دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بیگم بھٹو کا نمائندہ، الفتح کراچی۔ ثنا ء اللہ شمیم کا تبصرہ اور انڈیا کاپاکستان سے احتجاج ۔ قسط12
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ملک میں پیپلزپارٹی پارٹی کے ہم خیال مکاتب فکر کا زندگی کے ہر شعبے میں، بالخصوص دانشور طبقے اور صحافت میں عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا تھا۔ میرا PPP, PSF اور NSF سے کوئی نظریاتی تعلق نہں تھا۔ نہ ہی میرا تعلق کسی پروگریسو گروپ کے ساتھ تھا۔بھٹو دور میں پیپلزپارٹی کے ایک ماہر معیشت(ڈاکٹر مبشر حسن) کا الفتح کراچی میں معیشت پر ایک پیپر شائع ہوا اور اس پر عوامی بحث کی دعوت دی گء تھی۔ میں نے اس پر ایک عام قاری کی حیثیت سے تنقیدی جائزہ لکھا۔ اس تجزیے کی کافی پذیرائی ہوئی۔الفتح کراچی بائیں بازو اور پروگریسو سوچ کا ترجمان اخبار تھا۔ بہت معتبر اور بااثر رسالہ مانا جاتا تھا۔اس کے ایڈیٹر ارشاد راو اور وہاب صدیقی تھے۔ وہاب صدیقی ان 50 پاکستانی قیدیوں میں سے تھے، جن کی رہائی مارچ 1981 میں PIA Flight 326 کی ہائی جیکنگ کے نتیجے میں عمل میں آئی تھی۔ وہاب صدیقی ایک مثالی نظریاتی شخصیت مانے جاتے تھے۔ ارشاد رائو بائیں بازو کا تکڑا نمائندہ تھا۔میرے اس تنقیدی جائزے کے شائع ہونے کے بعد، الفتح کراچی نے مجھے باقاعدہ لکھنے کی دعوت دی۔ میں نے الفتح کراچی میں، ریڈ کراس میں تعینات ہونے سے پہلے، اطلاعات میں ملازمت کے دوران ہی لکھنا شروع کیا تھا۔

کشمیر پر میرے کالم کافی مشہور رہے ۔ میرا ایک کالم "حکومت آزاد کشمیر کی ٹنڈ کر دی گئی"، بھٹو بینظیر ملاقات پر کالم " اور گھڑی کی سوئیاں رک گئیں" اور بھٹو کی پھانسی پر کا کالم "ہمالہ رو رہا ہے" بہت مشہور ہوئے۔ الفتح کراچی کی جہاں جہاں تک ریڈرشپ تھی، وہاں میرا تذکرہ ہوتا تھا۔ کشمیر کے کالم کو دلچسپی سے پڑہا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جب ستمبر 1979 میں میرے خلاف مارشل لا کے تحت نیو ٹان تھانہ راولپنڈی میں مقدمہ درج ہوا اور گرفتاری سے بچنے کے لئے، مجھے سندھ چلے جانے کی رائے دی گئی۔میں رات گوجرانوالہ ٹھرا اور اگلی صبح بذریعہ ٹرین کراچی جانا تھا۔ مجھے ہوٹل استقبالیہ نے فون کیا کہ کوئی صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔اس زمانے میں اور باالخصوص اس ہوٹل میں قیام کرنے والے مہمانوں کے نام باہر ایک بورڈ پر چاک سے لکھے جاتے تھے۔ ہر آنے والے کو ہوٹل میں رہائش پذیر کا پتہ چل جاتا تھا۔یہ ایک مقامی جنجوعہ تھے۔ مجھے ملتے ہی کہنے لگے، آپ الفتح میں کشمیر کی ڈائری لکھنے والے نذیر گیلانی ہیں۔ میں نے جب ہاں کہا، تو اس نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ میں آپ کے کالم پڑھتا ہوں۔ آپ کے ایک اور چاہنے والے ریڈر بھی ہیں اور ساتھ ہی حلوائی کی دکان چلاتے ہیں۔ہم قریب ہی ایک حلوائی کی دکان پر گئے۔ تازہ تازہ جلیبیاں اور مٹھائی بن رہی تھی۔ ایک پرانے کشمیری سے ملاقات ہوئی اور اس نے بڑی تواضع کی۔ معلوم ہوا کہ وہ مالک نہیں بلکہ ملازم ہے۔میں نے دل ہی دل میں محسوس کیا کہ میری مہمان نوازی اس کشمیری ملازم کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ میں نے اسے منع کیا اور کہا کہہ مالک برا منائے گا۔ جنجوعہ صاحب بولے، آپ اس کی فکر نہ کریں۔ یہ 40 سال سے ملازم ہے اور اسکا رتبہ مالک جیسا ہے۔ اصل مالک کی کامیابی کی وجہ اس کی 40 سال کی محنت ہے۔ یہ آج تک کشمیر نہیں جا سکا۔ کشمیری بھی بول پڑا، کہ آج تو میرا کوئی اپنا پہلی بار آیا ہے۔ میرا الفتح کا کالم اس کشمیری کو کشمیر کے ساتھ جوڑے رکھنے کا ایک سبب تھا۔حلوائی سے فارغ ہوکر جنجوعہ مجھے گھر چائے پینے کے لئے لے گیا۔ جنجوعہ نے والدہ کو بتا دیا کہ میں پنجاب پولیس کی حدود چھوڑ کر کراچی جا رہا ہوں۔ یہ سنتے ہی اماں بولیں بیٹا چائے جلدی پی لو۔ کل رات ہی ہمارے گھر پولیس کا چھاپہ پڑا۔ وہ میرے دوسرے بیٹے کی تلاش میں آئے تھے مگر وہ جرمنی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ کہیں آج پھر نہ آجائیں۔ میں چائے پی کر جلدی سے نکل آیا۔ رات بڑی مشکل سے گزری اور خوف تھا کہ کہیں پولیس میرے تعاقب میں نہ ہو۔

