mohandas Karamchand Gandhi would have had sex with young girls, he slept with, during the trials of self-restraint. Sardar is quietly and publicly admired for his discipline, down to earth hub, piety of pen and prose".
میری سردار صاحب کے ساتھ پہلی ملاقات جنوری 1974 میں، وزیراعظم ہائوس میں ہوئی تھی۔ وہ اسلامک کانفرنس میں شرکت کے لئے رباط جا رہے تھے۔ میرا یہ تعلق ان کے مرنے تک قائم رہا۔ اس تعلق میں کئی اہم مقامات آئے۔

میں مظفرآباد جیل سے ہائی کورٹ کے حکم پر رہا ہوا تھا۔ لیکن یہاں قانون کی حکمرانی کا یہ حال تھا کہ مقامی پولیس نے مجھ پر تین مہینے تک مظفرآباد نہ چھوڑنے، کوئی مضمون نہ لکھنے اور کوئی تقریر نہ کرنے کی پابندی لگا دی تھی۔ اس زمانے میں انسانی حقوق کی تشریح پولیس اور مقامی ایجنسیاں ہی کرتی تھی۔ پولیس اور ایجنسیوں کے ساتھ کچھ مقامی لوگوں کے روابط اور interaction کو ایک سوشل سٹیٹس مانا جاتا تھا۔ چغل خوری اور مخبری کا ایک دلچسپ سلسلہ جاری تھا۔ آج کی طرح اس سلسلے کو عیب نہیں مانا جاتا تھا۔

زہر فراہم کرنے کا الزام : یورپی پارلیمنٹ اور دوسری جگہوں پر تقسیم کئے لٹریچر میں مجھے Demonise کرتے ہوئے لکھا گیا کہ میں نے نواز شریف کو زہر فراہم کیا اور پاکستان کے چوتھے آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ کو زہر دیکر مارا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں تب تک نواز شریف کو کبھی بھی نہیں ملا تھا۔اگرچہ ایک بات جہاز میں اسلام آباد سے لندن اکٹھے سفر کرتے ہوئے، راجہ ظفر الحق صاحب نے کہا بھی، کہ نواز شریف صاحب لندن میں ہیں، "آپ کیوں نہیں ملتے؟" لیکن مجھے کبھی ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ میں نے دونوں بھائیوں کی پاکستان میں سیکیورٹی کو اپ گریڈ کرنے کے لئے، اقوام متحدہ سے 5 مارچ 2009 کو ارجنٹ ایکشن بھی کرایا اور حکومت پاکستان کو ایک ڈیمارش بھجوایا۔

بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کرنے کا الزام : یہ بات عام تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ میرا ایک ذاتی تعلق رہا ہے۔ بھٹو صاحب کے مظفرآباد دورے کو میں نے راولپنڈی سے کور کیا تھا اور سپریم کورٹ میں ان کے کیس کی شنوائی کے دوران، بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ، فیصلے کے دن تک سپریم کورٹ میں موجود رہا۔ بینظیر بھٹو کو اس تعلق کا احساس اور احترام تھا۔بھارتی لابی کو اس تعلق کا علم بیگم نصرت بھٹو کی ویانا میں انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی طرف سے بلائی گئی ورلڈ کانفرنس میں تقریر میں کشمیر segment میں میرے input سے ہوا تھا۔ بیگم صاحبہ پاکستان وفد کی قیادت کررہی تھیں اور انہوں نے اپنی تقریر میں کشمیر segment کو تین بار ہم سے شئیر کیا اور ہماری رائے اور تجاویز کو بار بار اکوموڈیٹ کیا۔ اور کانفرنس کی Plenary اور Main Committee سے ایک تاریخی خطاب کیا۔بینظیر بھٹو کے نام ایک اوپن لیٹر میں، اسے کہا گیا تھا کہ وہ مجھ سے محتاط رہے، کیونکہ میں نے اس کے والد بھٹو صاحب کی پھانسی پر "مٹھائی" تقسیم کی تھی۔

جب کہ میں نے بینظیر بھٹو کی والد کے ساتھ آخری ملاقات پر الفتح کراچی میں ایک کالم " اور گھڑی کی سوئیاں رک گئیں " اور بھٹو صاحب کی پھانسی پر دوسرا کالم "ہمالہ رو رہا ہے" لکھے تھے اور یہ پڑھ کر دونوں ماں بیٹی اور باقی لوگ رو پڑے تھے۔ ان دو کالمز کی وجہ مجھے جنرل ضیا الحق کی حکومت نے "مارک" کیا تھا۔میرے خلاف زہر فراہم کرنے اور مٹھائی تقسیم کرنے کے الزامات کارگر ثابت نہیں ہوئے۔ میں خود برسلز کی کشمیر کانفرنس میں شریک نہیں ہوسکا کیونکہ میں نے دولت Limassol میں ہونے والی دولت مشترکہ کی کانفرنس CHOGM 93 کے لئے 21 اکتوبر تا 25 اکتوبر Cyprus جانا تھا۔ بینظیر کو وزیراعظم منتخب ہوئے چند دن ہوئے تھے اور انہوں نے پیغام بھیجا تھا کہ میں ہر حالت میں شریک ہوں۔ ہم نے دولت مشترکہ کانفرنس میں ایک کشمیر ڈیسک بھی لگانے کا اہتمام کیا تھا۔برسلز کانفرنس کے لئے میں نے درج ذیل عنوان کے تحت اپنا پیپر بھیجا:
"Paper Presented at The Round Table Discussion On Kashmir" Brussels Moot 18-19 October 1993
Under The Auspices of Socialist Group in The European Parliament."

امان اللہ خان (مرحوم) کو اسلام آباد میں Belgium کے سفارت خانے نے، اس کانفرنس میں شرکت کے لئے 15 دن کا ویزہ جاری کیا تھا۔ جموں سے بھیم سنگھ اس کانفرنس میں شرکت کر رہے تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر بدھ 20 اکتوبر 1993 کی رات کو، امان صاحب بھارت کی درخواست پر گرفتار ہوئے۔بیلجیئم نے امان صاحب کے ویزے کے اجرا کو ایک "serious professional error " قرار دیا اور اسلام آباد سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا۔ (جاری ہے)

واپس کریں