دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کشمیرگریٹ گیم ، کشمیر کا سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے سے ڈیلیٹ ہونا ! قسط 18
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
کاسابلانکا (مراکش)، ویانا (آسٹریا)، ڈیوبراونک (یوگوسلاویہ) میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو کس طرح سبوتاژ کیا گیا، 27 ویں صدر آزاد کشمیر کے چنائو میں ایک نہائیت ہی موزوں شخصیت کو نظرانداز کرنے کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ دو اہم کتابوں سے لئے گئے درج ذیل ریفرنسز ذہن میں رکھیں:
The Meadow۔1
Adrian Levy and Cathy Scott-Clark
یہ دونوں انویسٹیگیٹو جرنلزم میں ایوارڈ یافتہ ہیں اور سنڈے ٹائیمز اور گارڈین لندن کے لئے کام کرتے رہے ہیں ۔کتاب کے صفحہ 357 پر The Game کے عنوان کے تحت، اپنے ایک انڈین source کے حوالے سے لکھتے ہیں ؛
" India and Pakistan fought each other in the valley by manipulating the lives of others. Everything that happened here involves acts of ventriloquism, with traitors, Proxies and informers deployed by both sides, and civilians becoming the casualties. Veterans like him and his counterparts in Pakistan called it "the Game".
انڈیا پاکستان وادی میں خود نہیں لڑے۔ کشمیریوں کو manipulate کیا۔اس ریفرنس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کشمیر کی جائیز جدوجہد کو UN کی ٹمپلیٹ سے ہٹا کر ایک "گریٹ گیم" میں بدل دیا گیا۔ اس کے لئے دونوں ممالک کو اپنی اپنی پراکسیز تیار کرنی پڑیں۔ ایسے لوگوں کی تلاش اور انہیں بلیک میل کرنے کے الگ ٹولز استعمال کئے جاتے تھے۔ یہی source آگے جاکر گریٹ گیم میں استعمال کی گئی سٹریٹجی کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ:
"The overreaching strategy of the Game, the detective said, was to use any means necessary to sow confusion, hatred and suspicion between the different religions, races and competing militant outfits in Kashmir, so that no one group dominated, and all remained weaker than India's security forces. But the Game went far beyond the age-old tactic of divide and rule. 'We slandered and manipulated. We created false fronts, fictitious outfits, to commit unthinkable crimes. We tapped phones, listened in to illicit lovers and blackmailed them. There was no moral compass. The Game had absolutely no boundaries, and this was something you only came to realise once you were no longer in it.And then you would stand back, sickened by what you had done'.
یہ گریٹ گیم کھیلنے میں کوئی اخلاقی قطب نما نہیں تھی۔ سب کچھ جائیز تھا۔
میرے خیال میں ہماری حریت کانفرنس اور ملی ٹینسی کی قیادت اور دوسرے لوگوں کو آج تک اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا، اور نہ ہی وہ پبلک میں قبول کر سکتے ہیں کہ انہیں کس کس طرح manipulate کیا جاتا تھا اور کس طرح ان کے ذاتی اور illicite تعلقات کی ٹوہ لگائی جاتی تھی۔ Manipulation اور بلیک میل کا طریقہ آج کل پاکستانی سیاست میں عام ہے اور یہ بڑوں بڑوں کی نیندیں حرام کر دیتا ہے۔ یہ source آگے بیان کرتا ہے :
"Soldiers, policemen and spies, the constitional guardians of the State, became killers or hired them, disguising themselves as Islamic militants or Kashmiri political activists to spill the blood of soft targets, blackening the name of the freedom movement".
کشمیریوں کا خون بہانے کے لئے ہر سطح پر کاروائی ہوتی تھی۔

