دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آزاد کشمیر کی صدارت ، کشمیر کے ساتھ بے وفائی ، پولیٹیکل ٹورازم قسط19
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
پاکستان کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی پریذیڈنسی سب سے پہلے اپریل 1952 میں ملی۔ اس وقت اقوام متحدہ میں ہمارے نمائندے پطرس بخاری تھے۔ اپنی پریذیڈنسی کے دوران ہر ملک 15 رکنی سیکورٹی کونسل کا رہنما ہوتا ہے۔ ملک کے ڈیلیگیش کا سربراہ اس ماہ سیکورٹی کونسل کا پریذیڈنٹ قرار پاتا ہے۔ پاکستان کی اپریل 1993، جولائی 1994، مئی 2004 اور جنوری 2013 کی پریذیڈنسی اس لئے اہم ہے کہ کشمیر میں جنوری 1990 سے ایک سیاسی اور عسکری جدوجہد کا آغاز ہوا تھا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حریت کانفرنس نے 31 جولائی 1993 کو اپنا آئین adopt کیا تھا اور اس کی بنیاد، کشمیر پر موجود UN template تھی۔ ضروری تھا کشمیر کی سیاسی تحریک کو حریت کانفرنس کے آئین کی بنیاد پر، اقوام متحدہ کی ٹمپلیٹ، کراچی ایگریمنٹ، ایکٹ 70، ایکٹ 74 میں موجود اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اپنائی گئی ذمہ داریوں سے جوڑا جاتا۔ ایسا نہیں ہوا۔ ہم نے کیس کی ساری جورسپروڈنس کو اپنی ضروریات کے لئے ایک پروپیگنڈہ کی شکل دی۔ قوم کو بھی دھوکہ دیا اور مسئلہ کشمیر کو بھی آہستہ آہستہ کمزور، کنفیوژ اور بے آبرو کرتے رہے۔
پاکستان کو جنوری 2013 میں سیکورٹی کونسل کی پریذیڈنسی ملی۔ پاکستان ڈیلیگیش کے ہیڈ مسعود خان تھے۔ وہ بلا شبہ ایک اچھے سفارتکار تھے اور کشمیر کی پوچھڑ پکڑائی کا انعام بھی وصول کرتے رہے۔ مگر جنوری 2013 کی پریذیڈنسی کے دوران انہوں نے کشمیر کا سرے سے نام تک نہیں لیا۔ انہیں اور ان کی پشت پر بیٹھے ڈاڈے لوگوں کو سانپ سونگھ گیا۔ پاکستان کی پریذیڈنسی کے دوران کئی اہم مسائل بشمول فلسطین زیر بحث آئے۔ کونسل نے 15 جنوری کو Counterterrorism اور 21 جنوری کو United Nations Peace Keping Operations زیر بحث آئے۔
ان دونوں دنوں کی بحث میں کشمیر کو بڑی آسانی سے شامل کیا جا سکتا تھا اور اس میں کشمیر پر کام کرنے والی کسی ایک یا زیادہ معتبر NGOs یا شخصیات کو Presentation کے لئے بلایا جاتا. جسطرح بھارت نے اگست 2021 کی پریذیڈنسی کے دوران افغانستان پر بحث کے لئے، افغان NGO کو بلایا۔ہندوستان کے سفیر نے اپنی پریذیڈنسی کے اختیارات استعمال کئے اور پاکستان کی افغانستان بحث میں شریک ہونے کی دونوں درخواستیں مسترد کر دیں اور ایک افغان NGO کو بحث میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔جنوری 2013 کی پاکستان کی سیکیورٹی کونسل کی صدارت کے دوران، Rule of Law پر بحث ہوئی، کل 16 meetings،18 consultations،4 Resolutions ،1 Presidential statement ،6 other Statements جاری ہوئیں۔ اس کام کی رپورٹ مسعود خان نے 26 اپریل 2013 کو کونسل کو پیش کی۔ اس تمام کام میں کشمیر کے حصے میں ایک لفظ یا زیر و زبر بھی نہیں آئے۔ مسعود خان ریاستی باشندے تھے، اور اس قبیلے کا ریاستی سیاست میں ایک کردار رہا ہے۔مسعود خان جنیوا میں رہ چکے تھے اور لگاتار ہیومن رائٹس کمیشن کی کارروائی سے واقف تھے۔
