دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بینظیر بھٹو کے ایڈوائزر اجلاس زیدی کی مجھے آزاد کشمیر کا چیف ایگزیکٹیو بنانے کی پیشکش قسط 14
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
میں اگست-ستمبر1995کے مہینوں میں پاکستان میں تھا۔ یہ دورہ 19 ستمبر 1995 کو عالمی یوم امن (جنرل اسمبلی کی شروعات) اور اقوام متحدہ کی 50ویں سالگِرہ پر ایک کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں تھا۔ 19 ستمبر دنیا کے ہرملک میں وہاں کے ٹائیم زون کے مطابق یوم امن کے طور منایا جانا تھا۔اس کانفرنس کی صدارت کے لئے صدر فاروق احمد خان لغاری نے، کنفرمیشن دے دی تھی۔ اور اپنے سیکریٹری خواجہ کو ہدائیت کی تھی، کہ وہ میرے ساتھ رابطے میں رہے اور صدارتی تقریر کی تیاری میں میرے ساتھ سکرپٹ کا تبادلہ کرتا رہے۔صدر لغاری عمرہ کے لئے سعودیہ میں تھے اور میرا ان کے سیکریٹری کے ساتھ پاکستان جانے سے قبل لندن سے روز کا حسب ضرورت رابطہ رہتا تھا۔ مجھے ان کی صدارتی تقریر موصول ہوئی اور ہدائیت بھی تھی کہ اس کو ایک نظر دیکھ لوں۔ میں ابھی لندن ہی میں تھا۔میری نظر تقریر میں اپنے نام پر پڑی اور میری نظریں اس پیراگراف پر رک گئیں جس میں میرا ذکر تھا۔ اس تذکرہ میں محبت تھی اور حوصلہ افزائی بھی۔صدر پاکستان نے لکھا تھا :
"In particular I would like to place on record my deep appreciation of the persistent endeavours of Syed Nazir Gilani and his Jammu and Kashmir Council for Human Rights for the just cause of self-determination of the people of Kashmir. I am confident that the useful work done by JKCHR and other such NGO's will bear fruit and the struggle of the Kashmiris will surely succeed because it is an indigenous struggle which comes from within the ethos of the Kashmiri people".
(President Leghari in Islamabad 19 September 1995 on the occasion of International Day of Peace coinciding with the opening of UN General Assembly and the 50th Anniversary of UN).

لغاری صاحب کو میرے نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ تعلقات کا علم تھا۔ لیکن میرا بہت احترام کرتے تھے۔ 2 دسمبر 1997 کو مستعفی ہونے پر مجھے کال بیک کیا، اور نصیحت کی کہ اپنا کام جاری رکھنا۔ یہ بھی کہا کہ چند ماہ ایوان صدارت میں قیام کرنے کا میرا استحقاق ہے، لیکن میں دو دن میں اپنے گاں شفٹ کروں گا۔ ڈیرہ غازی خان کا ایڈریس اور فون نمبر بھی دئیے۔میں پاکستان پہنچ گیا۔ ابھی 19 ستمبر کے بڑے ایونٹ میں بہت دن تھے۔ ایک دن اچانک بینظیر بھٹو کے ایڈوائزر سید اجلال حیدر زیدی میرے سسرال ، میرے سسر صاحب سے ملنے آئے۔ اجلال حیدر زیدی پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے تھے۔ میرے سسر ایمپلائیز یونین کے صدر رہ چکے تھے اور دونوں کی اچھی شناسائی تھی۔ کھانے پر زیدی صاحب نے کہا کہ وہ وزیراعظم کا پیغام لے کر آیا ہے۔ پیپلزپارٹی آزاد کشمیر میں سردار قیوم کی مسلم کانفرنس کی حکومت کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بینظیر بھٹو چاہتی ہیں کہ آپ کو اس حکومت کی بر طرفی کے بعد چیف ایگزیکٹو تعینات کیا جائے اور آئیندہ کے انتخابات کی ذمہ داری آپ کی ہو۔

میں خود بھی اجلال حیدر زیدی کی بہت عزت کرتا تھا۔ اور میں نے ریڈیو پاکستان کے پنڈی ون میں کافی دیر ایکسٹرنل سروس کی نگرانی بھی کی تھی۔میں نے کہا کہ منتخب حکومت کو گرانے کے بعد مجھے ایک یا دو سال چیف ایگزیکٹو بن کر ساری عمر ایک جرم کا احساس رہے گا۔ میں نے قانون کی پڑھائی کی ہے اور کشمیر پر میرا ایک موقف مانا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں شریک ہونا میرے لئے ممکن نہیں۔اجلال حیدر دو بار پھر وہی پیغام لے کر آئے اور میرے سسر صاحب کو آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی۔ سسر صاحب نے مجھے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر میں نے انکار کیا۔آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ سردار قیوم بھی ذہنی طور ایک دبائو کا شکار تھے۔ کانفرنس کے دوران سردار صاحب کا برا حال تھا۔

