دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کشمیر، موجودہ صورتحال کی ذمہ داری ! قسط21
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
بھارت کے ساتھ پہلے سیز فائر کو 28 سال اور 5 ماہ اور دوسرے سیز فائر کو 22 سال 3 ماہ ہوئے۔سب سے پہلے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے indefinite cease-fire کا اعلان مئی 1994 میں کیا۔ اپنی رہائی کے بعد یاسین ملک نے non-violent ذرائع جدوجہد اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ اپنے یکم جولائی 2017 کے کھلے خط میں یاسین ملک نے لکھا ہے کہ ؛
"On persuasion of US, UK and European envoys I took the most unpopular decision of unilateral cease-fire endangering my and lives of my colleagues...but despite all odds by Indian forces to push me back on the path of violence, I stood firm to my decision."

سیز فائر کا دوسرا اعلان حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر عبدالمجید ڈار نے اپنی 24 جولائی 2000 کی پریس کانفرنس میں کیا اور یہ سیز فائر 25 جولائی 2000 سے عمل میں آئی۔لبریشن فرنٹ کی سیز فائر indefinite cease-fire تھی اور اس میں کسی طرح کی شرائط کا ذکر نہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ یاسین ملک کے اس فیصلے میں، امریکہ، برطانیہ اور مغربی سفارتکاروں کی ایڈوائیس کے علاوہ، حریت قیادت، لبریشن فرنٹ کی جملہ قیادت، ہمدرد مکاتب فکر کے ساتھ کس حد تک مشاورت ہوئی۔ یا قطعی نہیں ہوئی۔

عسکری جدوجہد کی بنیاد ڈالنے کے بعد عسکریت سے کنارہ کشی ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ یہ ایک یو ٹرن ہے۔ ایسے فیصلے میں وسیع تر مشاورت ایک بنیادی اصول ہے ۔ احتیاط کے تقاضے پورے کرنے بھی ضروری ہیں۔ یاسین ملک کے یکم جولائی 2017 کے خط میں لفظ violence کا استعمال کشمیر کیس کی درست تشریح کے لئے مشکلات پیدا کرتا ہے ۔ بھارت نے یہ تشریح ہماری جدوجہد کو متنازعہ بنانے کے لئے اور کشمیریوں کو demonise کرنے کے لئے استعمال کی ہے۔جموں وکشمیر کونسل برائے انسانی حقوق نے اگست 1994 کو اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس سب کمیشن میں بڑی کامیابی کے ساتھ درج ذیل تشریح انٹروڈیوس کی ہے:
["What was a terrorist activity to an Indian soldier remained a "patriotic defiance" against an occupation to a Kashmiri].
HR/SC/94/29 of 19 August 1994.
بظاہر لبریشن فرنٹ کے پاس مئی 1994 سے لیکر بھارت کے 5اگست 2019 کے ایکشن تک 25 سال کا وقت اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے میسر ریا۔دوسری سیز فائر حزب المجاہدین کی جولائی 2000 کی ہے۔ حزب المجاہدین کے پاس بھارت کے 5 اگست 2019 کے ایکشن تک 19 سال کی مدت میسر رہی۔حزب سیز فائر عارضی تھی اور اس میں درج ذیل شرائط موجود تھیں:
1 There should be no excesses on the Mujahideen by any SF of the GOI
2. The Indian security forces (SF) should stop human rights excesses on the people. The people should be allowed to live in a free atmosphere
3. People of Kashmir including those associated with the armed struggle should be allowed to freely express their political viewpoint and not be suppressed by either the GOI's forces or the mujahideen
4. The cease-fire could be extended if the Indian Government accepts these conditions and if the cease-fire achieves its basic purpose of beginning a meaningful and unconditional dialogue to find a solution as per the wishes of the people.
5. However, in case India did not respond favourably its malafide intentions would be exposed and the HM would be free to end the cease-fire.
6 The GOI will not then be in a position to brand us as terrorists.
7. We would also be free to re-launch our movement with full force
8.We also want to show to the world that we are not terrorists but wish to live a peaceful life, but not at the cost of our principles.

ان دونوں سیز فائرز کی تیاری اور کریکٹر میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ حزب سیز فائر ایک سٹرکچرڈ عمل ہے۔شائید دونوں شخصیات، یاسین ملک اور مجید ڈار کو اس بات کا علم ہی نہ ہوتا کہ وہ ایک گریٹ گیم میں دو کردار ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی علم نہیں ہوتا، کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں ان کی ہر فون کال کو مانیٹر کرتی ہیں۔ اور اسی بنیاد پر وہ اپنا ردعمل ترتیب دیتی تھیں۔گریٹ گیم کے اس منصوبے میں ایجنسیوں نے ذاتی اور گھریلو فون ٹیپ کرنے کا ایک وسیع نیٹ ورک تیار کیا تھا۔ ایجنسیوں کی اس مہارت کا اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ کارگل جنگ کے دوران انہوں نے جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی26 مئی اور 29 مئی 1999 کی بات چیت بھی ٹیپ کی اور اسے پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات کے موقع پر پبلک کیا۔گریٹ گیم کے حوالے سے یہ انکشاف بھی حوصلہ شکن ہے کہ، مجاہدین کو ایک پلان کے تحت 2004 کے بعد ملی ٹینسی سے دور کرنے اور اسے ختم کرنے میں تعاون پر ڈالروں میں ادائیگی کی گئی۔پاکستان ایکسپرٹ اور بی بی سی کے پاکستان میں 1998سے 2001 تک کے نمائندے Owen Bennett Jones نے اپنی کتاب Pakistan Eye of the Storm میں صفحہ 135 پر انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے:
"A further sign of Pakistan's serious intent came in the form of three resettlement camps, within Pakistan itself, for Kashmiri militants who gave up the fight. In a complete reversal of the past practice, militant leaders now received payoffs for not fighting: they got $800 for stopping their fight and another $800 for settling into civilian life by getting married ".

سوال پیدا،ہوتا ہے کہ کس کس ملی ٹینٹ لیڈر نے ملی ٹینسی ترک کرنے کے عوض 800 ڈالر اور شادی کرکے سیٹل ہونے کے لئے 800 ڈالر کی دوسری قسط وصول کی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جولائی 2006 کی واشنگٹن میں ہونے والی کشمیر کانفرنس کے اعلامیہ سے اقوام متحدہ اور حق خودارادیت کا ریفرنس ڈراپ کرنا، اسی payoff کا حصہ تھا۔کشمیر کیس کے ساتھ جڑے، کون کون سے لوگ اس payoff میں شریک رہے ہیں۔ اس کی تحقیق بہت ضروری ہے۔ ہر ایک payoff میں دینے والے کا بھی ایک بڑا بھاری حصہ ہوتا ہے۔ اس payoff میں شریک لوگ قومی مجرم ہیں۔ ان کرداروں کا پتہ لگانا اور ان کی نشاندہی کرنی بہت ضروری ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں "نیم دیم اینڈ شیم دیم"۔ (جاری ہے)
واپس کریں