دنیا بھر کی عوامی اور عسکری جدوجہد کا اگر تقابل کشمیر کی جدوجہد کے ان دو اہم کمپوننٹس کے ساتھ کیا جائے، تو ہمیں صدمہ ہوتا ہے، کہ پڑہی لکھی اور صاحب رائے قیادت اور کمیونٹی کے معتبرین کا پہلے ہی مرحلے میں صفایا کر دیا گیا۔ کشمیر میں کچھ ندرو بیچنے والوں نے خود کو "جرنیل" ڈیکلئیر کیا۔ تحریک آزادی کشمیر کو ایک پالیسی کے تحت UN template سے الگ کرکے ایک "گریٹ گیم" کے طور کھیلا گیا۔ کھلاڑیوں نے کشمیری یونیفارم تو پہن لی، مگر اندر سے وہ گریٹ گیم کی پراکسی تھے۔
2. Pakistan Eye of the Storm
Owen Bennnett Jones
یہ بی بی سی کے پاکستان میں 1998 سے لے کر 2001 تک نمائندے رہے ہیں۔ اس کتاب کے مصنف کا پاکستان کے مقتدر حلقوں کے ساتھ بڑا اٹھنا بیٹھنا رہا ہے۔ اور پاکستان کے ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہیں اور کئی سال پہلے چیٹھم ہائوس لندن میں، کشمیر پر اپنی تقریر میں انکشاف کیا تھا، کہ پاکستان ملی ٹینسی کو رول بیک کر رہا ہے اور vocal لیڈرشپ اور مجاہدین کو بزنس اور شادی کے لئے مالی امداد دینے کے پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ بہت سوال جواب ہوئے۔ Owen B Jones نے کہا کہ بزنس اور شادی کا فارمولا یاسر عرفات کے زمانے میں، فلسطین میں بھی کامیاب رہا ہے۔ اس لئے یہ کشمیری مجاہدین میں بھی کامیاب رہے گا۔ اپنی کتاب کے صفحہ 139 پر کشمیر عنوان کے تحت لکھتے ہیں :
"Most Kashmiris are sick of conflict and desperate for a peaceful settlement. But for both India and Pakistan the symbolic importance of the Kashmir dispute means that they will inevitably follow their own perceived national interests rather than those of Kashmiri people. If the Kashmiris had been conducting a straightforward fight for independence in the same way as the Chechens or East Timorese, they would have had a greater chance of success. The tragedy of Kashmir is that the voices of its own people have been drowned out by Islamists, nationalists and ideologues in both Islamabad and Delhi".
انڈیا اور پاکستان کے مفادات کا بہتر انداز میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کا دنیا کی دوسری تحریکوں کا تقابلی علم ہونا بہت ضروری ہے۔ کشمیر میں موجود سیاسی اور عسکری قیادت اس میں خطا کھا گئی۔ اس لئے وہ گریٹ گیم میں بھی مار کھا گئے۔

اگست 2016 میں آزاد کشمیر کے 27 ویں صدر کے لئے ایک ایسی شخصیت سامنے آئی، جس کی تائید اور حمائیت مرحوم سید علی شاہ گیلانی اور ان کے رفقا نے کی تھی۔ اس شخصیت پر consensus ایک وسیع پیمانے کا تھا۔ اور اس کی معتبریت کا آر پار احترام تھا۔ اچانک جنگلی گچھی کی طرح ایک اور شخصیت بادلوں کی گرج کے ساتھ سیاسی منظر پر پھوٹ نکلی۔ اور ایک شوشہ چھوڑا گیا کہ کشمیر پر سنجیدہ کام کرنے کا پروگرام ہے۔ اس شوشے کی معتبریت پر آگے اظہار کروں گا۔

قضئیہ کشمیر پر ایک بہتر پیش رفت کے لئے اور کشمیر پر کسی قسم کا کمپرومائز نہ کرنے والی یہ شخصیت اس وجہ سے ڈراپ ہوئی کہ یہ کسی بھی حالت میں کشمیر پر کھیلی جانی والی گریٹ گیم کی وردی نہ پہنتی۔ لمحہ موجود اور نمائشی درد کشمیر کا تاثر برقرار رکھنے کے لئے، رات کے اندھیرے میں، بادلوں کی گرج سے پھوٹنے والی 'گچھی' کا انتخاب ہوا۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں اس آمد کے دو بد شگون سامنے آئے۔ ایک ہم ایک دلیر سیاسی شخصیت سردار خالد ابراہیم سے محروم ہوئے اور دوئیم انڈیا نے 5 اگست 2019 کا ایکشن کیا۔ ان دونوں شخصیات پر تفصیلی اظہار آئیندہ کروں گا۔

