دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
رانا فضل حسین کے گوجری وفد کی صدر فضل الہی سے ملاقات کرانا، عبدالرحیم شیخ عرف قریشی ۔ قسط11
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ڈاکٹر سید نزیر گیلانی
ریڈ کراس میں تعیناتی کے دوران میری وزیراعظم ہاوس اور ایوان صدارت تک رسائی، کشمیری حلقوں میں زیر بحث رہتی تھی۔ کشمیریوں کے چھوٹے موٹے کام وزیراعظم ہاوس اور ایوان صدر سے کرانے زیادہ دشوار نہیں تھے۔ پولیس، کچہری اور دوسرے کاموں میں، میں پیش پیش رہتا تھا۔ایک دوپہر کشمیریوں کا ایک وفد ملنے آیا۔ ان کشمیریوں کے ہمراہ، ایک گجر وفد بھی تھا۔ اس گجر وفد کی قیادت حاجی رانا فضل حسین کر رہے تھے۔حاجی صاحب راجوری کے مہاجر تھے اور 1965 کی جنگ میں بہت جانی نقصان اٹھانے کے بعد میر پور آزاد کشمیر میں آکر آباد ہوئے تھے۔رانا فضل حسین، بابائے گوجری مانے جاتے ہیں۔ انہیں تمغہ پاکستان ملا تھا اور ریاست بھر کے علمی حلقوں میں ان کی گوجری زبان کے لئے خدمات کا بہت بڑا مقام اور احترام ہے۔

حاجی صاحب نے تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد، اچانک گوجری زبان میں کہا : "حضرت ہم تھارا کول ضروری کم واسطہ آیا"۔ میری گوجری کی پریکٹس نہیں رہی تھی۔ البتہ میں نے بھی گوجری میں گزارے کا جواب دیا، اور کہا : "تئم حکم کرو، رب بہتر کریہہ گو"۔ یہ گزارے والی گوجری تھی۔ گجر وفد میرے پاس آیا تھا کہ میں ان کی ملاقات صدر پاکستان فضل الہی چوہدری سے کراوں، تاکہ وہ ریڈیو تراڑ کھل سے گوجری زبان میں نشریات کی منظوری لیں۔ صدر پاکستان آٹھویں صدر تھے اور خود بھی گجر تھے۔میں نے ایوان صدر سے ملاقات کے لئے وقت لے لیا اور ملاقات کے دن خود بھی گجر وفد میں شامل ہوا۔ صدر صاحب مجھے اچھی طرح جانتے تھے اور گجر وفد میں شامل دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔میں نے ابتدائی کلمات کہے۔ حاجی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا تعارف کرایا۔ بہت ہی خوشگوار ماحول میں بات ہوئی۔ صدر فضل الہی چوہدری یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ یہ لوگ ریڈیو تراڑ کھل (آزاد کشمیر) سے گوجری زبان میں نشریات شروع کرنا چاہتے ہیں۔حاجی صاحب نے صدر پاکستان کو کہا کہ میں انکا پیر ہوں اور گوجری بولتا ہوں۔ صدر صاحب بولے، کشمیری پیر ہو، اور گوجری نہ بولے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔فضل الہی چوہدری نے اسی وقت حامی بھر لی کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر یہ نشریات شروع کرانے میں، بھرپور تعاون کریں گے۔ اگلے ہی ہفتے گوجری زبان میں نشریات شروع ہوئیں اور پہلی تین آوازیں، حاجی رانا فضل حسین، مجاہد اور غلام حسین کی تھیں۔

1965 کے بعد پہلی بار ہواں کے دوش پر بیٹھ کر ان تینوں کی آواز راجوری پہنچی اور بچھڑے لوگوں کا پہلی بار رابطے کا پل کھڑا ہوا۔ پروگرام کی خوشی اور حمائیت میں، راجوری سے ڈاک کے ذریعے خطوط کا ایک تانتا بندھ گیا۔میرے دفتر حاجی صاحب اور اس کے ساتھیوں نے، گوجری نشریات کی شروعات کی خوشی میں مٹھائی کا ایک ڈبہ لایا۔ میں بھی اس کامیابی پر بہت خوش تھا۔حاجی رانا فضل حسین کی گوجری زبان میں کامیاب نشریات شروع کرنے کے بعد، گوجری زبان میں نشریات پشاور، مظفرآباد، میر پور اور آل انڈیا ریڈیو(آکاش وانی) دہلی سے بھی شروع ہوئیں۔