19 ستمبر 1995 کو کانفرنس ہال بھرا تھا۔ دن کے حوالے سے غیر ملکی سفرا اور سفارتکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ امان اللہ خان اور میر واعظ احمد بھی موجود تھے۔ مقررین کی فہرست ہم نے پریذیڈنسی کے ساتھ شئیر کی تھی۔ ڈائیس پر، صدر لغاری، نوابزادہ نصراللہ خان، سردار قیوم اور میں بیٹھے تھے۔ صدر پاکستان میرے اور نوابزادہ صاحب کے درمیان بیٹھے تھے۔ نوابزادہ صاحب کے ساتھ سردار صاحب بیٹھے تھے۔مقررین میں حرمت اور ڈیلی پاکستان آبزرور کے مالک اور ایڈیٹر زاہد ملک (مرحوم ) بھی تھے ۔ زاہد ملک کے ساتھ میرے مارشل لا کے زمانے سے پرانے تعلقات تھے۔ وہ ڈیلی نوائے وقت راولپنڈی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر رہ چکے تھے اور میں بھی کچھ عرصہ سینئر سب ایڈیٹر رہ چکا تھا۔ وہ زمانہ جنگ اور نوائے وقت کی حکومت کا زمانہ تھا۔ ان دو اخبارات کا راج تھا۔ زاہد ملک کو بھی اپنے ذرائع سے بھنک لگ چکی تھی کی سردار قیوم صاحب کی حکومت تبدیل کی جا رہی ہے۔ ملک صاحب کے بھی سردار صاحب کے ساتھ ذاتی تعلق تھا اور وہ سردار قیوم صاحب کی حکومت کو بچانا چاہتے تھے۔ہم نے طے کیا کہ زاہد ملک کو صدر پاکستان کی موجودگی میں تقریر کا موقع دیا جائے۔ اور وہ ایک مناسب طریقے سے سردار قیوم کی حکومت کے خلاف سازش کو صدر پاکستان کی نوٹس میں لائے۔

یہ آرٹیکل58 (2) (b) کا زمانہ تھا اور صدر کے پاس وزیراعظم پاکستان کو منصب سے ہٹانے کے اختیارات حاصل تھے۔ حکومت وقت کی جان صدر کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی۔ صرف مجھے معلوم تھا کہ لغاری صاحب دو گھنٹے ہی ہمارے ساتھ رہیں گے۔ ہم نے زاہد ملک کا نام شروع ہی میں رکھوا دیا۔اس دن کی وڈیو میں سردار صاحب بے حد نروس ہیں اور بار بار ہاتھ میں پکڑی پنسل کو مروڑتے نظر آتے ہیں۔زاہد ملک کی باری آئی۔ وہ خود بھی بیوروکریسی میں رہ چکیتھے، کوثر نیازی کیساتھ سیکریٹری مذہبی امور تھے۔ ملک صاحب نے بڑے خوبصورت انداز میں تمہید باندھی اور میرے ساتھ اپنی دوستی کا حوالہ دیا اور کہا صدر صاحب آپ بھی خوش لباس ہیں اور آپ کا میزبان بھی خوش لباس ہے، آپ بھی خوش خوراک ہیں، اور میرا دوست بھی خوش خوراک، ایک اچھے انداز میں صدر لغاری کی توجہ اپنی طرف کرانے میں کامیاب ہوگئے۔

آگے چل کر ملک صاحب حسب پلان آزاد کشمیر پر آئے اور کہا، ہمیں افسوس ہے کہ جب مل جل کر کشمیر کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے، حکومت پاکستان آزاد کشمیر کی حکومت کو گرانے کی کوشش میں لگی ہے۔ آپ کے ہوتے ہوئے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ ایک اچھی اور موثر تقریر تھی۔صدر لغاری نے بھی زندگی کی شروعات سول سروس سے کی تھیں۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ کمشنر سرگودھا ڈویژن رہ چکے تھے۔صدر لغاری نے بہت ہی خوبصورت صدارتی تقریر کی۔ میرے اور JKCHR کے بارے میں اچھے کلمات کہے۔اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد زاہد ملک کی تقریر میں اٹھائے گئے اعتراض کے جواب میں کہا کہ میں JKCHR کا مہمان ہوں، اور چونکہ یہ آزاد کشمیر کی حکومت کا معاملہ اس پلیٹ فارم سے میری نوٹس میں لایا گیا ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ میرے علم میں ایسی کوئی خبر نہیں، اور میں یہ بھی یقین دلاتا ہوں کی ایسے کسی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گئی۔اس طرح سردار قیوم کی حکومت بچ گئی۔ (جاری ہے)

واپس کریں