ابھی میں ریڈ کراس ہی میں تھا، کہ بیگم بھٹو کا فون آیا کہ کراچی سے ان کا خاص آدمی مجھے ملنے آرہا ہے۔ اس کو میری مددکی ضرورت ہے۔ مدد تو اللہ کرتا ہے۔ انسان ایک وسیلہ ہوتا ہے۔ میرا تجربہ بہت کم تھا اور ریاستی معاملات کا بھی کوئی مناسب علم نہیں تھا۔ میں اسلام آباد ائیر پورٹ مہمان کے استقبال کے لئے چلا گیا۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ یہ الفتح کراچی کے پبلشر اور ایگزیکٹو ایڈیٹر ارشاد رائو ہیں ۔ اس کا سگریٹ پر سگریٹ پینا بتاتا تھا کہ وہ ڈاڈا انقلابی سوشلسٹ ہے۔ہم سیدھا ان کے ہوٹل گئے۔ ارشاد رائو سے پتہ چلا کہ الفتح کراچی پر پابندی لگا دی گئی تھی اور الفتح کراچی سندھ کے دوسرے اخباروں کے ٹائیٹل استعمال کررہا تھا۔ آخری ٹائیٹل گھوٹکی کا تھا اور اس پر بھی پابندی لگ گئی تھی۔ وہ ایک نئے ٹائیٹل کی تلاش میں تھے۔ گھوٹکی کا ٹائیٹل کسی گیلانی کے نام تھا۔میرے brother in law کا آزاد کشمیر راولپنڈی کا ہفت روزہ انقلاب کا ٹائیٹل تھا۔ میں نیاس سے بات کی، کہ کیا وہ ارشاد رائوکی مدد کرسکتا ہے؟ ریاض حسین بخاری خود بھی پیپلزپارٹی کاہمدرد اور حامی تھا۔ وہ انقلاب کا ٹائیٹل الفتح کو استعمال میں دینے کے لئے تیار ہوگیا۔ ارشاد راو اور ریاض بخاری نے تعاون کی ضروری شرائط طے کر لیں۔بیگم بھٹو اس تعاون کے لئے بہت خوش ہوئیں۔ اب الفتح انقلاب کے ٹائیٹل سے راولپنڈی سے شائع ہونے لگا۔

مجھے یاد ہے کہ راولپنڈی کے ہاکر صبح ہی اپنی ضرورت کی کاپیاں بک کر لیتے تھے۔ ایک اشاعت جس کی بینر سرخی "راشہ راشہ بھٹو راشہ" تھی بہت مشہور ہوئی۔ اس اشاعت کے لئے بڑی بھیڑ لگ گئی۔یہ پرنٹ میڈیا کا دور تھا۔ لوگ معلومات کے لئے منتظر رہتے تھے۔ کچھ اخبارات نے دوپہر کے ایڈیشن بھی چھاپنے شروع کئے۔ سنسنی خیز خبریں شائع ہوتی تھیں۔مارشل لا حکام اور انتظامیہ کی سختی اس قدر تھی کہ مساوات کو "ٹماٹروں" پر اداریہ لکھنا پڑا۔ خبریں اتار دی جاتی تھیں اور صبح آدھا اخبار کالا سیاہ ملتا تھا۔الفتح کی انقلاب ٹائیٹل کے تحت راولپنڈی سے اشاعت بڑی کامیاب ثابت ہوئی۔ عوام کی دلچسپی دیکھ کر، مارشل لا حکام بڑے پریشان ہوئے۔میں بھی بھول ہی گیا تھا کہ وقت 5 جولائی 1977 کے آگے نکل چکا تھا اور یہ بھی بھول چکا تھا کہ میں نے پورے سٹاف کی طرف سے ایک، تحریری احتجاجی نوٹ ائیر کموڈور میر رفعت محمود کو دیا ہے۔ آنے والے طوفان کا مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا۔