اس دوران میر رفعت محمود کا رویہ نان گزیٹیڈ سٹاف کے ساتھ بالخصوص خلاف توقع غیر مناسب ہوتا گیا۔ وہ بزرگوں کی عمر کا بھی لحاظ نہیں رکھنے لگے۔ یہاں تک کہ گالم گلوچ تک نوبت آئی۔اس صورتحال پر غور کرنے کے لئے میرے دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی ۔ ریڈ کراس میں اس طرح کی میٹنگ کا پہلے کوئی رواج اور تصور نہیں تھا۔میٹنگ میں طے ہوا کہ میں میر رفعت محمود کو ایک تحریری نوٹ کے ذریعے، اپنی اجتماعی Grievance سے آگاہ کروں گا۔ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی ذمہ داری مجھ پر آن پڑی۔ اگلی صبح میں نے ائیر کموڈور میر رفعت محمود کو formal نوٹ بھیجا ۔ میرا یہ اقدام "آ بیل مجھے مار" کی ابتدا تھی، جس کا مجھے قطعی احساس اور اندازہ نہیں تھا۔

مارشل لا لگنے سے قبل راولپنڈی اسلام آباد میں بھٹو صاحب کی حکومت کے خلاف جلسے جلوس زوروں پر تھے۔ پولیس پکڑ دکڑ میں مصروف تھی۔ میں دفتر سے سرکاری گاڑی میں گھر آرہا تھا کہ پولیس نے روک لیا اور ہدائیت کی کہ گاڑی کو واپس بھیج کر، خود گلیوں میں سے ہوتے ہوئے گھر جائوں۔ گاڑی پر لوگوں کے حملے اور نقصان کا خطرہ تھا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور گاڑی واپس بھیج دی۔ خود گلی کا راستہ پکڑا۔ آنسوں گیس کی شیلنگ سے پورا ماحول متاثر ہوا تھا اور دھواں ہی دھواں تھا۔ایک پولیس اہلکار نے مجھے گیلا کپڑا دیا اور کہا کہ گھر پہنچنے تک اس گیلے کپڑے سے وقفے وقفے کے بعد آنکھیں صاف کرتا رہوں تاکہ آنکھیں آنسوں گیس کے دھویں سے متاثر نہ ہوں۔

گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ میں مشتاق کیفے کے پیچھے کی روڈ پر چٹیاں ہٹیاں میں ، کرائے کے گھر میں سسرال والوں کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کا اپنا گھر سیٹلائیٹ ٹان میں تھا ، جو انہوں نے کرائے پر دیا تھا۔چونکہ مجھے کرائیہ مکان کی entitlement تھی، میں اس مکان کو خالی کر واکر وہاں شفٹ ہونا چاہتا تھا۔ میں جونہی گھر پہنچا، تو ساس نے کہا، پہلے تھانے سے بھابی کے خاوند کو چھڑا کر لے آئیں، اس کے بعد کچھ کھائیں۔ہمارے سامنے ہمسائے میں عبدالرحیم قریشی رہتے تھے۔وہ ریڈیو تراڑ کھل میں سازندے کا کام کرتے تھے۔ ان کے گھر کے باہر عبدالرحیم قریشی ریڈیو تراڑ کھل کی لکڑی کی تختی لگی رہتی تھی۔ ان کی بیگم کو ہم سبھی بھابی کہتے تھے۔ بھابی ایک کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی۔ میری ساس اسے دلاسہ دے رہی تھی کہ گیلانی صاحب جا رہے ہیں اور انشااللہ قریشی صاحب کو تھانے سے لے آئیں گے۔

