دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
برطانیہ کے ویزے کا احوال ، چھوٹے لوگ بڑی کرسیوں پر قسط13
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
بہت سارے احباب نے تعجب اور حیرت کا اظہار کیا ہے، کہ میں نے اپنی مشکلات کا اور کٹھن حالات کا، ان سے لمحہ ضرورت میں اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتھ ہی یہ بھی پوچھا ہے کہ مجھے بر طانیہ کے لئے ویزے کے لئے کس نیک فطرت اور ہمدرد نے سپانسر کیا تھا ؟ میرے لمحات آزمائش کا ایلیمنٹری انداز اور کریکٹر کچھ ایسا ہی رہا ہے کہ میں اس کا اظہار اس طرح نہ کرسکا، جس طرح آج کیا جاتا ہے۔ ان ایام میں آج کے سوشل میڈیا اور ان ذرائع کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ رابطے کا واحد ذریعہ فون کی لینڈ لائن ہی ہوا کرتی تھی۔ دوسرا ذریعہ سفر اور ملاقات کا تھا۔ اس میں ٹیکسی سواری کے اخراجات کے ساتھ ساتھ دوسرے خطرات موجود رہتے تھے۔ اس شکوے کے جواب میں اور بہتر وضاحت کے لئے میں آزاد کشمیر میں موجود اسلامک لا( Shariah) پر عبور رکھنے والی اور انتظامی امور میں شامل رہی ایک سینیئر اور معتبر شخصیت سید نظیرالحسن گیلانی کے 31 دسمبر 1984 کے مکہ مکرمہ سے لکھی گء شکائیت کا سہارا لے رہا ہوں۔ ہمارا رشتہ خاندان کے علاوہ، علمی اور ریاستی تعلق داری کا بھی تکڑا اور ڈاڈا رہا ہے۔ ہم دونوں اقدار اور روایات کی اہمیت اور فضیلت پر ایمان رکھتے ہیں۔ کبھی کبھار ہم نام ہونے کی وجہ ایک دوسرے کے علمی اور فکری عمل کے رد عمل کے لئے ذمہ دار قرار دئے گئے ہیں۔ جب کبھی بھی احمد کی ٹوپی محمود کے سر پر رکھی گئی ہم دونوں نے حرف شکائیت کے بجائے خاموشی اختیار کی ہے۔ دل ہی دل میں ہنستے تو رہے مگر محفل میں آنکھوں کی دید اور ایک دوسرے کے احترام کا خیال رکھا۔ ایک دوسرے کا جرم قبول کیا ۔

سید نظیرالحسن گیلانی نے King Abdul Aziz Ummmal Qura University سے 31 دسمبر 1984 کو دعا سلام کے بعد لکھا ہے : "ارض مقدس پر خدا وند قدوس سے آپ کی صحت و سلامتی اور دین و دنیا کی سرخروئی اور کامرانی کے لئے دعاں کے بعد گزارش ہے کہ ایک عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ آپ کو خط لکھوں مگر ایڈریس معلوم نہ ہونے کی وجہ سے یہ خواہش آج اس وقت پوری ہوئی جب برادرم فائی صاحب نے بتایا کہ U.K میں وہ آپ سے بھی ملیں گے"۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ وہاں کب تشریف لے گئے۔ میرا خیال تھا کہ آپ کراچی میں ہیں"۔خط بہت ہی حوصلہ افزا ہے، اسمیں ہمت دلائی گئی ہے، دعائیں ہیں، اپنا مقام پیدا کرنے کی تلقین ہے، اور عمرہ کی ادائیگی کی دعوت کے علاوہ ایک اچھے انسان کی، اچھی حوصلہ بڑھانے والی باتیں ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی طرف سے میری ضمانت یکم اپریل 1980 کو منظور ہو جانے تک میرا رابطہ احباب سے کٹ گیا تھا۔ اس زمانے میں اپنے ہی ساتھی کے خلاف مخبری کو قومی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ پولیس کے ساتھ تعلق کو آج کی طرح عیب نہیں سمجھا جاتا تھا۔اس لئے حلقہ احباب سے بھی ڈر لگتا تھا۔ لیکن دوست بڑی نعمت اور ڈھارس ہوتے ہیں۔ احباب کیساتھ interaction میں کمی کی یہی بڑی وجہ تھی۔ مخبری ہماری بھی ہوئی۔ اس کا علم مجھے کراچی میں مرحوم میر قیوم کے گھر ہوا۔