میں افسر اطلاعات تعینات ہونے سے قبل ریڈیو پاکستان کی کشمیری زبان کی ایکسٹرنل سروس کا انچارج تعینات ہوا۔ اس سٹیشن کو ریڈیو پاکستان "پنڈی ون" کہا جاتا تھا۔ یہ سروس ریڈیو تراڑ کھل آزاد کشمیر کی نشریات سے الگ تھلگ تھی۔ البتہ ان دنوں ریڈیو تراڑ کھل کی بلڈنگ میں کچھ کام ہو رہا تھا۔ ریڈیو تراڑ کھل کی نشریات کو بھی پنڈی ون کی بلڈنگ کے ایک کمرے میں منتقل کیا گیا تھا۔ ریڈیو تراڑ کھل کی کشمیری نشریات کا دورانیہ کافی طویل تھا۔جبکہ کشمیری زبان کی ایکسٹرنل سروس کا دورانیہ 45 منٹ کا تھا۔ ریڈیو تراڑ کھل کے سٹیش ڈائریکٹر خواجہ محمد عمر اور پنڈی ون کے ڈائریکٹر ایم بی انصاری تھے۔ بہت ہی نفیس شخصیت تھے اور ان کا تعلق حیدر آباد سے تھا۔ خوش اخلاق اور خوش لباس تھے۔

ان دنوں اندرا - عبداللہ ایکارڈ ہوا تھا ۔ یہ ایکارڈ 24 فروری 1975 کو اندرا گاندھی کی طرف سے جی پارتھا سارتھی اور شیخ عبداللہ کی طرف سے مرزا افضل بیگ نے sign کیا تھا۔میرے پروگرام میں قرآن پاک کی تلاوت اور کشمیری ترجمہ، ایک تبصرہ اور ایک یا دو کشمیری گانے شامل ہوتے تھے۔ بہت ہی سنجیدہ مگر ٹارگیٹڈ سروس تھی۔ اندرا عبداللہ ایکارڈ کے آس پاس ایک دن ایک پروگرام میں، کشمیر کی ایک بہت بڑی شخصیت تبصرے کے لئے آئی۔ میں انہیں جانتا نہیں تھا۔ کیونکہ یہ میری تعیناتی کے ابتدائی ایام تھے۔ ہر تبصرے کے نشر ہونے سے قبل اس تبصرے کی تحریر کو چیک کرنا میری ذمہ داری تھی۔ اس عمل کو ریڈیو کی زبان میں whet کرنا کہا جاتا ہے۔تبصرہ نگار سٹوڈیو میں آنے سے قبل باہر انجینئر کے کمرے میں، لائیو سٹوڈیو میں آنے کے لئے اشارے کا انتظار کرتا تھا۔ اسے اشارے کا انتظار رہتا تھا یا ہم لائیو سٹوڈیو سے انجینئر کو انٹرنل مائیک پر ہدائیت دیتے تھے۔ اس کشمیری شخصیت کو میں نے پہلی بار دیکھا۔ میں نے ان کے تبصرے کے مسودے کو دیکھا، تو حیرت ہوئی کہ انہوں نے مسودے میں شروع سے آخرتک شیخ عبداللہ کو کئی بار "غدار" لکھا تھا۔ پنڈی ون سے کئی زبانوں میں ایکسٹرنل سروس ہوتی تھی۔ اب تک کسی دوسری زبان کی سروس میں اندرا عبداللہ ایکارڈ پر شیخ عبداللہ کو غدار نہیں کہا گیا تھا۔