میں سیدھا تھانہ وارث خان گیا۔ تھانیدار سے سلام دعا ہوئی اور میں نے کہدیا کہ پولیس ہمارے ہمسائے عبدالرحیم قریشی کو پکڑ کر لے آئی ہے۔ میں اس کی شخصی ضمانت دینے کے لئے آیا ہوں۔ تھانیدار اور عملے کے لوگ مجھے جانتے تھے۔ تھانیدار نے اپنے روایتی انداز میں پولیس والے کو کہا " جا رحیم قریشی کو لے آ"۔ تھوڑی دیر بعد پولیس والا واپس آیا اور کہنے لگا، کہ تھانہ میں بند لوگوں میں کوئی رحیم قریشی نہیں۔ میں نے اسے کہا کہ پولیس آج دوپہر کو اسے پکڑ کر لے آئی ہے۔ وہ اسی تھانے میں بند ہے۔تھانیدار نے پولیس والے کو دوبارہ چیک کرنے کے لئے بھیجا۔ کچھ دیر بعد وہ پھر اکیلا لوٹا اور کہنے لگا، ہمارے پاس کوئی رحیم قریشی نہیں۔ تھانیدار میری طرف اور میں تھانیدار کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھنے لگے۔ میں نے تھانیدار سے کسی حد تک ناراضگی میں کہا، راجہ صاحب یہ واردات میرے ساتھ نہ کریں۔ قریشی ہمارا ہمسائیہ ہے اوراس کی بیوی ہمارے گھر میں بیٹھی ہے۔ وہ یہ سمجھ رہی ہے کہ میں افسر ہوں اور اس کے خاوند کو لے آئوں گا۔ تھانیدار اچھا شریف آدمی تھا۔ کہنے لگا، آپ کا شک روائیتی ہے۔ آپ میرے ساتھ چلیں اور خود سب گرفتار لوگوں کو دیکھ لیں۔ اگر رحیم قریشی ہے، تو ساتھ لے جائیں۔

میں تھانیدار کیساتھ اس کمرے میں گیا جہاں سارے لوگ بند تھے۔ دائیں بائیں دیکھا۔ مجھے رحیم قریشی ایک کونے میں نظر آیا اور میں نے تھانیدار کو اشارے سے دکھایا کہ وہ رحیم قریشی ہے۔تھانیدار نے اپنے "پولسئے" لہجے میں کہا، "اوہ نکل باہر پیر صاحب تجھے لینے آئے ہیں"۔ تھانیدار، میں اور قریشی، تھانیدار کے دفتر میں آئے۔ تھانیدار نے کاغذات چیک کرتے ہوئے رحیم سے پوچھا، تیری قوم کیا ہے۔ رحیم نے جواب دیا، کہ جناب "شیخ" ہوں۔ اوئے کیڑا شیخ چمڑیاں والا شیخ یا رضائیاں والا شیخ۔ رحیم نے کہا "چمڑے" والا شیخ۔تھانیدار کو بہت غصہ آیا اور کہا، اوہ بد بختا تو محلے میں "قریشی" بن کر رہتا ہے۔ تھانیدار نے مجھے سمجھایا کہ پولیس کے کاغذات میں اس نے قوم شیخ لکھوائی تھی اسی لئے اس کی شناخت نہیں ہو رہی تھی۔نام کی تختی کی وجہ ہم اسے عبدالرحیم قریشی ریڈیو تراڑ کھل کے حوالے سے جانتے اور پہچانتے تھے۔ بہر حال پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ لوگ تھانے میں اپنی اصلی قوم اور ذات لکھوا دیتے ہیں۔میں نے تھانیدار کا شکریہ ادا کیا اور رحیم کو لے گھر پہنچا۔ بھابی خاوند کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور میری ساس کا شکریہ ادا کرنے کیبعد اپنے خاوند کے ساتھ چلی گئیں۔ اصل میں رحیم بھابی ہی کی مداخلت سے رہا ہوا تھا۔میں نے سسرال والوں کو رحیم کی قوم کا پورا قصہ سنایا کہ وہ قریشی نہیں شیخ ہے۔ وہ بھی حیران رہ گئے۔