دوسرا سوال میرے ویزے اور سپانسرشپ کا تھا۔مجھے برطانیہ کسی نے سپانسر نہیں کیا اور نہ ہی میرے پاس برطانیہ کا کوئی ویزہ تھا۔میں سندھ مسلم لا کالج میں تعلیم کے دوران پاکستان کارپیٹس مینوفیکچیررس اینڈ ایکسپورٹرس ایسوسی ایشن کا سیکریٹری(چیف ایگزیکٹو) تھا۔ ہر کارپیٹ ایکسپورٹر کو ویزہ کے لئے ایسوسی ایشن کی تصدیق لینی لازمی تھی اور یہ تصدیق میں کرتا تھا۔ میرا نام تمام سفارتخانوں کے ٹریڈ سیکشنز میں موجود تھا۔ اور میری ملاقاتیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ کنگ آف کارپیٹس خواجہ جی ایم لون ایسوسی ایشن کے چئیرمین تھے۔امان اللہ خان مرحوم نے لندن سے مجھے اطلاع دی کہ اس نے میرا نام گلاسگو میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بحیثیت ایک سپیکر کے لکھوایا ہے۔ چونکہ میرا امریکہ جانے کا ارادہ ہے ہی، بہتر ہوگا اگر میں جلدی آجاوں اور اس کانفرنس میں شرکت کروں۔

ہمارے اچھے تعلقات تھے۔ میں کراچی میں چھ جماعتی کشمیری طلبا اتحاد کا چئیرمین بھی تھا اور ہم نے مقبول بٹ بچا کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ یہ کمیٹی بہت متحرک تھی۔ ہم لندن سے بھیجا گیا لٹریچر بھی پرنٹ کر کے تقسیم کرتے تھے۔میں لا کالج میگزین کے انگریزی سیکشن کا ایڈیٹر بھی چنا گیا تھا۔ یہ ایک کشمیری کے لئے پہلا بڑا اعزاز تھا۔ اس طرح قانونی حلقوں میں، میں متعارف ہوا۔انگریزی سیکشن کے انچارج استاد پروفیسر ناصر اسلم زاہد تھے ۔ وہ بعد میں بینظیر بھٹو کی حکومت میں لا سیکریٹری بھی تعینات ہوئے ۔ ناصر اسلم زاہد 1980 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج اور پھر 1992 سے 1994 تک چیف جسٹس مقرر ہوئے۔ میرے استاد بھی تھے اور دوست بھی۔لا کالج میں تعلیم کے دوران ہی حکومت پاکستان نے وفاقی محتسب کی تقرری کا فیصلہ کیا اور ملک بھر کے لا کالجز سے ان پٹ in put منگوانے کے لئے تمام لا کالجز کو ہدایات جاری کیں۔ سندھ مسلم لا کالج میں بعنوان: ["Seminar on the Draft Establishment Of The Office Of Ombudsman (Mohtahsibe Aala) Oder 1981] 3 ستمبر 1981 کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس ذکا اللہ کی صدارت میں سیمینار ہوا۔ سندھ سے مسلم لا کالج کا میرا پیپر منظور ہوا اور وفاقی وزارت قانون اور انصاف کو بھیجا گیا۔صحافتی، علمی، حکومتی اور سفارتی حلقوں میں، میرا نام گردش کر رہاتھا۔ عدالتی حلقوں میں بھی میرا نام کشمیری زبان پر لکھے گئے مضمون اور کشمیر کا واررث کتابچہ لکھنے کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا تھا۔ امان صاحب سے میری خط و کتابت تھی۔ انہیں علم تھا کہ میں مزید تعلم کے لئے امریکہ جانا چاہتا تھا۔ اس دوران میں نے مقبول بٹ(شہید) پر انقلاب راولپنڈی کا ایک مقبول بٹ نمبر بھی نکالا۔ ایسے اقدام مقامی انتظامیہ ناپسند کرتی تھی۔ سارے گناہ معاف ہوتے تھے۔ صرف مقبول بٹ کی حمائیت اور خود مختار کشمیر کی حمائیت نا قابل معافی گناہ تھے۔

