دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جنرل باجوہ کا بڑا بیان، جنرل چشتی ، آزاد کشمیراسمبلی ممبران کی ذمہ داری
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
پاکستان مشن نیویارک کے حوالے سے پاکستان میں گرم ما گرم خبر چل رہی ہے کہ آرمی چیف نے نومبر میں ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی اور سیاست سے دور رہے گی۔میں نے جنرل صاحب سے گزارش کی کی ہے کہ اس خوش خبری میں آزاد کشمیر، جو ایک ڈی فیکٹو لوکل اتھارٹی ہے اور جہاں حکومت پاکستان نے انسپ قراردادوں کے تحت ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، کو شامل کیا جائے۔ تاکہ یہاں بھی آئین، اقوام متحدہ کی ٹمپلیٹ اور قراردادوں کی بالادستی بحال ہو جائے۔

میں آزاد کشمیر اور جنرل صاحب کے حوالے سے کچھ اہم نکات زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔جنرل باجوہ کے بیان کا عام فہم زبان میں مفہوم صاف اور سادہ یہی ہے کہ وہ اب آئین کے تحت لئے گئے حلف کی پابندی کریں گے۔ یہ ایک دکھ کی بات تھی، کہ حلف اٹھانے کے بعد بھی، اس کی پابندی کا لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ جنرل صاحب کا بیان پاکستان میں بہت بڑی خبر ہے۔امید ہے کہ آرمی چیف اس بات کا خیال رکھیں گے کہ آرمی کی درجہ دوئیم اور درجہ سوئیم کی مداخلت آزاد کشمیر میں بھی بند کی جائے گی۔

میں یہ بات 2022 میں نہیں کر رہا ہوں، بلکہ ضیا الحق کے مارشل لا دور میں بھی اسی وضاحت اور سنجیدگی سے آزاد کشمیر کے مرتبے کا دفاع کیا ہے۔مارشل لا حکومت نے پاکستان میں انتخابات کرانے یا موخر کرنے پر ہر سطح پر عوامی رابطہ کی مہم شروع کی تھی۔زندگی کے مختلف مکاتب فکر سے رابطے ہو رہے تھے۔آزاد کشمیر کا عوامی رابطہ وزیر امور کشمیر جنرل فیض علی چشتی کے ذمہ تھا ۔ مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ میرے ساتھ گلگت کے کرنل حسن بھی مدعو تھے۔ اس طرح ہمارا گروپ دو ہی افراد پر مشتمل تھا۔ میٹنگ میں جنرل فیض علی چشتی کے ہمراہ آزاد کشمیر کے صدر جنرل حیات خان بھی تھے۔اس میٹنگ سے پہلے میں ڈاکٹر فاروق حیدر کی کلینک پر گیا تھا، تاکہ دریافت کرسکوں کہ مقبول بٹ (شہید) کے بارے میں محاذ رائے شماری کا کیا موقف ہوگا، اور کس طرح ہم اس موقف میں ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔ اور حکومت سے کیا مطالبہ کریں۔ڈاکٹر فاروق نے کوئی حوصلہ بڑہانے یا تجویز دینے کے بجائے، کہدیا کہ وہ کسی جرنیل سے نہیں ملیں گے۔ انہیں معلوم تھا کہ خواجہ غلام دین وانی کے ٹیلیگرام کے جواب میں، جنرل ضیا الحق نے وضاحت کی تھی، کہ اس نے دفتر خارجہ کو ہدائیت کی ہے، کہ وہ اسے مقبول بٹ کے کیس پر ریگولر باخبر رکھیں۔