پریذیڈنسی کی دوران وہ جائیز اور منصفانہ مثال قائم کرکے، کشمیر کو Flag کرنے کے لئے استعمال کرتے۔ اسلام آباد میں غیر جانبدار ذمہ داران اور اپنے سر پرستوں کو A4 سائیز کی بھول بھلیوں میں الجھانے اور خوش کرنے کے بجائے، پورے مہینے کی ایک ٹھوس کاروائی اور سٹریٹجی پر گائیڈ کرتے۔کشمیر پر ایک الگ سیشن بھی رکھ سکتے تھے۔اپنا cv تو ٹھیک اور بہتر کیا۔ مگر ماں کشمیر کے ساتھ ظلم اور بے وفائی کی۔
آخر اسلام آباد میں وہ کون لوگ ہیں، جو کشمیر میں جاری جدوجہد کے لئے، ٹھوس اور UN template کے مطابق نہ خود کام کرتے ہیں اور جو UN template کی جورسپروڈنس پر کام کرتے ہیں، ان کی راہ میں نہ صرف رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں بلکہ ان پر اپنے پالتو کتے بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ جس طرح انڈیا نے افغانستان پر بحث کے دوران پاکستان کی شریک ہونے کی درخواست مسترد کردی، اسی طرح پاکستان بھی اپنی جنوری 2013 کی پریذیڈنسی کے دوران کشمیر پر بحث کے دوران بھارت کی شرکت کی درخواست مسترد کر سکتا تھا۔ اگر چہ یہ اچھی روائیت نہیں تاہم انڈیا پاکستان کی سفارتکاری میں کچھ اس طرح کی چیزوں کی اپنی اہمیت ہے۔
مسعود خان اپنے مطلب اور اپنے ماسٹر کے لئے ہی بہتر ہیں۔ وہ آئین میں درج ریاست کے بڑے عہدے کے لئے مناسب ثابت نہیں ہوئے۔ ایک لمبی سرکاری نوکری میں سروس رولز کی تابعداری کے بعد آئین کی ذمہداری کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ اتنے لمبے عرصے کی عادتیں بدلنا اور زندگی کا معمول rewind کرنا بہت مشکل ہے۔سفارتکاری میں فائیل پش کرنے کے ہنر کی ضرورت رہتی ہے۔ پچھلی حکومت کے چلے جاتے ہی، نئی حکومت کو چھپائے notes اور فائلیں دکھانے کا Reflex حرکت میں آتا ہے۔ آدمی خود کو ری کنڈیشن کرتا ہے۔مسعود خان کی انگریزی اچھی تھی، حریت اور دوسرے کشمیریوں کی صحبت میں رہ کر کام کرنے کا تجربہ بھی تھا۔ سول بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے فون نمبر بھی تھے۔ اس لئے انہیں ںسید علی شاہ گیلانی کی تجویز کردہ ایک بڑی شخصیت اور آزاد کشمیر سیاست میں موجود دوسری اہم شخصیت سردار خالد ابراہیم مرحوم کی چھاتی کے اوپر سے گزار کر 16 اگست 2016 کو 42 ووٹ دلا کر صدر ریاست بنایا گیا۔
مسعود خان مشرف کیمپ سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ کیمپ کافی دیر UN template اور حق خودارادیت کی طرف منہہ موڑ کر کشمیریوں کو مشرف کا 4 نکاتی فارمولا بیچنے کی ترغیب دیتا رہا۔ یہ لوگ علی شاہ گیلانی کی بے قدری اور حریت میں دراڑیں ڈالنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ایوان صدارت سازش، چغل خوری اور نئی پراکسیز تیار کرنے کا مرکز بن گیا۔ مسعود خان کو جن ہاتھیوں کی سونڈ سے ایوان صدارت کے اندر دھکیلا گیا،لوگ ان کے سیاسی علم کو الازہری علم سمجھ کر چپ ہوئے۔
47 ویں صدر نے نہ آو دیکھا اور نہ تاو، پہلے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے 6 پوائنٹس اور پھر مئی 2019 میں کشمیر پر موجود OIC Contact گروپ کو 9 نکاتی فارمولا پیش کیا۔ اگر آج بھی آزاد کشمیر اسمبلی کے 53 ارکان میں کسی سے ان 9 نکات کے بارے میں پوچھا جائے، تو جواب نفی میں ہوگا۔ہندوستان کی کیا مجال کہ وہ UN template کی جیورسپروڈنس اور کشمیریوں کے ارادے کو شکست دے۔ اس کے لئے تو ہمارے اپنے کاندھے حاضر ہیں۔آزاد کشمیر کا صدارتی بجٹ پولیٹیکل ٹورازم کے لئے استعمال کیا جانا، مناسب نہیں۔اس پولیٹیکل ٹورازم کو مسئلہ کشمیر پر سفارتکاری کا نام دینا شرمناک فعل ہے۔