حریت کانفرنس نے اپنا آئینی نظم نظر انداز کیا۔ ہمارے اسلحہ بردار نوجوان بھی ملٹری سائینس سے بے نیاز، وردی چڑھائے ہندوستان کی فوج کو للکار رہے تھے۔ آج ایک لاکھ کے قریب قبرستان میں سلا دئے گئے ہیں۔ اور حریت اس گریٹ گیم کا سوت کاتتے کاتتے اپنے چرخے ہی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔حریت کانفرنس کے آئین کی بنیاد UN template اور اقوام متحدہ کی قراردادیں تھیں۔ لیکن حریت کانفرنس نے 31 جولائی 1993 سے لے کر سیکیورٹی کونسل کے پریذیڈنٹ کے 22 اگست 1996 کے نوٹ تک، اس بات کا احساس نہیں کیا، کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں 5 نومبر 1965 کے بعد 15 ستمبر 1996 تک 32 سال 10 ماہ اور 11 دن نہیں اٹھایا گیا تھا۔ اور اس کی ایجنڈے پر Regularity ختم ہونے والی تھی۔

کمال یہ ہے کہ نیویارک میں پاکستان کے مشن کو اس بات کا علم تب ہوا جب کشمیر سیکیورٹی کونسل کے پروژنل رولز کے رول 11 کی زد میں آیا۔ اور اپنی 1948 سے چلی آئی 48 سالہ Regularity کھو بیٹھا۔سیکیورٹی کونسل کے پریذیڈنٹ کے 22 اگست 1996 کے نوٹ کے پیراگراف 2 کے مطابق:
"The Security Council has decided that, as of 15 September 1996, matters which have not been considered by the Council in the preceding five years will be automatically deleted from the list of matters of which the Council is seized".
(S/1996/603).
جن items کی فہرست بنائی گئی، India Pakistan Question چھٹے نمبر پر ظاہر ہوا اور اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ سیکیورٹی کونسل کی 1251 ویں میٹنگ 5 نومبر 1965 کے بعد یہ معاملہ لگ بھگ 32 سال زیر بحث نہیں آیا۔ سیکیورٹی کونسل کی کسی آئیٹم کے اخراج کی شرط صرف 5 سال کی مدت تھی جبکہ کشمیر 32 سال کی غفلت کی زد میں آیا ہوا تھا۔آنے والے کل اور آنی والی نسلیں کشمیری قیادت سے اس غفلت یا دو نمبری کی وجوہات پوچھیں گے۔ آزاد کشمیر کی قیادت کو بھی جواب دینا ہوگا کہ کراچی ایگریمنٹ، ایکٹ 70 اور ایکٹ 74 کے تحت UN template کے حوالے سے جان بھوج کر پہلو تہی اور دو نمبری کیوں کی گئی۔ پاکستان کے نیویارک اور واشنگٹن کے دو مشنز کو کشمیر کے Deletion کی زد میں آنے کی خبر پریس سے ملی۔ دونوں مشنز ایک دوسرے پر معاملے کی ذمہ داری اور کوتاہی کا ملبہ ڈال رہے تھے۔ نیویارک میں احمد کمال تھے۔ اس لئے احمد کمال اور اس کے عملے کو ذمہدار ٹھہرایا جانے لگا۔نیویارک مشن میں مسعود خان کونسلر تھے۔ اور اکثر حریت کانفرنس کا وفد انہیں جنیوا میں ہیومن رائٹس کمیشن اور سب کمیشن کے سیشنز کے دوران مدد کے لئے بلواتا تھا۔ مسعود خان کی بھی خواہش رہتی تھی کہ وہ کشمیر کی پوچھڑ پکڑے رہیں۔