مقبول بٹ کی پاکستان میں قید کسی بھارتی کے عوض تبادلے کی بات زیر غور تھی۔جنرل چشتی نے ہمارے ساتھ طویل گفتگو کی۔ کرنل حسن اور جنرل چشتی کے درمیان اچھے مراسم بھی تھے۔ ائیر مارشل اصغر خان اور راولپنڈی سازش کیس کے کرنل علیم بھی زیر بحث آئے۔جب آزاد کشمیر کے انتخابات کرانے یا ملتوی کرنے کی بات ہوئی، جنرل چشتی نے رائے پوچھی۔ میں نے کہہ دیا کہ جنرل صاحب یہ آپ کی وزارت کا بھی امتحان ہے ۔ آزاد کشمیر پاکستان کا علاقہ نہیں اور نہ ہی یہاں کوئی مارشل لا ہے۔ اس لئے یہاں انتخابات کو ملتوی کرنا درست نہیں ہوگا۔ جنرل صاحب نے اتفاق کیا اور کرنل حسن کو کہا کہ وہ اگلے دو دنوں میں گلگت جا رہا ہے، وہ اس کے ساتھ چلیں۔ کرنل حسن نے کہا کہ وہ جنرل صاحب کے جانے سے ایک دن پہلے جائیں گے تاکہ وہ گلگت میں ان کے استقبال کے لئے موجود ہوں ۔جنرل چشتی کو ہمارا آزاد کشمیر کا انتخاب ملتوی نہ کرنے کا مشورہ جائز لگا۔

کرنل حسن نے جنرل چشتی کو اطلاع کی کہ آئیندہ چند دنوں میں، وہ، نذیر گیلانی اور کرنل علیم کے ہمراہ آزاد کشمیر کی صورتحال پرایک پریس کانفرنس بھی کرنے والا ہے۔ اب یہ پریس کانفرنس گلگت کے دورے کے بعد ہی ہوگی۔ہم یہ سن کر حیران ہوئے، جب جنرل چشتی نے کہا کہ آپ لوگ اپنی پریس کانفرنس میں، آزاد کشمیر کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کریں اور میں پھر معاملہ جنرل ضیا الحق کیساتھ اٹھائوں گا۔ دراصل ہم نے یہ مطالبہ پریس کانفرنس میں کرنا تھا۔ یہ ائیر مارشل اصغر خان کی بھی رائے تھی اور کرنل علیم، کرنل حسن خان اور میری ذمہ داری لگائی تھی کہ ہم پریس کانفرنس میں یہ مطالبہ کریں۔

اس کے بعد جنرل صاحب نے پوچھا کہ کیا کشمیری کمیونٹی کے کوئی اور مسائل تھے۔ میں نے سیٹلائیٹ ٹان کے پلاٹس کی الاٹمنٹ میں کی گئی بے ضابطگی کا ذکر کیا۔ مجھے قطعی علم نہیں تھا کہ پلاٹ کن کن کو الاٹ ہوئے ہیں۔ جنرل چشتی، جنرل حیات خان سے مخاطب ہوئے اور وضاحت طلب کی۔ یہ میری جنرل حیات خان سے پہلی ملاقات تھی۔جنرل حیات خان بہت ہی سادہ اور صاف گو انسان تھے۔ کہنے لگے کہ پلاٹ قرعہ اندازی سے الاٹ ہوئے ہیں۔ یہ بات درست تھی۔ میں نے اعتراض کیا کہ قرعہ اندازی میں مستحق لوگوں کی جگہ غیر مستحق لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔ بڑی تنخواہ والوں کو، بھی قرعہ اندازی میں شامل کیا گیا ہے اور یہ اتفاق ہے کہ ان ہی بڑی تنخواہ والوں کے پلاٹ نکلے ہیں۔اس بے ضابطگی کی نشاندہی پر جنرل چشتی نے قرعہ اندازی میں نکلے تمام پلاٹ کینسل کردئے۔ میرا استدلال درست تھا، کہ غیر مستحق لوگوں کو شامل کیا گیا تھا۔ابھی میں گھر پہنچاہی تھا کہ پاکستان ٹیلیویژن کے حمید ممتاز رائو کا فون آیا اور بہت ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا پلاٹ نکلا تھا اور اب کینسل ہوگیا۔ وہ بولے بھائی اب میرا ہی پلاٹ کینسل کرانا تھا۔ اس زمانے میں پلاٹ کا مل جانا ایک بہت بڑا اثاثہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کا اس طرح کینسل ہوجانا بھی دشمنی کی ایک بڑی وجہ بن جاتی تھی۔