ہجرت اور نقل مکانی کی یہ بھی ایک مہربانی تھی۔ لوگوں نے ذات بدل دی۔ البتہ تھانیدار نے اسے تنبیہ کی کہ اگر اس نے نام کی تختی پولیس ریکارڈ کے مطابق درست نہیں کی، وہ اسے پھر دھوکہ دہی میں گرفتار کر لے گا ۔رحیم قریشی کا ایک بیٹا بھوا قریشی" تھا ۔ 15 یا 16 سال کا تھا۔ ان لوگوں کا ہمارے ہاں آنا جانا بہت تھا۔ وہ اکثر میری گاڑی پر کپڑا مار کر چھوٹی موٹی صفائی کر دیتا تھا۔ہمارا سٹنگ روم دروازے کے ساتھ ہی سڑک کی طرف تھا۔ ٹیبل پر اکثر گھڑی یا کار کی چابی پڑی رہتی تھی۔ ایک دوپہر میں اندر اپنے کمرے میں بیٹھا تھا کہ باہر لوگوں کے شور کی آوازیں آئیں۔ میں جونہی باہر نکلا تو 15 یا 20 کے قریب آدمی جمع ہوگئے اور آہستہ آہستہ تعداد بڑھنے لگ گئی۔ دو تین یک زبان ہو کر بولے کہ آپ کے ڈرائیور نے بوہڑ بازار سے لے کر آئی کلینک تک دو تین گاڑیوں کو ٹکر ماری ہے اور راستے میں دکان کے باہر کچھ ٹین کے ٹرنک بھی توڑے ہیں۔ ہم نے اسے دکان کے سامنے پکڑ کر رکھا ہے اورپہلے آپ کے پاس آئے ہیں۔ آپ کیا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ میرا سرکاری گاڑی کا ڈرائیور ہے۔ اپنی پرائیویٹ گاڑی میں خود چلاتا ہوں۔ اور میری گاڑی کی چابی اندر ٹیبل پر ہے۔اتنے میں لوگ ڈرائیور کو پکڑ کر لے آئے۔ یہ بھابی کا چھوٹا بیٹا بھوا قریشی تھا۔ وہ ٹیبل پر پڑی چابی اٹھا کر لے گیا تھا اور واردات کی تھی۔ہمارے گھر کے سامنے لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر بھابی اور دوسرے ہمسائے بھی باہر نکلے۔

بھابی نے جب اپنا بیٹا لوگوں کے قبضے میں دیکھا اور اسے واردات کا بھی پتہ چل گیا۔ وہ میرے اور میری ساس کے پاں پڑ گئی اور منت سماجت کرنے لگی کہ اس کے بیٹے کو پولیس کے حوالے نہ کریں۔وہ میری ساس کو کہنے لگی کہ اس نے کمیٹی ڈالی ہے وہ نقصان پورا کرے گی یا اپنا زیور بیچ کر نقصان پورا کرے گی۔اب لوگوں کو آہستہ آہستہ حقیقت کا پتہ چلنے لگا۔ اتنی دیر میں اس گلی کے کونے پر ایک آئی کلینک کے مالک ایک شیخ صاحب بھی پہنچ گئے۔ وہ مجھے پہچان گئے۔ ایک ہفتہ قبل میں نے ان کے آئی کلینک کے لئے کچھ مشینری منظور کی تھی۔ یہ مشینری جرمن ریڈ کراس کی طرف سے آئی تھی اور ہم نے بہت سی درخواستوں میں سے شیخ صاحب کے کلینک کو approve کیا تھا۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ہم ایک دوسرے کے قریب ہی رہتے ہیں۔آئی کلینک کے شیخ صاحب کا کافی احترام تھا۔ اس نے تمام لوگوں کو گھر یا اپنی اپنی دکان پر جانے کو کہا۔ اور کہا کہ صرف وہی لوگ موجود رہیں جن کا نقصان ہوا ہے۔ سارے لوگ چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ شیخ صاحب کی گاڑی کو بھی ٹکر لگی ہے۔شیخ صاحب نے ان لوگوں کو میرے بارے میں کہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کار کا چھوٹا موٹا نقصان خود برداشت کریں گے۔ باقی دو نے بھی ہمیں معاف کردیا۔ظاہر ہے کہ میں بھی بھابی کو کیسے کمیٹی لے کر یا زیور بیچ کر نقصان پورا کرنے کے لئے کہہ سکتا تھا۔ وہ بہت بے بس اور مجبور تھی۔ لڑکے کی عمر ہی ایسی تھی۔ لڑکا گھر میں چھپ گیا۔لیکن ان دو واقعات کے درمیان میں اس کے باپ کی تختی "قریشی" سے "شیخ" میں تبدیل ہوچکی تھی۔ محلے اور پولیس کے تقاضے پورے کرنے کے لئے رحیم نے نام کی نئی تختی پر "عبدالرحیم قریشی(شیخ)" لکھا۔ (جاری ہے)
واپس کریں