چونکہ تمام سفارتخانوں میں، پاکستان کی کارپیٹ انڈسٹری کے لوگوں کے ویزے کے استحقاق کی میں تصدیق کرتا تھا، مجھے جرمنی ، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، ڈنمارک اور امریکہ نے ویزے دے دئے ۔ جرمنی نے کراچی سے ہی ویزہ دوبارہ ری ایشو کیا اور امریکہ نے، میرے لندن میں over stay کی وجہ ایڈنبر سے ویزہ ری ایشو کیا۔ 1982 میں برطانیہ کا ٹرانزٹ ویزا ائیر پورٹ پر ہی دیا جاتا تھا۔ مجھے بھی۔ لندن ائرپورٹ پر ویزہ دیا گیا۔ میں ٹرانزٹ میں تھا، اس لئے کسی سپانسرشپ کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ اپنے عارضی قیام کا ایڈریس دینا لازمی تھا۔ میرے پاس نارتھہیمپٹن میں قیام کرنے کا ایک ایڈریس تھا ۔ امان صاحب نے اصرار کیا کہ گلاسگو سکاٹ لینڈ کی کانفرنس کو miss نہ کروں اور اپنے پروگرام کو تبدیل کروں۔ اور جتنی جلدی ہوسکے سفر کی تیاری کروں۔ گلاسگو میں عالمی کانفرنس سے خطاب کا سن کر، میری نیندیں حرام ہوگئیں۔ میں خود کو آئیندہ کا اہم کشمیری بننے کے خواب دیکھنے لگا۔ کہاں ناراں تھل، کہاں بارہمولہ، کہاں مظفرآباد، کہاں راولپنڈی، کہاں کراچی اور کہاں اب گلاسگو میں عالمی کانفرنس۔مجھے تب یہ معلوم نہیں تھا کہ برطانیہ میں ہر کانفرنس انٹرنیشنل کا نفرنس ہو ہی جاتی ہے۔میں نے نہ آئو دیکھا اور نہ تائو، کارپیٹ انڈسٹری سے استعفی دے دیا اور کچھ ذمہ داریاں اپنے دوست خواجہ منظور قادر کے سپرد کر دیں۔ خواجہ منظور قادر بہت متحرک طالب علم لیڈر تھے اور کشمیری طلبا کے ایڈمشن، رہائیش اور انکی نوکری کا خاص خیال رکھتے تھے۔ کراچی میں ایک ہردلعزیز شخصیت تھے۔خواجہ منظور قادر آج کل مظفرآباد میں وکالت کرتے ہیں اور جموں وکشمیر لبریشن لیگ کے صدر ہیں۔ مارشل لا کے دوران انہوں نے عراق ایران جنگ کے خلاف کراچی میں ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا تھا اور ایران اور عراق کو جنگ بند کرنے کی تحریری اپیل بھی دی تھی۔یہ جواب ہے، لمحہ تکلیف میں احباب کو خبر نہ کرنے کا اور سپانسر شپ کا۔ کوئی جعلی کام نہیں کیا اور نہ کسی سپانسرشپ کی بے توقیری۔ البتہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برٹش ریڈ کراس نے بہت مدد کی۔

آج کا پاکستان ایک روشن خیال پاکستان ہے۔ اس کے علم کشمیریات میں، کافی حد تک(دکھلاوے کی حد تک ہی سہی) ایک تبدیلی آئی ہے اور آہستہ آہستہ مزید تبدیلی آکر ہی رہے گی۔ اس تبدیلی کے نہ آنے میں مقتدر حلقے ہمیشہ کشمیریوں کا کاندھا استعمال کرتے ہیں اور ان ہی کے ذریعے ڈنڈی مرواتے ہیں۔ یہ گٹھ جوڑ تبدیلی اور بہتری کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ رہا ہے۔پاکستان میں سرکاری سوچ کا ایک تاریک زمانہ بھی تھا، جب "مسئلہ کشمیر" اور "کشمیری زبان" پر تحریر اور اظہار ایک جرم قرار دیا گیا۔مجھے 15 مئی 1978 کو، الفتح کراچی کے 20 تا 27 جنوری کے شمارے میں "مسئلہ کشمیر، کشمیر اور کشمیری زبان" پر ایک مضمون لکھنے پر چارج شیٹ دیا گیا۔ اس چارج شیٹ پر ایک میجر جنرل کے دستخط تھے۔ جنرل صاحب کی بلا جانے کہ حبہ خاتون ،(زونی)، لالہ عارفہ، مہجور اور ولر کی وسعت اور گیرائی کا کشمیری زبان کے ساتھ تقابل کا احساس ایک کشمیری کی میراث ہے۔جنرل صاحب نے اپنی عسکری ٹریننگ اور سرحدوں کے تحفظ کی ذمہ داری کو چھوڑ کر امریکہ اور روس کی توپوں کا رخ ایک قلم کار کشمیری کی طرف موڑ دیا۔ جنرل صاحب کا فہم عامہ، علم کشمیریات اور duty to fairness بھی تاریخ کا ایک اہم reference بن کر رہ گیا۔