ہم نے جنرل چشتی اور جنرل حیات خان سے اجازت لی اور لفٹ سے نیچے آگئے۔ منسٹری سے نکلتے ہی کرنل حسن نے محسوس کیا کہ وہ اپنی ٹوپی جنرل چشتی کے دفتر میں بھول گئے تھے۔ہم دوبارہ اوپر گئے۔ جونہی ہم نے اندر جھانکا، ٹوپی سامنے پڑی تھی۔ میں ڈاکٹر فاروق حیدر کو کمرے میں دیکھ کر حیران ہوا۔ انہوں نے ایک دن پہلے کہہ دیا تھا، کہ وہ کسی جرنیل سے نہیں ملیں گے۔ اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔جنرل فیض علی چشتی بہت تکڑے اور ڈاڈے جرنیل مانے جاتے تھے۔ لیکن سب سے تکڑا اور ڈاڈا انسان کا اپنا موقف اور استدلال ہی ہوتا ہے۔ ہماری گفتگو میں آزاد کشمیر کو پاکستان کے مارشل لا سے الگ رکھنے پر اتفاق ہی نہیں ہوا بلکہ آزاد کشمیر کو تسلیم کرنے کی ایک سبیل بھی سامنے آئی۔ آزاد کشمیر ایک سطحی، بے جان اور اپنے کیس سے کم علم اور بے خبر سیاسی ماحول کی زد میں آیا ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کا، اس علاقے میں وجود ہے۔

مقامی لیڈر اسلام آباد میں موجود پاکستانی قیادت کا، آئین کی دفعہ 257 کے تحت ایک negotiated رشتہ قائم کرنے سے پہلے ہی نوکری کے لئے انٹرویو دینے پر آمادہ ہوئی ہے۔ ایجنسیوں کا خوف ہے ۔ اس خوف کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو اسٹیبلشمنٹ سے تعلقداری کے شوشے سے ڈراتے ہیں۔ وگرنہ جنرل صاحب کے اس بیان کے بعد کہ فوج سیاست سے الگ ہوئی ہے اور آئیندہ بھی الگ رہے گی، کا یہاں کے ممبران اسمبلی کو ویلکم کرنا چاہئے تھا اور ہمت کرکے، آزاد کشمیر کے علاقے کو بھی اس جاری مداخلت سے پاک کرنے کی یاددہانی کرانی چاہئے ۔

آزاد کشمیر کے ارکان اسمبلی کی اپنے کیس کی کم فہمی اور بے بسی کی ایک مثال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے سابق صدر مسعود خان نے اپنے ٹائیپ رائیٹر پر کشمیر کے حل کیلئے 9 نکات تخلیق کئے۔ یہ 9 نکات صدر نے 30 مئی 2019 کو کشمیر پر OIC کے Contact Group کو تحریری طور جدہ میں پیش کئے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم، یہاں کی کابینہ، ممبران اسمبلی اور کشمیر کیس کو سمجھنے والے بڑوں کو اس کی آج تک ہوا بھی نہیں لگی۔چونکہ مسعود خان فوجی حلقوں کے امیدوار تھے، اس لئے کسی مائی کے لعل میں، یہ ہمت پیدا نہ ہوئی کہ وہ صدر کی اس رائے پر حق اعتراض کرتے اور ان کے اس عمل کو اختیارات سے تجاوز کہتے۔ یا پوچھتے کہ جناب آپ کے 30 مئی 2019 کو جدہ میں پیش کئے گئے 9 نکات کا جواب بھارت نے اپنے 5 اگست 2019 کی شکل میں کیوں دیا؟

اب خود آرمی چیف نے کہا ہے کہ آرمی سیاست سے دور ہے اور دور ہی رہے گی۔ کشمیریوں کا "چاکہ" بھی نکل جانا چاہئے۔ امید ہے کہ ہمارے ہاں خالد ابراہیم خان ،(مرحوم) کی طرح اور بھی مائی کے لعل سامنے آئیں گے۔گیا گزرا سیاست دان، جب سنبھلنے پر آئے، ڈٹ جانے کا حوصلہ پیدا کرے، تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔ آزاد کشمیر کے معاملات کے انچارج بھی، سپہ سالار کی پبلک کمٹمنٹ کے بعد اپنے حلف کی پابندی اور پاسداری کریں گے۔
واپس کریں