مجھے علم تھا کہ پاکستان کے حکمران اس قسم کی بداحتیاطی 24 نومبر 1947کو کر چکے تھے۔ وزیراعظم پاکستان نے وزیراعظم برطانیہ کو 24 نومبر 1947 کو بھیجے گئے ٹیلیگرام میں شیخ عبداللہ کو کانگریس کا پئیڈ ایجنٹ، گینگسٹر اور Quisling لکھا تھا۔ تاریخ کی غلطیاں بہت مہنگی پڑتی ہیں۔ اسی شیخ عبداللہ کا مئی 1964 میں راولپنڈی میں قومی اور سرکاری سطح پر شاہانہ استقبال ہوا۔یوں بھی افواہ عام تھی کہ شیخ عبداللہ کو پاکستان سے پیغام بھیجا گیا تھا، کہ 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ جو حاصل کر سکتے ہو، حاصل کر لو۔جو بھی حقائق ہوں، یہ صاحب اپنے 75 روپے کے پروگرام کے لئے شیخ عبداللہ کو غدار قرار دے رہے تھے۔ میں نے اس الزام کے میرٹ کو ناپسند کیا اور تبصرہ روکنے کافیصلہ کر لیا۔ انجینئر کو اشارہ کیا کہ تبصرے کی جگہ کشمیری گانا چلے گا۔عام روائیت کے مطابق تبصرے کے اختتام پر ساتھ والے کمرے سے ریڈیو تراڑ کے کشمیری اس شخصیت سے ملنے آتے تھے۔یہ صاحب سوپور کے خواجہ ثنااللہ شمیم تھے۔ پیشے سے وکیل تھے۔ ان کا تعلق مسلم کانفرنس سے تھا اور شروع میں آزاد کشمیر کی حکومت میں وزیر رہ چکے تھے۔انجینئر نے انہیں کہہ دیا کہ ان کا تبصرہ نہیں چلا کیونکہ مسودہ approve نہیں ہوا۔ ایسا اس سے قبل نہیں ہوا تھا کہ کسی کشمیری لیڈر کا مسودہ approve نہ ہوا ہو۔ یہ تو لیڈر ہی نہیں بلکہ لال مرچ تھے۔جونہی ساتھ والے کمرے سے کشمیری ملنے آئے، اور دریافت کیا کہ آپ کا تبصرہ ہوگیا۔ خواجہ ثنااللہ نے غصے میں کہا کہ نہیں اس "Bastard" نے روک دیا۔ میں بھی سٹوڈیو سے باہر آرہا تھا اور میں نے لفظ "Bastard" سن لیا۔یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ میں نے گالی سن کر خود کو سنبھالا اور کہا جناب آپ نے مجھے "Bastard" کہا ہے اگر یہ کوئی گالی ہے تو آپ بھی "Bastard" ہیں۔ بس یہ سن کر وہ ریڈیو تراڑ کھل کے کمرے میں چلے گئے۔ وہاں کشمیریوں نے اسے بڑھا چڑھا کر کہا کہ یہ شخص ڈبل ایم اے ہے اور انگریزی جانتا ہے۔

دوسرے تیسرے دن مجھے سٹیشن ڈائریکٹر ایم بی انصاری نے بلایا اور بہت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انصاری صاحب نے کہا آپ مجھے نوکری کرنے دیں گے۔ آپ کو نہیں معلوم آپنے کیا حرکت کی ہے ۔ جس شخص کا آپ نے تبصرہ روکا ہے وہ میری ایک گھنٹے میں چھٹی کرا سکتا ہے۔ یہ بہت ہی با اثر اور صاحب تعلقات کشمیری لیڈر ہے۔ آئیندہ ایسا نہیں کرنا۔میں نے انصاری صاحب کو کہا کہ یہ مناسب نہیں تھا کہ ہم شیخ عبداللہ کو غدار کہنے کی ابتدا کشمیری پروگرام سے کرتے۔ میں مطمئن نہیں تھا۔ اس لئے تبصرہ روک دیا۔اگرچہ انصاری صاحب اصولی طور اتفاق کر گئے لیکن میرے فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ اور کہنے لگے کہ یہ لوگ یہی بات تمہارے خلاف استعمال کرکے، تمہاری چھٹی کرائیں گے۔ اگلے پروگرام میں ایسا نہیں کرنا۔