ایکٹ 1974 کے تحت صدر آزاد کشمیر کو وزیراعظم آزاد کشمیر کی ایڈوائیس پر عمل کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس ایکٹ کی سیکشن11 کے تحت وہ stand alone رہ کر رائے شماری یعنی حق خودارادیت سے متعلق تمام ٹمپلیٹ پر ایک جامع سٹریٹجی تیار کرنے کا ایکسپریس اختیار رکھتا ہے۔ اس سیکشن کی تشریح ایک "رائے شماری کے مشیر" سے لیکر ایک institutional development اور Sky is the Limit تک ممکن ہے۔ سوال صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کے صدارتی منصب پر فائز شخصیت کا علم کشمیریات، کیس کی جیورسپروڈنس اور ذاتی معتبریت کیا ہے۔ اور اس کی دستار بندی کا پس منظر اور پیش منظر کیا ہے ؟ اس منصب کے لئے سردار خالد ابراہیم خان ایک مناسب امید وار تھے۔ ان کی خودداری نے انہیں پہلے بینظیر بھٹو سے دور کیا اور کشمیر پر کام کرنے والا سسٹم بھی خالد ابراہیم کی بیباکی اور خودداری سے خوش نہیں تھا۔ اس محفل میں خودداری اور بیباکی کی گنجائش نہیں۔نواز شریف حکومت نے تو ووٹ کو عزت دو کے سیاسی دعوے کے باوجود خالد ابراہیم کو نظر انداز کیا بلکہ ان سے کھلے عام بے وفائی کی۔ FIU اور FIC کی 1857 کے زمانے کی ذہنیت ان کے راستے کی رکاوٹ بن گئی۔
آزاد کشمیر کو اگست 2016 میں، مدتوں بعد ایک ایسا چراغ بیگ ملا، جس کا نام اگست 2016 تک ریاست کی انتخابی فہرست میں پہلی بار نظریہ ضرورت کے تحت درج کیا گیا۔کیا ہمارے پاس ریاست کے تینوں حصوں، 5۔2 ملین مہاجرین اور کشمیری Diaspora کے اتنے بڑے عدد میں، مسعود خان سے بہتر اور معتبر کوئی شخصیت نہیں تھی؟ ایسی شخصیت ڈھونڈنے کے لئے ہمیں کسی Diogenes اور اس کے لالٹین کی ضرورت نہیں تھی۔صدارتی منصب کے لئے ایک تیسری بڑی شخصیت زیر بحث تھی ۔ اس شخصیت کو آر پار، 5۔2 ملین مہاجرین اور Diaspora میں بھی پذیرائی حاصل تھی۔ سید علی شاہ گیلانی نے بھی ان کی معتبریت کا اشارہ کیا تھا۔جسٹس منظور گیلانی کے حق میں تائید اور حمائیت سے نواز شریف اور کشمیر کی پوچھڑ پکڑے، بااختیار لوگ واقف تھے۔ یہ لوگ ان کے وسیع حلقہ اثر اور ان کی معتبریت سے بھی بخوبی واقف تھے۔ جسٹس منظور گیلانی کے صدر آزاد کشمیر بن جانے پر ان کے ان "دوستوں" کو بھی اعتراض نہ ہوتا، جنہوں نے ان کے ایڈووکیٹ جنرل بننے پر انہیں غیر ملکی قرار دیا تھا۔
یہاں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک کامیاب صدر اور وزیراعظم بننے اور آئینی ذمہ داریاں سمجھنے کے لئے جسٹس منظور گیلانی کا JKCHR کی طرف سے دسمبر 1992 میں رائے شماری سے متعلق دائر کی گئی رٹ پٹیشن پر لکھا فیصلہ کافی ہے۔ یہ پٹیشن فل کورٹ نے سنی تھی اور فیصلہ جسٹس گیلانی نے لکھا ہے۔ یہ فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی کے 53 ارکان، سول سوسائٹی اور پاکستان کی وزارت خارجہ میں کشمیر ڈیسک پر کام کرنے والے لوگوں کو پڑہنا چاہئے۔ اس کے علاوہ FIU اور FIC ذمہ داریاں نبھانے والوں کے لئے بھی لازم اور مددگار دستاویز ہے۔بحیثیت صدر آزاد کشمیر ؛