میرا چارج شیٹ نارمل انسان نہیں لکھ سکتا اور نہ ہی آج تک ایسا چارج شیٹ پاکستان اور ہندوستان میں لکھا گیا ہے۔ بد دیانتی اور بد نیتی کابھی ایک ڈھنگ ہوتا ہے لیکن یہاں لگتا ہے جنرل صاحب نے جنگ عظیم دوئیم میں، برما کی کسی ٹرنچ میں بیٹھکر بھنگ پی کر یہ چارج شیٹ تیار کی ہو اور اس پر دستخط کئے ہوں۔چارج شیٹ میں میرا تعارف اس طرح کیا گیا ہے: Mr. Syed Nazir Gilani s/o Mr. Sad-ud-Din Shah resident of Baramulla / now of Rawalpindi..... آج تک پاکستان میں کسی چارج شیٹ میں کسی پاکستانی کی سابقہ بھارتی سکونت نہیں لکھی گئی ہے۔ یہ بھونڈے پن کی بد ترین مثال ہے۔ اس اصول کے مطابق پرویز مشرف کی سکونت کو اس کے خلاف کیس میں اس طرح لکھا جاتا:
General Pervez Musharraf s/o Syed Musharraf r/o Nehr Wali Haveli, Kacha Saad ullah Mohallah, Old Delhi / now of Islamabad
نواز شریف کی سکونت اس کے کیس میں اس طرح لکھی جاتی: Nawaz Sharif s/o Muhammad Sharif r/o Jati Umra, Tara Taran, Amritsar now of Lahore
چیف جسٹس خواجہ محمد یوسف صراف کی سکونت اس کے کیس میں یوں لکھی جاتی۔ Justice Yusuf Saraf s/o Mohammad Usman Saraf r/o Baramulla now of Muzaffarabad
لیکن ایسا کرنا درست نہیں۔ یہ abnormal لوگ ہوتے ہیں۔ اور انگریزی زبان کے بڑے شاعرWilliam Wordsworth نے ان ہی لوگوں کے لئے لکھا ہے :"What Man has made of Man"لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس دلاور محمود نے ایسے لوگوں کے بارے میں کہا تھا:
"They are small people occupying big chairs".
اس طرح کا چارج شیٹ ترتیب دینے کا مقصد بد دیانتی اور اس کیس کو مارشل لا دور میں، مارشل لا حکام کے سامنے اپنے مقصد کا رزلٹ حاصل کرنا تھا۔ چارج شیٹ میں دو الزام لگائے گئے:
1. (...which article was prejudicial to the interests of the Government of Pakistan and the contents of which article are subversive to the Government of Pakistan".)
2. (...thereby being engaged in subversive activities prejudicial to National Security as well as to the good working of this Headquartes".)
مسئلہ کشمیر، کشمیر اور کشمیری زبان پر اظہار رائے کو subversive to the Government of Pakistan قرار دینے کے علاوہ ایک ایسی subversive activity میں ملوث قرار دیا گیا جو پاکستان کی National Security کے خلاف تھی۔کشمیری لٹریچر میں حبہ خاتون(زونی) کے دکھ، لالہ عارفہ کے صوفیانہ کلام، ڈل اور ولر کی گیرائی سے کشمیری زبان کا تقابل، جنرل صاحب اور اس کاروائی میں شریک افراد کو پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ، اور پاکستان کے مفادات کے خلاف عمل محسوس ہوا۔ اس جنرل نے، مارشل لا کے دوران انصاف کا کہاں کہاں اور کیا کیا حشر نشر کیا ہوگا، اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔ ایسے کردار پاکستان کو 1960 میں مغربی جرمنی کو طویل المیعاد قرضہ دینے والے ایک confident آزاد ملک سے، آج ڈینگی کا علاج نہ کرنے کے قابل ملک اور مانگنے والے ممالک کی قطار میں شامل کرانے کے ذمہ دار ہیں۔ اسی فہم اور سوچ کے لوگ ہندوستان کے 5 اگست 2019 ایکشن کے ذمہ دار ہیں۔ یہ پاکستانی قوم اور کشمیریوں کے مجرم ہیں۔ (جاری ہے)

واپس کریں