اگلے ہفتے خواجہ ثنااللہ شمیم کا پھر تبصرہ تھا۔میں نے اسے مسودہ جوں کا توں پڑہنے دیا۔ مسودے کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔ کچھ دن گزر گئے، کہ اچانک باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ سیٹلائیٹ ٹان میں سٹریٹ لائیٹس اتنی اچھی نہیں تھیں۔جونہی میں باہر نکلا آگے ایم بی انصاری کھڑے تھے۔ اورکافی پریشان بھی۔ اور بولے یار تم نے کیا نشر کرایا ہے۔ ہمارے دفتر خارجہ کو ہندوستان کے دفتر خارجہ کا احتجاج موصول ہوا ہے۔ ثنااللہ شمیم کے تبصرے پر شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔اب کیا کریں۔ تم نے مسودہ چیک نہیں کیا تھا۔ مجھے دو دن میں ہیڈ کوارٹرز میں ڈائریکٹر جنرل کو جواب دینا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل اجلال حیدر زیدی تھے۔ میں نے کہا سر ایک راستہ ہے۔ ہم ثنااللہ شمیم سے اس پرانی ڈیٹ میں نئی تقریر لکھواتے ہیں اور میں اسی تاریخ میں approved دکھا کر آپ کو دیتا ہوں اور آپ ہیڈ کوارٹرز میں دے دیں۔ نوکری بھی بری چیز ہے۔ وہ کہنے لگے چلو ثنااللہ شمیم کے گھر ابھی جاتے ہیں اور ابھی تقریر لکھواتے ہیں۔ آپ دستخط کردو اور میں صبح ہیڈ کوارٹرز دے آئوں تاکہ وہ دفتر خارجہ کو بھیجدیں۔ثنااللہ شمیم ہمارے گھر کے قریب ہی پارک کی دوسری طرف رہتے تھے۔ مگر بیچ میں اندھیرا تھا۔ افرا تفری تھی کہ کہیں وہ سو نہ جائے۔ راستے میں انصاری صاحب کا پاوں ایک کھلے گٹر میں پڑ گیا اور انکی پتلون کا ایک سائیڈ گند سے اٹ گیا۔ نوکری کیا نہیں کراتی۔ جوں توں ہم ثنااللہ شمیم کے گھر پہنچ گئے۔ انصاری صاحب نے اسے سارا معاملہ سمجھا یا۔ مجبوری کی حالت میں گندے کپڑوں میں ہی بیٹھے رہے ۔ ثنااللہ شمیم نے نئی اور محتاط تقریر لکھ کر دی جسے میں نے بیک ڈیٹ میں approve کیا۔

اگلے روز انصاری صاحب نے تقریر ہیڈ کوارٹرز جاکر دے دی۔ جسے اجلال حیدر زیدی نے دفتر خارجہ کو بھیج دیا۔ دفتر خارجہ پاکستان نے اسے دفتر خارجہ انڈیا بھیج دیا۔دو ہفتے بعد دہلی سے اعتراض آیا کہ یہ مسودہ اس تاریخ کو نشر ہونے والے تبصرے سے مختلف ہے۔ دہلی کے پاس تبصرے کی ریکارڈنگ موجود تھی۔ اس خط و کتابت سے ایک الجھا پیدا ہوا، ساتھ ساتھ احتجاج کی ترشی نرم پڑتی گئی۔ خط و کتابت کے اس سلسلے سے، شکائیت میں شروع کا sting نرم پڑتا گیا اور ہم سب کی نوکری بچ گئی۔ انصاری صاحب بولے نذیر تمہارا پہلے والا فیصلہ ٹھیک تھا۔اس واقعے کے بعد میری خواجہ ثنااللہ شمیم کے ساتھ گہری دوستی ہوگئی اور ایم بی انصاری کو احساس ہوا کہ میں کالج اور یونیورسٹی گیا ہوں۔

اس کے بعد انصاری صاحب میرے فیصلوں کا احترام کرنے لگے۔ میرا دوسرا اہم فیصلہ شاہ غلام قادر ( جو آج مسلم لیگ ن کے صدر ہیں) کے 25 پروگراموں میں کٹوتی تھا۔ میں نے 7 پروگرام کم کرکے 18 کر دئے ۔ شاہ صاحب اس ایکسٹرنل سروس میں Announcement کے لئے بک ہوتے تھے۔ 7 پروگرام ایک دوسرے کشمیری کو دئے۔ یہاں سے میرے شاہ صاحب اور ان کے والد صاحب شاہ غلام نبی صاحب کے ساتھ تعلقات کی ابتدا ہوئی۔ ان کے بزرگ بڑے نیک اور ہمدرد تھے۔ میں نے ان کے جنازے میں بھی شرکت کی۔میں نے ان کی سفارش پر شاہ غلام قادر کو جون 1993 کی اقوام متحدہ کی ویانا آسٹریا میں ہونے والی ہیومن رائٹس کی ورلڈ کانفرنس میں، شرکت کے لئے سپانسر کیا۔ (جاری ہے)
واپس کریں