1۔جسٹس منظور گیلانی کے لئے یہ سمجھنا ان کے علم قانون میں نیچرل تھا کہ مئی 1987 کوDubrovnik former Yugoslavia کی عالمی کانفرنس میں بھارت کی بھرپور مخالفت کے باوجود ایک کمیٹی نے فیصلہ دیا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، اور کشمیر، چین اور فن لینڈ کے ساتھ مشترکہ طور کانفرنس کے ایک سیشن کی صدارت کرسکتا ہے۔ اور کشمیر چین اور فن لینڈ کے ساتھ ایک سیشن کا co chair ریا۔
2۔جسٹس منظور گیلانی کے لئے اس بات کی بڑی اہمیت ہوتی کہ JKCHR کو (کشمیر کو) جون 1993 میں اقوام متحدہ کی ورلڈ کانفرنس آن ہیومن رائٹس میں ان اقوام اور عوام کی نمائندگی کے لئے منتخب کیا گیا تھا، جن کی اقوام متحدہ میں نمائندگی نہیں تھی۔
JKCHR نے Unrepresented People's and Nations کی نمائندگی کرتے ہوئے Plenary اور Main Commiittee سے خطاب کیا پاکستان کی طرف سے بیگم نصرت بھٹو اور انڈیا کی طرف سے اٹل بہاری واجپائی نے خطاب کیا۔
3۔جسٹس منظور گیلانی دسمبر 1994 میں کاسابلانکا میں ہونے والی اسلامک کانفرنس کے کشمیر ریزولیوشن بالخصوص اس کی شق 10 پر عملدرآمد کرانے کے لئے، ایکٹ 1974 کی سیکشن 11 کی تشریح کرتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داری کا لحاظ رکھتے۔ اور آج کشمیر کی سیاست کا نقشہ ہی مختلف ہوتا۔ آزاد کشمیر کے صدر، وزیراعظم اور ارکان اسمبلی کو ٹرک پر سوار ہوکر، بے آبرو نہ ہونا پڑتا۔علم اور فہم کشمیریات صدارتی منصب کے لئے بہت اہم ہیں۔ صدر کا فائیل پشنگ کا ماہر ہونا اور ACR اینول کانفیڈینشل رپورٹ کے حوالے سے کام کرنا، تحریک اور صدارتی منصب کے لئے ضروری نہیں۔ جسٹس گیلانی عادات اور ضروریات کے حوالے سے بھی ایک منفرد شخصیت تھے۔ سادہ مزاج اور رنگ دار لسی کی پریشانی سے بھی بے نیاز۔ ایسا نہیں ہوا اور جو لوگ، پردے کے پیچھے سے ڈوری ہلا رہے تھے، انہوں نے جسٹس منظور گیلانی کا راستہ روک کر کشمیر کے ساتھ بہت ظلم کیا۔
مسعود خان نے منصب صدارت پربیٹھ کر نوکری تو کی اور ابھی تک اس recycling پراسس کا حصہ ہیں۔ لیکن ماں کشمیر کا لحاظ نہیں رکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس بار صدر Biden نے، پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر فکر مندی کے اظہار سے، مسعود خان اور ہم سب کا "تراہ" نکال دیا۔فارسی کا مقولہ ہے کہ
یک دزد است و دگر پردہ دار
یعنی ایک چور ہے اور دوسرا پردہ دار۔
چور اور پردہ دار کو پہچاننا بہت ضروری ہے۔انڈیا نے 5 اگست 2019 کو کشمیر میں ایکشن کیا۔ اگر جسٹس منظور گیلانی صدر آزاد کشمیر ہوتے تو ہم انہیں بڑی آسانی سے سمجھاتے کہ اقوام متحدہ کی ٹمپلیٹ میں یہ کاروائی Grave Offence قرار دی گئی ہے۔ نیدر لینڈ نے کہا ہے کہ:
"The party that would dare to violate an agreement thus reached would load upon itself a very grave offence against the other party, against the United Nations, and against the right of the people of Jammu and Kashmir to self-determination, a right which, in other contexts, both parties have so often and so eloquently defended".