دو واقعات کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے :
1۔ اپریل 1997 کی ہیومن رائٹس کمیشن کے سیشن میں سردار خالد ابراہیم خان JKCHRاور WSV کے مہمان تھے اور انہوں نے کمیشن سے خطاب کرنا تھا۔ خالد صاحب بہت وضع دار اور خود دار تھے۔ میں نے ان کی تقریر لکھی۔ یہ JKCHR اور WSV کی پریکٹس تھی کہ ہم تقریر delivery سے پہلے، UN سیکریٹریٹ کے علاوہ کسی کے ساتھ شئیر نہیں کرتے تھے۔ ہم نے delivery سے پہلے تقریر کبھی بھی جنیوا میں پاکستان مشن کے ساتھ بھی شئیر نہیں کی۔ حریت کی ساری statements میں مشن کا in put بھی رہتا تھا اور تقاریر کاپی پیسٹ ہوتی تھیں۔ اس وقت 10 منٹ کی تقاریر ہوتی تھیں۔ اب یہ 2 منٹ تک آگئی ہیں۔ میں WSV کا جنیوا میں نمائندہ تھا۔ ابھی JKCHR کا UN کا Status نیویارک میں زیر بحث تھا۔

خالد صاحب نے کہا گیلانی صاحب اگر برا نہ منائیں تو میں پاکستان مشن میں ایک فون کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں میرے کزن مسعود خان ہیں۔ اس کی بھی تڑی ہوجائے گی۔ میں خالد صاحب کا بہت احترام کرتا تھا۔ ہم نے مسعود خان کو فون کیا اور وہ ہوٹل انٹرکانٹینیٹل آگئے۔ پاکستان مشن ہوٹل کے قریب ہی تھا۔ خالد صاحب نے مسعود خان کو کہا، کہ آج اس کی تقریر ہے اور وہ بھی یہ تقریر ایک نظر دیکھ لے۔ جب مسعود خان کو علم ہوا کہ تقریر میں نے لکھی ہے، وہ احترام میں بولے، کہ اس میں دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے مسعود خان سے کہا کہ سیکنڈ ویو اچھا ہے۔ اس نے تقریر دیکھی۔ مسعود خان نے انگلش میں ماسٹرز کی تھی اور ہم ایک دوسرے کو ریڈیو پاکستان پنڈی سے جانتے تھے۔مسعود خان نے خالد ابراہیم صاحب کے نام کے ساتھ ممبر قانون ساز اسمبلی کا اضافہ کیا۔ سیکنڈ ویو کا فائدہ ہوا۔ مشن والے بھی حیران رہے کہ میں نے مسعود خان کو خالد ابراہیم کی تقریر ڈلیوری دے پہلے دکھائی اور پڑھنے دی۔ لیکن ہم نے تقریر کی کاپیاں اپنے ہوٹل ہی سے کرائیں۔مشن کی JKCHR اور WSV کی تقریر تک رسائی، ڈلیوری کے بعد ہی، تقسیم کے دوران ہوتی تھی۔ اس لئے میں سسٹم کا فیورٹ نہیں تھا اور نہ ہی مجھے کبھی اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔

2۔ ایک دوسرے موقع پر جب سردار عتیق احمد خان ہمارے جنیوا میں مہمان تھے، کشمیر سے حریت کے مجید بانڈے، ممتاز وانی بھی آئے تھے، فائی صاحب کے علاوہ آزاد کشمیر وفد کے لوگ اور دوسرے مہمان بھی تھے ۔ ہم کشمیر کی صورتحال اور کمیشن کے سیشن کے دوران سٹریٹجی پر بحث کر رہے تھے،کہ مسعود خان بھی تشریف لائے۔ابھی بات چیت کی ابتدا ہی ہوئی تھی اور عتیق احمد خان اور فائی صاحب میں ایک نکتے پر تکرار ہورہا تھا کہ میں نے مسعود خان سے سوال کیا، کہ وہ میٹنگ میں کس حیثیت سے آئے ہیں۔ کیا وہ مشن کی نمائندگی کررہے تھے یا بحیثیت کشمیری آئے تھے۔ اگر آج کا دن ہوتا تو میں یہ سوال نہ کرتا۔ ہم تو سارے ایک گریٹ گیم کے کھلاڑی تھے۔ مسعود خان نے کہا کہ وہ بحیثیت ایک کشمیری آئے ہیں۔ چاہے کیسے بھی آئے تھے، گھر تو جانا ہی تھا۔ یہ ہماری سادگی، نا تجربہ کاری اور جذباتیت کے دن تھے۔ ہم خود کو کشمیر سمجھ رہے تھے۔

کشمیر کے سیکیورٹی کونسل کی طرف سے رول 11 کے تحت simplification کی زد میں آنے کی خبر سے اسلام آباد میں تہلکہ مچ گیا۔ سارا ملبہ نیویارک مشن پر ڈالا گیا۔ مسعود خان بھی اس غفلت کے حصہ دار تھے۔میں نے احمد کمال کے دفاع میں ایک مضمون لکھا، اور argue کیا کہ یہ ریاست اور پورے فارن آفس کی غفلت ہے۔ ایک احمد کمال اور اس کے عملے کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ جبکہ مجھے علم تھا، کہ احمد کمال نے کشمیر پر کئی بار ڈنڈی ماری اور دو نمبری کی۔ ایک بار نوابزادہ نصراللہ خان نے ان کو دو نمبری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ اور ان کو بر طرف کرنے کی نوبت آئی۔ایک سفارتی بھونچال آچکا تھا۔ کشمیر کو دوبارہ ایجنڈے پر رکھنے کی کوشش پر غور اور activity شروع ہوئی۔چنانچہ 27 اگست 1996 کو (سیکیورٹی کونسل کے پریذیڈنٹ کے نوٹ کے5 دن بعد) JKCHR نے سیکورٹی کونسل کے پریذیڈنٹ کو ایک یادداشت پیش کی، اور کشمیر کی Regularity کو بحال کرنے کی استدعا بھی کی۔ ہمارا argument یہ تھا کہ کشمیری عوام کا حق خودارادیت UN Charter کے آرٹیکل 1 (2) کے تحت آتا ہے اس لئے یہ سیکیورٹی کونسل کے پریذیڈنٹ کے نوٹ کی زد میں ،( 5 سال بحث نہ ہونے کی زد) نہیں آتا۔ بہرحال پریذیڈنٹ کی نوٹ میں یہ طے پایا کہ :
"The result will be that in the next summary statement issued by the Secretary General after 15 September 1996, the matters listed in the annex to the present note will be deleted. A matter will, however, be provisionally retained in the list of matters of which the Secretary Council is seized for a period of one year if a Member of the United Nations notifies its objection to its deletion before 15 September 1996. If at the end of one year the matter has still not been considered by the Council, it will be automatically deleted".
کشمیر ڈیلیشن لسٹ میں چھٹے نمبر پر تھا۔ اب کشمیر ایک ریگولر آئیٹم کے طور نہیں، بلکہ ہر سال کسی ممبر ملک کی درخواست پر پرووژنل آئیٹم کے طور ایک سال کے لئے activate ہوجاتا ہے۔تعجب کی بات ہے کہ حریت اپنے آئینی دعوے اور حکومت آزاد کشمیر کراچی ایگریمنٹ، ایکٹ 1970، ایکٹ 1974 اور JKCHR کی دسمبر 1992 کی رٹ پٹیشن اور ہائی کورٹ کے اپریل 1999 کے فیصلے کے باوجود، آج تک اس اہم ذمہ داری کی طرف توجہ نہ دے سکے۔ اور ہم سب ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہیں۔ (جاری ہے)

واپس کریں