صدر گیلانی کیلئے "very grave offence" سمجھنا آسان تھا اور وہ اسے ایک چیلنج سمجھتے۔ سردار خالد ابراہیم خان کو بھی سمجھانا بہت آسان ہوتا۔
مسعود خان نے مئی 2019 میں کشمیر پر قائم OIC Contact گروپ کو جدہ میں، اپنی مرضی کا 9 نکاتی فارمولا پیش کی۔ اس فارمولے کی قوم نے اور اسمبلی نے کوئی منظوری نہیں دی۔ اس فارمولے کی بڑی تشہیر ہوئی اور پریس ریلیز میں صدر صاحب کر "True Representative " لکھا گیا۔ یعنی کشمیر میں Un-true لیڈرشپ کے وجود کی بھی نشاندہی ہوئی۔ یہ بھول گئے کہ رائے شماری میں سب کا ووٹ برابر کا رہے گا۔ UN template کسی True اور Untrue میں امتیاز نہیں کرتی۔
انڈین ایکشن کے ٹھیک 1 سال، 6 ماہ اور 28 دن بعد 5 مارچ 2020 کو OIC کے ایک رکن ملک متحدہ عرب امارات کے شہر دوبئی میں :
3rd WION Global Summit کا انعقاد ہوا۔ اس کا عنوان تھا:
"India and the Emerging World:Nationalism, Multilateralism and Creative Diplomacy".دکھ کی بات یہ تھی کہ پہلے سیشن میں ایجنڈے پر پہلا آئیٹم کشمیر تھا:" India's geographically significant move - Kashmir an Internal Matter".
بھارت کے 5 اگست 2019 کے کشمیر میں اقدام کو ایک "اہم اقدام" اور کشمیر کو بھارت کا "داخلی معاملہ" قرار دیا گیا۔پاکستان سے اس کانفرنس میں، سابق وزیر خارجہ محمود قصوری، سابق سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر اور صحافی ریحام خان کو مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن ان تینوں کو کشمیر والے ایجنڈا آئیٹم والے پینل میں شامل نہیں کیا گیا۔مسعود خان صدر آزاد کشمیر تھے۔ نہ ان کے، نہ 53 ارکان اسمبلی اور نہ ہی دوبئی میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے ذمہ داروں کے کان پر جوں رینگی۔ نہ ہی اسلام آباد میں کشمیر کی پوچھڑ سے لٹکے با اختیار لوگوں نے اف تک کی ہو۔ ان با اختیار لوگوں کا زور بے چارے 11 کشمیری قلیوں پر چلتا ہے۔ کشمیر پر موجود OIC Contact گروپ نے دو حروف کا شکائیت نامہ بھی متحدہ عرب امارات کو نہیں بھیجا۔ کشمیریوں کو اندھیرے میں رکھنے والے، ہی کشمیریوں کے دشمن ہیں۔ (جاری ہے)


واپس کریں